بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الاول 1448ھ 08 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حدیث " الجنة تحت أقدام الأمهات" کی تحقیق وتفصیل


سوال

روایت میں آیا ہے کہ ’’ماں کے قدموں تلے جنت ہے‘‘ تو یہ حدیث صحاح ستہ میں سے کونسی کتاب میں آئی ہے؟  اور کونسے امام سے یہ روایت ہے؟ نیر اس حدیث کے متعلق شرعی راہنمائی فرما دیں۔

 

جواب

مذکورہ روایت کے الفاظ  یوں مروی ہیں :"  الجنة تحت أقدام الأمهات":

یہ حدیث دو طُرق سے مروی ہے:

1۔پہلے طریق میں راوی ’’موسي بن محمد بن عطاء‘‘ نہایت ضعیف ہے  ،ابن حبان ؒ نے فرمایا ہے کہ وہ ’’واضع الحدیث ‘‘ ہے، اور اس سے  روایت لینا صحیح نہیں ، اور بعض دوسرے حضرات نے بھی ان پر جرح کی ہے ۔

’’الکامل فی الضعفاء‘‘ لابن عدی ؒ میں ہے : 

" موسى بن مُحمد بن عطاء، أَبو طاهر المقدسي:منكر الحديث، ويَسرِق الحديث.

أخبرنا عُمر بن سنان، حَدثنا عباس بن الوليد الخلال، حَدثنا موسى بن مُحمد بن عطاء، حَدثنا أَبو المليح، عن ميمون بن مهران، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم: الجنة تحت أقدام الأمهات، من شئن أدخلن، ومن شئن أخرجن.

قال الشيخ: وهذا حديث أيضا منكر."

یعني  ’’ موسیٰ بن محمد بن عطاء‘‘ ایک ایسا راوی ہے جس پر سخت جرح کی گئی ہے؛ اسے ’’منکر الحدیث‘‘  کہا گیاہے، اور حدیث چوری کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے، اسی وجہ سے مذکورہ مروی  حدیث کو بھی منکر قرار دیا گیا ہے۔

(الكامل في الضعفاء، (9/ 547) رقم الترجمة (1835) رقم الحديث (16090)، ط/ مكتبة الرشد - الرياض)

’’لسان المیزان‘‘ لابن حجر ؒ میں ہے : 

 " كذبه أبو زرعة وأبو حاتم.وقال النسائي: ليس بثقة.وقال الدارقطني، وغيره: متروك.وقال ابن حبان: لا تحل الرواية عنه كان يضع الحديث. "

(لسان الميزان، (8/ 216) رقم الترجمة (8030)، ط/ دار البشائر الإسلامية)

خلاصہ یہ ہے کہ اس راوی پر محدثین ؒنے انتہائی سخت جرح فرمائي ہے؛ اسے کذاب، غیر ثقہ، متروک اور وضّاع (حدیث گھڑنے والا) قرار دیا گیا ہے، لہٰذا اس کی روایت قابلِ حجت نہیں۔

2۔ دوسرے طریق میں دو مجہول راوی ہیں۔

’’المقاصد الحسنۃ‘‘ للسخاوی ؒ میں ہے :

" وفي الباب ما أخرجه الخطيب في جامعه، والقضاعي في مسنده، من حديث منصور بن المهاجر البزوري. عن أبي النضر الأبار عن أنس رفعه: الجنة تحت أقدام الأمهات، قال ابن طاهر: ومنصور وأبو النضر لا يعرفان، والحديث منكر، وذكره أيضا من حديث ابن عباس وضعفه. " 

يعني اس باب میں ایک روایت وہ بھی ہے جسے خطیب ؒ نے اپنی ’’جامع‘‘ میں اور قضاعی ؒ نے اپنی ’’مسند ‘‘میں منصور بن المہاجر البزوری کے طریق سے، أبو النضر الأبار سے، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الجنة تحت أقدام الأمهات»  جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔

ابن طاہر ؒنے فرمایا کہ: ’’منصور بن المہاجر‘‘ اور ’’أبو النضر ’’دونوں مجہول ہیں (ان کا کوئی معتبر تعارف و توثیق معلوم نہیں)، اور یہ حدیث منکر ہے۔

(المقاصد الحسنة، (ص: 287) برقم (373 )، ط/ دار الكتاب العربي، بيروت)

(كشف الخفاء (1/ 335) برقم (1078)، ط/  مكتبة القدسي،  القاهرة)

مذكور روايت  کا معنوی طور پر ثابت ہونا :

 اگرچہ مذکورہ الفاظ اپنی اس سند کے ساتھ ثابت نہیں، تاہم اس روایت کا مفہوم دیگر احادیثِ مبارکہ سے مؤید ہے اور صحیح احادیث میں اس مضمون کی اصل موجود ہے،چنانچہ اس سلسلے میں مسند احمد، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ کی روایات ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

’’مسند احمد ‘‘ میں ہے : 

" عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَدْتُ الْغَزْوَ وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ. فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟» قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ: «الْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا»، ثُمَّ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى كَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ."

(مسند أحمد، (24/ 299) برقم (15538)، ط/ مؤسسة الرسالة)

’’سنن نسائی ‘‘ میں ہے : 

" عن معاوية بن جاهمة السلمي، أن جاهمة جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، أردت أن أغزو وقد جئت أستشيرك، فقال: «هل لك من أم؟» قال: نعم، قال: «فالزمها، فإن الجنة تحت رجليها». "

(سنن النسائي، (6/ 11) برقم (3104)، ط/ مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب)

’’سنن ابن ماجہ‘‘ میں ہے:

" عن معاوية بن جاهمة السلمي قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، إني كنت أردت الجهاد معك أبتغي بذلك وجه الله والدار الآخرة، قال: «ويحك، أحية أمك؟» قلت: نعم، قال: «ارجع فبرها» ثم أتيته من الجانب الآخر، فقلت: يا رسول الله، إني كنت أردت الجهاد معك، أبتغي بذلك وجه الله والدار الآخرة، قال: «ويحك، أحية أمك؟» قلت: نعم، يا رسول الله، قال: «فارجع إليها فبرها» ثم أتيته من أمامه، فقلت: يا رسول الله، إني كنت أردت الجهاد معك، أبتغي بذلك وجه الله والدار الآخرة، قال: «ويحك، أحية أمك؟» قلت: نعم، يا رسول الله، قال: «ويحك، الزم رجلها، فثم الجنة»."

(سنن ابن ماجه، (2/ 929) برقم (2781)، ط/ دار إحياء الكتب العربية)

امام حاكم ؒ نے مذکورہ روایت کی تصحیح فرمائی ہے ، جس پر علامہ ذہبی ؒ نے ان کی موافقت بھی فرمائی ہے ۔

’’المستدرک‘‘ للحاکم ؒ میں ہے : 

" عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ، أَنَّ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فَجِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ. قَالَ: «أَلَكَ وَالِدَةٌ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اذْهَبْ فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "[التعليق - من تلخيص الذهبي] صحيح. " 

(المستدرك، (2/ 114) برقم (2502 )، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)

حدیث کا معني  ومفهوم:

اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ ماؤں کی خدمت کی جائے، ان کا ادب و احترام کیا جائے اور ان کے ساتھ عاجزی و انکساری سے پیش آیا جائے۔

’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ لعلي القاری ؒؒ میں ہے : 

 " (فالزمها) أي: التزم خدمتها ومراعاة أمرها فإن الجنة) أي: وإن ورد: أنها تحت ظلال السيوف على ما رواه الحاكم عن أبي موسى، فهي حاصلة (عند رجلها) لكونها سببا لحصولها على ما ورد من رواية الخطيب في البديع، عن أنس أيضا: " «الجنة تحت أقدام الأمهات» ". قال الطيبي قوله: عند رجلها كناية عن غاية الخضوع، ونهاية التذلل كما في قوله تعالى: {واخفض لهما جناح الذل من الرحمة}، ولعله - صلى الله عليه وسلم - عرف من حاله وحال أمه ; حيث ألزمه خدمتها، ولزومها أن ذلك أولى به. (رواه أحمد، والنسائي، والبيهقي في شعب الإيمان) . قال المنذري: رواه ابن ماجه والنسائي، واللفظ له. والحاكم وقال: صحيح الإسناد. ورواه الطبراني بإسناد جيد. "

(مرقاة المفاتيح، (7/ 3096 و3097)، ط/ دار الفكر، بيروت)

فقط والله  اعلم

 
 
 


فتویٰ نمبر : 144802100754

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں