
ایک شخص کا انتقال ہوگیا۔ اس کے ترکہ (وراثت) میں ایک گھر ہے جس میں ان کی فیملی رہائش پذیر ہے،جس کی مالیت تقریباً 80 لاکھ روپے ہے،اس کے علاوہ کچھ گاؤں کی زمینیں ہیں جن کی مالیت تقریباً 4لاکھ ہے، اس کےعلاوہ اس کے پاس 17 ہزار روپے تھے۔
میت پر تقریباً 12 لاکھ کا قرضہ ہے، اور ان کےذمہ کچھ نمازیں اور روزے بھی ہیں جوکہ بیماری کی حالت میں چھوٹ گئے تھے۔
مرحوم کے ورثاء میں :بیوہ، دوبیٹے اور تین بیٹیاں ہیں جوکہ سب شادی شدہ ہیں(مرحوم کےوالدین حیات نہیں ہیں)۔
اب سوال یہ ہے کہ:
مذکورہ ورثاء میں مرحوم کا ترکہ کس حساب سے تقسیم ہوگا؟اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ (اگر اب تک اد انہ کیا گیا ہو،یاکسی نے بطور قرض ادا کیا ہو) نکالنے کے بعد، مرحوم کےذمہ اگر کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد، اگرمرحوم نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی حصے میں سے پورا کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ ( منقولہ و غیر منقولہ) کو8حصوں میں تقسیم کر کے1حصہ مرحوم کی بیوہ کو،2،2 حصے اس کے ہر ایک بیٹے کو، 1،1 حصہ اس کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صور ت تقسیم یہ ہے:
میت(والد):8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 12.5 مرحوم کی بیوہ کو،25فیصد اس کے ہر ایک بیٹے کو،12.5 اس کے ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
نیز صورت مسئولہ میں اگر مرحوم نے روزوں اور نماز کے فدیہ کی وصیت نہیں کی ہےتو پھر ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ مرحوم کی طرف سے فدیہ ادا کریں یا نہ کریں،اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور اپنی رضامندی سے ترکہ سے تقسیم سے قبل ہی پہلے فدیہ ادا کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرسکتے ہیں اور اس پر وہ اجروثواب کے مستحق ہوں گے، بصورت دیگر جو وارث چاہے وہ اپنے ذاتی مال سے یا پھر ترکہ میں سے جو اس کو حصہ ملے گا اس میں سے اپنی صوابدید پر فدیہ ادا کردے،لیکن اگر مرحوم نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی تھی تو پھر ترکہ سے پہلے قرض،اور پھر بقیہ ترکے کے ایک تہائی سے فدیہ ادا کرنا ورثاء پر لازم ہے، اس کے بعد ترکہ تقسیم کیا جائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو فات صوم رمضان بعذر المرض أو السفر واستدام المرض والسفر حتى مات لا قضاء عليه لكنه إن أوصى بأن يطعم عنه صحت وصيته، وإن لم تجب عليه ويطعم عنه من ثلث ماله فإن برئ المريض أو قدم المسافر، وأدرك من الوقت بقدر ما فاته فيلزمه قضاء جميع ما أدرك فإن لم يصم حتى أدركه الموت فعليه أن يوصي بالفدية كذا في البدائع ويطعم عنه وليه لكل يوم مسكينا نصف صاع من بر أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير كذا في الهداية. فإن لم يوص وتبرع عنه الورثة جاز، ولا يلزمهم من غير إيصاء كذا في فتاوى قاضي خان. ولا يصوم عنه الولي كذا في التبيين لزمهما القضاء بقدر الصحة والإقامة، وهذا قولهم جميعا من غير خلاف هذا هو الصحيح كذا في السراج الوهاج."
(کتاب الصوم،الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ج :1، ص:207، دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100494
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن