
ڈھاکہ شہر میں بہت سے لوگ فٹ پاتھ اور سڑک کے کنارے سبزی، پھل اور دیگر چیزوں کے ٹھیلے اور وین گاڑیاں لگا کر بیچتے ہیں، حالانکہ یہ جگہیں سٹی کارپوریشن یعنی سرکار کی ہیں، کیا ان کی کمائی حلال ہے یا حرام؟
دوسری بات یہ کہ ہمارے علاقے میں کچھ بااثر لوگ (لائن مین) فٹ پاتھ اور سرکاری جگہوں پر قبضہ کر کے دکان داروں کو جگہ کرایہ پر دیتے ہیں اور ان سے روزانہ یا ہفتہ وار پیسے وصول کرتے ہیں، کیا یہ پیسے ان کے لیے حلال ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں فٹ پاتھ یا سڑک کے کنارے ٹھیلہ اور وین لگا کر سبزی پھل وغیرہ بیچنے والوں کی آمدنی حلال ہے، کیوں کہ یہ حلال چیز کے عوض میں ہے، سرکاری جگہ پر ٹھیلہ لگانے سے آمدنی حرام نہیں ہوتی، البتہ اگر ٹھیلہ لگانے سے راستہ چلنے والوں کو تکلیف ہو تو وہاں ٹھیلہ لگانا جائز نہیں، اور اگر تکلیف نہ ہو تو ممانعت نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ سرکاری جگہ پر قبضہ کر کے اسے آگے کرایہ پر دینا جائز نہیں اور اس کا کرایہ بھی حلال نہیں، اس لیے کہ کرایہ پر دینے کے لیے جگہ کا مالک ہونا ضروری ہے، اور سرکاری جگہ پر قبضہ کرنے سے کوئی شخص اس کا مالک نہیں بنتا۔
منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک میں ہے:
"(ويباح الجلوس في الطريق للبيع إذا كان واسعاً، لا يتضرر الناس به) أي بجلوسه (ولو كان الطريق ضيقاً: لا يجوز) لأن المسلمين يتضررون بذلك. وقال عليه السلام: "لا ضرر ولا ضرار في الإسلام."
(كتاب الكراهية، فروع، ج:1، ص:428، ط: دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے :
"وطريق العامة ...
وفي القهستاني: ويحل له الانتفاع بها وإن منع عنه، كما في الكرماني، وقال الطحاوي: إنه لو منع عنه لايباح له الإحداث ويأثم بالانتفاع والترك كما في الذخيرة".
(کتاب الدیات، باب ما يحدثه الرجل في الطريق وغيره، ج:6،ص:592،ط:سعید)
المحيط البرهانی میں ہے:
"وسئل أبو القاسم عمن يبيع ويشتري في الطريق قال: إن كان الطريق واسعاً ولا يكون في قعوده ضرر للناس فلا بأس."
(كتاب البيع، الفصل الخامس والعشرون: ج:7، ص: 140، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:61، ط: سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102835
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن