بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الاول 1448ھ 30 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ اور بچوں کے درمیان مشترکہ فلیٹ کی تقسیم کا حکم


سوال

ایک فلیٹ ہے جو مرحوم والد کی ملکیت نہیں تھا، کیونکہ والد کا انتقال بچوں کی کم عمری ہی میں ہوگیا تھا۔ مرحوم کے پانچ بچے ہیں، جن میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ والد کے انتقال کے وقت تمام بچے نابالغ تھے۔ ان کی والدہ (بیوہ) نے اپنی محنت و مشقت سے ان کی پرورش کی، تعلیم دلوائی، جبکہ انہیں نہ اپنے میکے کی طرف سے اور نہ ہی اپنے مرحوم شوہر کے خاندان کی طرف سے کسی قسم کا مالی حصہ یا تعاون ملا۔

بعد ازاں، جب بچے بڑے ہوگئے تو بیوہ خاتون اور ان کے پانچوں بچوں نے اپنی مشترکہ محنت اور اپنی اپنی مالی شراکت سے ایک فلیٹ خریدا، جس میں سب کی رقم اور محنت شامل تھی۔ اس فلیٹ میں مرحوم والد کی وراثت کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے۔

اب بیوہ خاتون اپنی زندگی ہی میں اس فلیٹ کی تقسیم شرعی اصولوں کے مطابق اپنی اولاد کے درمیان کرنا چاہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ پہلے وہ اس فلیٹ میں اپنی ملکیت کا حصہ الگ کرکے اپنے پاس رکھیں، پھر باقی حصہ بچوں میں تقسیم کریں۔

واضح رہے کہ بیوہ خاتون حیات ہیں، فلیٹ ان ہی کے نام پر رجسٹرڈ ہے، اور ان کے ورثاء میں دو شادی شدہ بیٹے اور تین شادی شدہ بیٹیاں شامل ہیں۔

لہٰذا رہنمائی فرمائیں کہ ایسی جائیداد، جس میں مرحوم والد کی وراثت شامل نہ ہو بلکہ بیوہ خاتون اور ان کے تمام بچوں کی مشترکہ محنت اور مالی شراکت سے خریدی گئی ہو، اس کی شرعی تقسیم کس طرح کی جائے گی؟ اس معاملے میں سب سے بہتر، محتاط اور معتبر طریقہ کیا ہے؟ نیز   حصوں (Ratio) کی وضاحت بھی فرمادیجیے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں والدہ اور بچوں نے مل کر مشترکہ طور پر جو فلیٹ خریدا ہے، اگر ابتدا ہی سے شرکاء کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ جس نے جتنی رقم شامل کی ہوگی، اسے اسی تناسب سے ملکیت میں حصہ ملے گا، تو اس معاہدے کے مطابق ہی تقسیم کرنا ضروری ہوگا۔

البتہ اگر تمام شرکاء نے برابر رقم خرچ کی ہو، یا رقم برابر خرچ نہ کی ہو لیکن ابتدا سے ان کے درمیان اس بارے میں کوئی معاہدہ نہ ہوا ہو کہ جس نے جتنی رقم دی ہے اسے اتنا ہی حصہ ملے گا، بلکہ سب نے باہمی رضامندی سے  اپنی اپنی رقم جمع کرکے مشترکہ طور پر فلیٹ خریدا ہو، تو ایسی صورت میں یہ فلیٹ تمام شرکاء (والدہ، بیٹوں اور بیٹیوں) کے درمیان برابر برابر حصوں میں تقسیم ہوگا۔خواہ کسی کی محنت اوررقم ( کمائی )زیادہ ہو اور کسی کی محنت اور رقم ( کمائی) کم ہو ۔

چونکہ یہ فلیٹ تمام شرکاء کی مشترکہ ملکیت ہے، اس لیے یہ ترکہ (میراث) نہیں ہے کہ اسے وراثت کے اصول کے مطابق، یعنی بیٹوں کو دوہرا اور بیٹیوں کو ایک حصہ دے کر تقسیم کیا جائے۔ لہٰذا اس فلیٹ کو شرکاء کے درمیان ان کے استحقاق کے مطابق تقسیم کیا جائے، والدہ اپنا حصہ اپنے پاس رکھیں، اور اولاد کے حصے ان کے حوالے کر دیے جائیں۔

فتاوی شامی  میں ہے :

 "وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ ."

(کتاب الشركة ،فصل في الشركة الفاسدة،مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية،ج:4،ص:325،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100303

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں