
میرے شوہر کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد میں نے دوسری جگہ شادی کرلی۔ میرے پہلے شوہر سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، ان دو بیٹوں میں سے بڑے بیٹے نے شادی کر کے الگ گھر لے لیا، اور علیحدہ ہو گیا، اس کی علیحدگی کو تقریباً 14 سال ہوگئے۔ اب میرے ساتھ چھوٹا بیٹا اور بیٹی ہے۔
اس کے بعد دوسرے شوہر نے مجھے پیسے دیے اور کچھ چھوٹے بیٹے نے دیے، ان سے میں نے ایک ذاتی مکان خریدا، اور بڑے بیٹے نے مجھے ایک روپیہ تک نہیں دیا۔
کچھ عرصہ بعد بڑے بیٹے نے مجھ سے کہا کہ مجھے بائیک لینی ہے مجھے پیسے دو، میں نے اسے خوشی سے سوا دو لاکھ روپے بائیک خریدنے کے لیے دیے، اور اس نے میرے ساتھ یہ ایگریمنٹ بھی کر لیا کہ میرا اس مکان کے ساتھ [یعنی جو میں نے شوہر اور چھوٹے بیٹے کے پیسوں سے خریدا ہے] کوئی تعلق نہیں ہے۔
لیکن اب بڑا بیٹا مطالبہ کر رہا ہے کہ میرا اس مکان میں حق بنتا ہے، لہذا اس کو بیچ کر مجھے میرا حصہ دو، اور ساتھ میں یہ بھی کہتا ہے کہ تم مرجاو، تم زندہ کیوں ہو۔، تم اس مکان سے نکل جاوگی، تو مجھے سکون ملے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا میرے بیٹے کا اس مکان میں حق بنتا ہے یا نہیں؟ جبکہ میں نے یہ اپنے دوسرے شوہر اور اپنے چھوٹے بیٹے کے پیسوں سے خریدا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیٹے کے رویے کے بارے میں سائلہ نے جو کچھ لکھا ہے، واقعی ایسا ہے تو اس بیٹے کا اپنی والدہ کے ساتھ مذکورہ رویہ بہت مذموم اور غیر شرعی ہے،والدہ کو کسی بھی قسم کی تکلیف دینا اولاد کو بہت سی خیر و برکت سے محروم کرنے کا سبب بن سکتا ہے، لہذا مذکورہ بیٹے کو والدہ کو تکلیف دینے کے انجامِ بد کو سامنے رکھ کر اپنے اس رویہ سے باز آنا چاہیے۔
باقی مذکورہ مکان، اگر وہ واقعتاً سائلہ نے اپنے دوسرے شوہر اور چھوٹے بیٹے کے پیسوں سے اپنے لیے خریدا ہے، اور اس میں بڑے بیٹے کی کوئی مالی شرکت نہیں تھی، نیز دوسرے شوہر اور چھوٹے بیٹے نے یہ رقوم سائلہ کو مالکانہ طور پر دی تھی، تو مذکورہ مکان سائلہ کی ملکیت ہے، جب تک سائلہ حیات ہیں اس مکان میں بڑے بیٹے بلکہ کسی بھی اولاد کا کوئی حق نہیں ہے، بیٹے کا مذکورہ گھر میں اپنے حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي بكرة رضي اللّه عنه قال: قال رسول اللّه صلّى اللَّه عليه وسلّم: "كلّ الذنوب يغفر اللّه منها ما شاء إلّا عقوق الوالدين فإِنّه يعجّل لصاحبه في الحياة قبل الممات".
(باب البر والصلۃ، ج: 2، ص: 421، ط: قدیمی)
ترجمہ: رسول کریمﷺ نے فرمایا ؛ شرک کے علاوہ تمام گناہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے جس قدر چاہتا ہے بخش دیتا ہے، مگر والدین کی نافرمانی کے گناہ کو نہیں بخشتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کو موت سے پہلے اس کی زندگی میں جلد ہی سزا دے دیتا ہے۔(مظاہرِ حق )
وفيه ايضا:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه."
(باب الغصب والعاریۃ،الفصل الثانی، ج:2، ص:889، رقم:2946، ط: المکتب الإسلامي بیروت)
ترجمہ:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:خبردار کسی پرظلم و زیادتی نہ کرو، اچھی طرح سنو!کہ کسی دوسرے شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر لیناحلال نہیں ہے۔"
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100181
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن