
ہمارے والد کی عمر 80 سال ہے ، جو صاحب فراش ہیں، ان کی ملکیت میں تجارت کا سامان ، مکان اور ایک دوکان ہے، والد نے دوکان بیٹے کو وکیل بنا کر اس کے ذریعے خریدی، رقم والد صاحب نے ادا کی ہے۔گھر کے تمام تصرفات کا اختیار بڑے بھائی کے ہاتھ میں ہے۔
1۔ اب گھر کے معاملات خراب ہیں ، جھگڑے کا اندیشہ ہے، لہذا والد کی ملکیت کی چیزیں ان کی زندگی میں تمام ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوں گی؟
2۔ اگر کچھ مال والد کی زندگی میں تقسیم نہ کیا جاۓتو والد کے انتقال کے بعد اس کی تقسیم کس طرح ہو گی؟
ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ، اور والدہ بھی حیات ہیں۔
وضاحت:
والد کی ذہنی کیفیت درست ہے، تمام معاملات کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔
1۔ صورت مسئولہ میں سائل کے والد جب تک زندہ ہیں ، اپنی تمام جائیداد ، مال و متاع کے تن تنہا خود مالک ہیں، ان کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا کوئی حق و حصہ نہیں ہے، اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہے، البتہ سائل کے والد اگر واقعۃً اپنے مکمل ہوش و حواس میں ہوں، ذہنی طور پر معذور نہ ہوں، اور اپنی خوشی اور رضامندی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں،اور زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ والد اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لیں؛ تاکہ بوقت ضرورت کام آۓ، اورجتنا اپنی بیوی کو دینا چاہیں دے دیں، اس کے بعد باقی ماندہ مال اپنے تمام بیٹوں اور بیٹیوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کر دیں، بلاوجہ نہ کمی پیشی کرے اور نہ ہی کسی کو محروم کرے، ورنہ گناہ ہوگا، اور ایسی تقسیم شرعاً غیر منصفانہ ہوگی۔
البتہ اگر کسی کی دینداری ، خدمت اور اطاعت کی وجہ سے یا کسی اور معقول وجہ کی بناء پر دوسروں کی بہ نسبت اسے کچھ زیادہ دینا چاہے تو دے سکتے ہیں۔
نیز والد اولاد میں سے جس کسی کو جو کچھ دیں گے اس پر مکمل مالکانہ اختیارات کے ساتھ قبضہ یعنی ان کے حوالہ کردینا ضروری ہوگاتاکہ ہبہ مکمل ہوجائے۔
2۔ انتقال کے وقت جو ورثاء زندہ ہوں گے، تو اس صورت میں اُن کے شرعی حصوں کے اعتبار سے وراثت تقسیم کی جائے گی،ابھی تقسیم قبل از وقت ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
" وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى { إن الله يأمر بالعدل والإحسان )
[النحل: 90] ... وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في النسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا ... "
(كتاب الهبة، فصل في حكم الهبة ، ج 6، ص: 127، ط: رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے :
" وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم. "
كتاب الهبة، ج: 5، ص: 696، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802100721
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن