
ہمارے علاقے میں بعض لوگ ایک بڑے جانور کی قربانی میں دس افراد کو شریک کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حدیث میں دس حصوں کا ذکر آیا ہے۔ براہِ کرم دلائل کے ساتھ واضح فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں فقہائے احناف کے نزدیک بڑے جانور کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہوسکتے ہیں، اس سے زائد افراد قربانی کی غرض سے شریک نہیں ہوسکتے؛ اگر سات سے زائد کسی فرد کو شریک کیا گیا تو شرکاء میں سے کسی کی بھی قربانی صحیح نہیں ہوگی۔ نیز جن روایات میں دس حصے ذکر کیے گئے ہیں وہ مختلف فیہ ہیں، جمہور علماء کا جواب یہ ہے کہ یہ حکم پہلے تھا، بعد میں منسوخ ہوچکا ہے، جب کہ سات افراد کی شرکت کا صحیح ہونا متفق علیہ ہے، لہٰذا متفق علیہ قول پر عمل کرنا زیادہ احتیاط پر مبنی ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: البقرة عن سبعة والجزور عن سبعة."
(كتاب الصلاة، باب في الأضحية، الفصل الأول، ج:1، ص:130، ط: رحمانيه)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنهم من فصل بين البعير والبقرة فقال: البقرة لا تجوز عن أكثر من سبعة، فأما البعير فإنه يجوز عن عشرة... (ولنا) أن الأخبار إذا اختلفت في الظاهر يجب الأخذ بالاحتياط وذلك فيما قلنا؛ لأن جوازه عن سبعة ثابت بالاتفاق وفي الزيادة اختلاف فكان الأخذ بالمتفق عليه أخذاً بالمتيقن."
(كتاب التضحية، ج:5، ص:70-71، ط: سعيد)
حاشیہ ابن ماجہ میں ہے:
"وقال الجمهور: إنه منسوخ بالحديث الآتي عن جابر قال: نحرنا بالحديبية مع النبي صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة... وبالجملة العمل على حديث جابر أولى وأحوط."
(ص:226، ط: قدیمی)
المغني لابن قدامة میں ہے:
"(وتجزئ البدنة عن سبعة، وكذلك البقرة) وهذا قول أكثر أهل العلم... ولنا ما روى جابر، قال: نحرنا بالحديبية مع النبي صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة، والبقرة عن سبعة... وهذان أصح من حديثهم."
(كتاب الأضاحي، ج:9، ص:437-438، ط: مكتبة القاهرة)
موطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني میں ہے:
"عن جابر بن عبد الله، قال: نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحديبية البدنة عن سبعة، والبقرة عن سبعة، قال محمد: وبهذا نأخذ... وهو قول أبي حنيفة، والعامة من فقهائنا رحمهم الله."
(كتاب الضحايا، ص:217، ط: المكتبة العلمية)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(وفي البعير عشرة) قال المظهر: عمل به إسحاق بن راهويه، وقال غيره: إنه منسوخ مما مر من قوله: البقرة عن سبعة، والجزور عن سبعة."
(كتاب الصلاة، باب في الأضحية، ج:3، ص:518، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100527
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن