
میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں دو بیویاں ہیں دونوں حیات ہیں، اور کل تین بیٹےا ور تین بیٹیاں ہیں، والدین کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے،دوسری زوجہ نے تمام جائیداد پر قبضہ کر لیا ہے، ہمیں کچھ نہیں دیا ، برائے کرم ہم سب کا شرعی حصہ بتا دیں!
واضح رہے کہ میراث قرآن کریم کا صریح تاکیدی حکم ہے،جس کی پاس داری ہر مسلمان پر لازم ہے، اور اس کی خلاف ورزی شرعاً ناجائز و حرام، بدترین ظلم اور سخت گناہ ہے،قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں کسی بھی وارث کو اس کے حصۂ میراث سے محروم کرنے والے کے لیے جہنم اور رسوا کن عذاب کی وعید یں آئی ہیں، ا س لیےہر مسلمان پر لازم ہے کہ میراث کے احکام کی پابندی کرے،اور ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ ادا کرے، ورنہ دنیا و آخرت میں بدترین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بنا بریں صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر کے ترکے میں چونکہ تمام شرعی ورثاء کا حق ہے، اس لیے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ ادا کرنا ضروری ہے، اور کسی بھی وارث کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے ورثاء کے حق پر ناحق قبضہ کرے،ورنہ قانونی چارہ جوئی کر کے بھی اپنا شرعی حق وصول کیا جا سکتا ہے۔
باقی مرحوم شوہر کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن، دفن کا خرچہ ( اگر کسی نے بطورِ قرض کیا ہو تو وہ ) نکالنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد ، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 144 حصوں میں تقسیم کر کے 9، 9 حصے ہر ایک بیوہ کو،28، 28 حصے کر کے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 14، 14 حصے کر کے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت : 8 / 144
| بیوہ | بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | ||||||
| 9 | 9 | 28 | 28 | 28 | 14 | 14 | 14 |
یعنی فیصد کے حساب سے 6.25 روپے کر کے الگ الگ ہر ایک بیوہ کو،19.44 روپے کر کے ہر ایک بیٹے کو،9.72 روپے کر کے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
قرآن کریم میں باری تعالیٰ کاارشاد ہے:
"لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا"(النساءآیۃ: 7)
ترجمہ:”مردوں کے لیے بھی حصہ ہے اس چیز میں سے جس کو ماں باپ اور بہت نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جاویں۔ اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس چیز میں سے جس کو ماں باپ اور بہت نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جاویں خواہ وہ چیز قلیل ہو یا کثیر ہو حصہٴ قطعی۔“
دوسرے مقام پر ارشادہے:
"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ"(النساء: 11)
ترجمہ:”اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے باب میں لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصہ کے برابر۔“
اور میراث کے حکم کے بعد فرمایا:
"وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ"[النساء: 14]
ترجمہ:”اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا نہ مانے گا اور بالکل ہی اس کے ضابطوں سے نکل جاوے گا اس کو آگ میں داخل کریں گے اس طور سے کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ایسی سزا ہوگی جس میں ذلت بھی ہے۔“
حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :
"عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة."
(سنن ابن ماجه،کتاب الوصایا،ج:2،ص:902، ط: دار احیاء الکتب العربية)
ترجمہ:”جس نے كسى وارث كى ميراث كاحصہ روکا اللہ تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کاحصہ روکیں گے۔“
ایک اور حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من اقتطع أرضا ظالما، لقي الله وهو عليه غضبان."
(صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،باب وعید من اقتطع حق مسلم بیمین فاجرۃ بالنار ،ج:1،ص:124،ط:دار احیاء التراث العربی)
ترجمہ:”جس نے ظلم کرتے ہوئے زمین روک لی وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالی اس پر غصہ ہوں گے (اور اس سے ناراض ہوں گے )۔“
وفیہ ایضاً:
"عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين»
(کتاب المساقات، باب تحریم الظلم و غصب الأرض وغيرها، ج:3، ص: 1230، ط:دار احیاء التراث العربی)
ترجمہ:”جس کسی نے زمین کی ایک بالشت (بھی)ناحق روک لی ،قیامت کے دن اللہ تعالی اسے سات زمینوں سے اس کاطوق (بناکر)پہنائے گا۔“
مشکاۃ شریف میں ارشادِ پاک منقول ہے
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".
(1/266، باب الوصایا، الفصل الثالث، ط: قدیمی)
”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔“
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100360
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن