
میرے والد صاحب کے انتقال کو چار مہینے ہوگئے ہیں اورڈیڑھ مہینے بعد بھائی نے یہ وصیت نامہ” واٹس ایپ “پرتمام بہنوں کو بھیجا اور کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ پاپا نے یہ وصیت کب لکھی ہے اور یہ وصیت کسی کے حوالے نہیں کی گئی، بلکہ وہ اسٹو رروم کے رجسٹر کے اندر سے نکلی ہے۔
والد صاحب کی عادت یہ تھی کہ وہ اکثر وصیت لکھا کرتے تھے ،پھر اس کو پھاڑ لیتے تھے۔
والد صاحب کی ذاتی الماری لا کر ز تھے ۔پھر یہ اسٹور روم سے کیوں نکلی ؟
اب سوال یہ ہے کہ شرعاً یہ وصیت معتبر ہے یا نہیں ہے؟اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو کوئی گناہ تو نہیں ہو گا؟
وضاحت:اس وصیت کا کوئی گواہ بھی نہیں ہے اور یہ اسٹام پیپر پر بھی نہیں لکھی ہوئی،نیز اس وصیت پر والد صاحب کے دستخط وغیرہ بھی نہیں ہیں ،البتہ خوشخطی والد صاحب کی ہی ہے۔
واضح رہے کہ کسی تحریر کو محض اس کے ”خط“ کی بنیاد پر حتمی وصیت قرار دے کر ورثاء پر اس کی تعمیل لازم نہیں کی جا سکتی، جب تک کہ اس پر شرعی گواہ موجود نہ ہوں ۔
وصیت کے مستند ہونے کے لیے اس پر گواہ بنانا یا گواہوں کے سامنے اس کا اقرار کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی وصیت خود لکھے تو استحسان کے طور پر اسے تب جائز قرار دیا گیا ہے جب وہ گواہوں سے کہے کہ ”جو اس کتاب میں ہے اس پر گواہ رہو“
صورتِ مسئولہ میں چونکہ اس وصیت نامے پر گواہ نہیں ہیں؛ اس لیے یہ وصیت ”معتبر“ نہیں ہے اور ورثاء پر اس کی تعمیل شرعاً لازم نہیں ہے۔
اگر تمام ورثاء (بہن بھائی) اپنی خوشی سے اس پر عمل کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، لیکن کسی ایک وارث کی مخالفت کی صورت میں اسے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
اس پر عمل نہ کرنے سے سائل کو کوئی گناہ نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ شرعی طور پر ثابت شدہ وصیت نہیں ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وإذا أشهد الرجل قوما على وصية ولم يقرأها عليهم ولم يكتبها بين أيديهم وفيها إعتاق وإقرار بدين ووصايا فإن الإشهاد لا يصح، كذا في المحيط والله أعلم."
(كتاب الوصايا، الباب العاشر في الشهادة، ج:6، ص:159، ط:دارا فكر)
فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:
"ومما يتصل بهذا النوع
وفي الذخيرة: إذا كتب إنى أوصيت إلى فلان، أو كتب أني (جعلت فلاناً) وصياً لأولادى، ولم يقل بلسانه (شيئاً، هل) يصير ذلك الرجل وصياً؟ ينظر إن كان المكتوب على رسم الكتابة، بأن كان مكتوباً في الكتاب: أما بعد فإني أوصيت إلى فلان أن يكون في توصية تامة مع أشياء آخر، يكون وصياً أما إذا كان على قطعة قرطاس لا يكون كما في الطلاق ونحوه. وإذا قال له: أنت وكيلي في جيمع ماتركت (بعد موتى) جعلته وصياً له!"
(کتاب الوصایا، فصل: الإیصاء من جهة الأب، ج:20، ص:85، ط:مكتب النشر والتوزيع)
وفيه أيضاً:
"الفصل العشرونفي الشهادة على الوصية و الرجوع عنها ويدخل فيه الشهادة على العتق فى المرض الذي هو في معنى الوصية:
۳۲۲۲۳ : قال محمد رحمه الله تجوز شهادة رجل وامراتين على الوصية وعلى الموصى له وكذا تجوز الشهادة على الشهادة عليها، وإذا اشهد الرجل قوماً على وصية ولم يقرها عليهم ولم يكتبها بين أيديهم وفيها عتاق و إقرار بدين ووصايا فإن الإشهاد لا يصح سواء كانت مختومة، أو غير مختومة وأبو يوسف رحمه الله فرق بين هذا وبين القاضي، إذا كتب كتاباً إلى قاض آخر و أشهد شاهدين أنه كتابه وختمه ولم يعلم الشاهد ما في الكتاب صح الإشهاد عند أبي يوسف رحمه الله حتى لو شهدوا عند القاضي المكتوب إليه أن هذا الكتاب، كتاب القاضي فلان وختمه فإنه تقبل هذه الشهادة استحساناً."
(كتاب الوصايا، الفصل العشرون في الشهادة علي الوصية، ج:19، ص:480، ط:مكتب النشر والتوزيع)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان.
ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية حتى لو أوصى لأخيه وهو وارث ثم ولد له ابن صحت الوصية للأخ، ولو أوصى لأخيه وله ابن ثم مات الابن قبل موت الموصي بطلت الوصية للأخ، كذا في التبيين.
وكل ما جاز بإجازة الوارث فإنه يملكه المجاز له من قبل الموصي عندنا حتى يتم بغير قبض، ولا يمنع الشيوع صحة الإجازة وليس للوارث أن يرجع فيه، كذا في الكافي."
(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصايا، ج:6، ص:90، ط:دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100645
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن