
بچے پرعقیقہ اور نام رکھنے کے بارے میں شرعی حکم اور مستحب وقت کیا ہے؟
واضح رہے کہ عقیقہ کا مستحب وقت بچے کی پیدائش کا ساتواں دن ہے۔ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے تو چودھویں دن، ورنہ اکیسویں دن عقیقہ کیا جائے، اس کے بعد بھی عقیقہ کرنا مباح ہے، اگر کر لیا جائے تو ادا ہو جائے گا، اگرچہ مستحب وقت کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔ اسی طرح ساتویں روز عقیقہ کے ساتھ ہی بچے کا نام بھی رکھ دینا چاہیے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے، لہٰذا اس کی ولادت کے ساتویں روز اس کی جانب سے ذبح کیا جائے، اس کا حلق کیا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔
نیز بچے کے عقیقہ میں دو بکرے یا بکریاں یا دو بھیڑ، اور بچی کے عقیقہ میں ایک بکری یا بھیڑ ذبح کرنا، یا بڑے جانور (گائے، بیل، اونٹ) میں بچے کے لیے دو حصے اور بچی کے لیے ایک حصہ رکھنا مستحب ہے۔ تاہم اگر بچے کے عقیقہ میں دو بکرے کرنے کی استطاعت نہ ہو تو ایک بکرا بطورِ عقیقہ ذبح کرنا بھی کافی ہے۔ البتہ ایک چھوٹے جانور (بکرا، دنبہ وغیرہ) میں اور بڑے جانور (گائے، بیل، اونٹ) کے ایک حصے میں ایک سے زائد عقیقہ نہیں ہو سکتا۔
بلوغ المرام من أدلة الأحكام للعسقلانی میں ہے:
"1373 - وعن سمرة - رضي الله عنه - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: كل غلام مرتهن بعقيقته، تذبح عنه يوم سابعه، ويحلق، ويسمى. رواه الخمسة، و صحّحه الترمذي."
( كتاب الاطعمة، باب العقيقة، ج: 1، ص: 416، ط: دار الفلق - الرياض)
فيض الباری شرح صحيح البخاری میں ہے :
"ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلتُ: بل يجوز إلى أن يموت، لما رأيت في بعض الروايات أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم عق عن نفسه بنفسه. والسر في العقيقة أنَّ الله أعطاكم نفسًا، فقربوا له أنتم أيضًا بنفس، وهو السر في الأضحية. ولذا اشترطت سلامة الأعضاء في الموضعين، غير أن الأضحية سنوية، وتلك عُمْرية."
(كتاب العقيقة، ج: 5، ص: 648، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضةً أو ذهباً، ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعاً على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئاً أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنةً مؤكدةً شاتان عن الغلام، وشاةً عن الجارية، غرر الأفكار ملخصاً،
(کتاب الأضحیة، ج: 6، ص: 336، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100937
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن