بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الاول 1448ھ 09 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غصے میں تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہنے کا شرعی حکم


سوال

میرا اپنے ابو کے ساتھ جھگڑا ہو رہا تھا، غصے کی حالت میں میں نے ابو کے سامنے کہہ دیا کہ "میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں"، حالانکہ طلاق دینے کی قطعاً نیت نہیں تھی، غصے میں منہ سے نکل گیا، بیوی اس وقت گھر میں بھی نہیں تھی اور اس نے یہ الفاظ سنے بھی نہیں۔ کیا واقعی طلاق ہو گئی؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق خواہ ڈرانے دھمکانے کے لیے دی جائے یا مذاق میں، بیوی سامنے موجود ہو یا نہ ہو، شوہر کا قصد و ارادہ ہو یا نہ ہو، جب اس نے بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے طلاق کےصریح الفاظ استعمال کیے تو بہر صورت طلاق واقع ہو جاتی ہے؛ طلاق کے وقوع کے لیے بیوی کاطلاق کے الفاظ سننا ضروری نہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے غصے میں ہوش و حواس کی حالت میں مذکورہ الفاظ کہے( جب کہ نکاح کے بعد جو رخصتی ہو چکی ہو) تو بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، نکاح ختم ہو گیا ہے اور بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے، اب رجوع جائز نہیں۔

حدیثِ مبارک میں ہے:

"وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة."

(مشكاة، باب الخلع والطلاق، ج:2، ص:284، ط: قديمي)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغاً عاقلاً سواء كان حراً أو عبداً طائعاً أو مكرهاً، كذا في الجوهرة النيرة."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:353، ط: رشيدية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ويقع طلاق من غضب خلافاً لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:244، ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضاً حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره} [البقرة: 230]، وسواء طلقها ثلاثاً متفرقاً أو جملةً واحدةً."

(كتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100183

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں