بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

غیبت سے توبہ اور اس کی تلافی کا شرعی طریقہ


سوال

 میں مدرسے میں پڑھتا تھا، اُس زمانے میں ایک ساتھی کی برائی دوسرے ساتھیوں کے سامنے کر دی تھی، اُس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ گناہ ہے۔ اب اس کی تلافی کیا ہے؟ میں ہر وقت اسی سوچ میں رہتا ہوں کہ کہیں میں گناہ گار تو نہیں؟

 

جواب

 واضح رہے کہ کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کا ایسا تذکرہ کرنا جو اسے ناگوار لگے غیبت کہلاتا ہے، اور مسلمان کی غیبت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے مسلمان کی عزت پر حرف گیری کرنے کو بدترین سود قرار دیا ہے، نیز غیبت کو زنا سے بھی بدتر فرمایا گیا ہے؛ اس گناہ کی بہت سی وعیدیں احادیثِ مبارکہ میں موجود ہیں، اور عقلی طور پر بھی کسی کی برائی و بدخواہی اور اس کی تحقیر جائز نہیں، اور غیبت میں یہ سب برائیاں پائی جاتی ہیں۔

اس کی تلافی کی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنے کے ساتھ، اگر جس کی غیبت کی ہے اُس کے علم میں یہ بات آ چکی ہو تو اُس بندے سے معافی مانگ لی جائے؛ کیوں کہ اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اُسے پورا معاملہ بتایا جائے، بس عمومی انداز میں کہہ دیا جائے کہ اگر کبھی آپ کی حق تلفی ہوئی ہو تو معاف کر دیں، یا کوئی اور انداز اختیار کر لیا جائے؛ غرض دنیا ہی میں اس سے معاف کرالیا جائے۔ اگر اس کا ملنا مشکل ہو تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے ساتھ اس کے حق میں کثرت سے استغفار کیا جائے اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کی جائے۔ البتہ جن لوگوں کی غیبت کی ہے اگر انہیں اس کا علم ہی نہ ہو تو ان سے معافی مانگنا شرعاً واجب نہیں، صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنا اور ان کے لیے دعا و استغفار کرنا کافی ہو گا۔

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من كفارة الغيبة أن تستغفر لمن اغتبته تقول: اللهم اغفر لنا وله. رواه البيهقي في الدعوات الكبير."

(كتاب الآداب، باب حفظ اللسان، ج:2، ص:253، رقم:4877، ط: البشریٰ)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفيها: الغيبة أن تصف أخاك حال كونه غائباً بوصف يكرهه إذا سمعه. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال عليه الصلاة والسلام: «أتدرون ما الغيبة؟ قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: ذكرك أخاك بما يكره، قيل: أفرأيت إن كان في أخي ما أقول؟ قال: إن كان فيه ما تقول اغتبته، وإن لم يكن فيه فقد بهته». وإذا لم تبلغه يكفيه الندم وإلا شرط بيان كل ما اغتابه به."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:410، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:

"قال بعض العلماء: إذا تاب المغتاب قبل وصولها تنفعه توبته بلا استحلال من صاحبه... ورأيت في فتاوى الطحاوي أنه يكفي الندم والاستغفار في الغيبة، وإن بلغت المغتاب ولا اعتبار بتحليل الورثة."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:410، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100669

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں