بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ، غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کی وراثت اور ترکہ کی تقسیم


سوال

"میرے سسر کا انتقال ہوا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ ان کے والدین پہلے ہی انتقال کر چکے ہیں۔ پانچ بیٹیوں میں سے تین شادی شدہ ہیں، ایک کا نکاح ہو چکا تھا لیکن رخصتی سے پہلے طلاق ہو گئی، اور ایک کا ابھی تک نکاح نہیں ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ والد کے ترکہ میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کا حق برابر ہوگا یا ان کے حق میں کوئی فرق ہوگا؟ سسر کا ترکہ مذکورہ ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا؟ نیز یہ بھی واضح کریں کہ جس کی ابھی شادی ہونی ہے اور جس کا نکاح تو ہوا لیکن رخصتی سے پہلے طلاق ہو گئی، کیا ان کا حق برابر ہوگا یا اس میں کوئی فرق ہوگا؟"

جواب

واضح رہے کہ  وراثت کا مدار قرابت (خونی رشتے) اور نسب پر ہے، کسی بیٹی کے شادی شدہ، غیر شادی شدہ یا طلاق یافتہ ہونے سے اس کے شرعی حصے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، قرآنِ مجید میں اولاد کے حصے مطلق بیان کیے گئے ہیں اور شریعت کے اصول کے مطابق عام حکم اپنے عموم پر باقی رہتا ہے۔ لہٰذا مرحوم کی تمام پانچوں بیٹیاں (خواہ شادی شدہ ہوں، غیر شادی شدہ ہوں، یا رخصتی سے قبل طلاق یافتہ ہوں) اپنے والد کی وراثت میں برابر کی حق دار ہیں، ان کے حصوں میں باہم کوئی فرق نہیں ہوگا۔

 ترکہ کی شرعی تقسیم اس طرح ہوگی: مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات، اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی، اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی حصے تک اس پر عمل کرنےکے بعد کل جائیداد اور مال و اسباب کو 120 حصوں میں تقسیم کرکےبیوہ کو  15 حصے، ہر ایک  بیٹا کو  14 حصے، ہرا  یک بیٹی  کو 7 حصےکرکے دیا جائےگا۔ اس کی تفصیل یہ ہے:

میت- 8/ 120

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
15141414141477777

فیصد کے حساب سے:بیوہ  کو کل  ترکے کا %12.5،  ہر ایک بیٹے کو  %11.66 ، ہر بیٹی کو  %5.83 دیا جائےگا۔

قرآن مجید میں ہے:

"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ"(سورة النساء: 11)

ترجمہ : اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے باب میں کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔(بیان القرآن)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت."

(کتاب الفرائض،ج6،ص448،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100241

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں