
ہمارے علاقے میں عام رواج ہے کہ والدین کے انتقال کے بعد بھائی ساری زمین اور مکان آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور بہنوں کو کچھ نہیں دیتے۔ سوال یہ ہے کہ بہنوں کو میراث سے محروم کرنا گناہِ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟ اور جو بھائی بہنوں کو حصہ نہیں دیتے، کیا ان کا سارا مال حرام ہوجاتا ہے؟
واضح رہے کہ والدین کے ترکہ میں نرینہ اولاد کی طرح بیٹیوں کا بھی شرعی حق و حصہ ہوتا ہے؛ والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ پر بیٹوں کا قبضہ کرلینا اور بہنوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔ بہنوں کو ان کا حق اور حصہ اسی دنیا میں دینا لازم اور ضروری ہے، ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا؛ احادیثِ مبارکہ میں اس بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ بہنوں کو میراث سے محروم کرنا یا ان کے حق سے کم دینا ظلم اور ناجائز ہے۔
جو بھائی اپنی بہنوں کے حصے پر قابض ہوکر ان کا مال کھاتے ہیں، ان کے لیے متروکہ جائیداد یا اس کے منافع میں سے اپنے حصے سے زائد لینا حرام ہے؛ البتہ اگر وہ کوئی کاروبار کریں اور اس میں متروکہ جائیداد کی رقم نہ لگائیں تو اس کاروبار کی آمدنی حلال ہوگی، صرف بہنوں کو حصہ نہ دینے کی وجہ سے ان کا سارا مال حرام نہیں ہوگا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."
(باب الغصب والعارية، ج:1، ص:254، ط: قدیمی)
ترجمہ: ”جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی۔“
وفیہ ایضاً:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة، رواه ابن ماجه."
(باب الوصايا، الفصل الثالث، ج:1، ص:266، ط: قدیمی)
ترجمہ: ”جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا (یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔“
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"وقيل: الكبيرة ما أوعد عليه الشارع بخصوصه، وقيل: ما عين له حد، وقيل: النسبة إضافية، فقد يكون الذنب كبيرة بالنسبة لما دونه، صغيرة بالنسبة إلى ما فوقه."
(كتاب الإيمان، باب الكبائر وعلامات النفاق، ج:1، ص:121، ط: دار الفكر)
تکملۃ رد المحتار میں ہے:
"الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط."
(كتاب الدعوى، ج:7، ص:505، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100623
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن