بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کا استعمال کیسا ہے؟


سوال

انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کا استعمال کیسا ہے؟

جواب

انسٹاگرام  کے استعمال میں اکثر وبیشتر   جان دار اور نامحرم کی تصاویر سامنے آجاتی ہیں، اور  اس میں مشغولیت سے عام طور پر  قیمتی اوقات کا ضیاع بھی ہوتا ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کو استعمال نہ کیا جائے۔

اسنیپ چیٹ  میں  مندرجہ ذیل خرابیاں ہیں :

1۔ اس میں جان دار کی تصویر سازی اور ویڈیو سازی ہوتی ہے، جو شرعاً حرام ہے۔2۔اس میں عورتیں بے ہودہ ویڈیو بناکر پھیلاتی ہیں۔3۔ نامحرم کو دیکھنے کا گناہ۔4۔اس میں  میوزک اور گانے کا عام استعمال ہے۔5۔ مرد وزن ناچ گانے پر مشتمل ویڈیو بناتے ہیں۔

یہ سب شرعاً ناجائز امور ہیں، اور اس ایپ کو استعمال کرنے والا لامحالہ ان گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہے، لہذا اس ایپلی کیشن کا استعمال جائز نہیں ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

 "عن عبد اللہ بن مسعود: إن أشد الناس عذاباً یوم القیامة المصوّرون."

(كتاب اللباس والزينة، باب لا تدخل الملائكة، ج،6 ص:161، ط:تركية)

البحر الرائق  میں ہے:

"في المعراج: الملاهي نوعان: محرم وهو الآلات المطربة من غير الغناء كالمزمار سواء كان من عود أو قصب كالشبابة أو غيره كالعود والطنبور لما روى أبو أمامة أنه عليه الصلاة والسلام قال «إن الله بعثني رحمة للعالمين وأمرني بمحق المعازف والمزامير» ولأنه مطرب مصد عن ذكر الله تعالى".

(كتاب الشهادات، باب من تقبل شهادته ومن لا تقبل،ج: 7، ص: 88، ط:دارالفكر)

فتاوی شامی میں ہے :

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و مايكره فيها، ج:1، ص:647، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802100684

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں