
میں میڈیکل آلات اور سرجیکل سامان سپلائی کا کاروبار کرتا ہوں، سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں مال دیتا ہوں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہسپتال کا کوئی ملازم (جس کی ذمہ داری ہی سامان کی خریداری ہے) مجھے اپنے ہسپتال میں متعارف کرا دیتا ہے، پھر اس کے بدلے مجھ سے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہاں جتنا کاروبار کرو گے، ہر بل میں مجھے حصہ دینا ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ متعارف کرانے پر ایک بار کچھ دے دیا جائے، ہر ڈیل میں حصہ دار بننا درست نہیں۔ شرعی حکم کیا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں ہسپتال کے ملازم کا سائل کو اپنے ہسپتال میں متعارف کرانے پر کمیشن کا مطالبہ کرنا خواہ ہر ڈیل پر ہو یا ایک مرتبہ شرعاًجائز نہیں، کیوں کہ ہسپتال کے ملازم ہونے کی وجہ سے ہسپتال سے متعلق میڈیکل وغیرہ کے آلات کی خریداری اس کے مفوضہ ذمہ داری میں داخل ہے ، اسے اس کام کی ہسپتال سے باقاعدہ تنخواہ دی جاتی ہے لہذا ہسپتال ملازم کا اس پر رقم لینا رشوت میں داخل ہے، اور سائل کے لیے بھی یہ رقم دینا جائز نہیں۔ کیونکہ رشوت لینا دینا دونوں ہی ناجائز ہے۔
مرقاة المفاتیح میں ہے:
"(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه".
(کتاب الأمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهدایاهم، الفصل الثاني،ص:295، ج:7، ط:دارالکتب العلمیة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها أن لا يكون العمل المستأجر له فرضا ولا واجبا على الأجير قبل الإجارة فإن كان فرضا أو واجبا عليه قبل الإجارة لم تصح الإجارة؛ لأن من أتى بعمل يستحق عليه لا يستحق الأجرة كمن قضى دينا عليه."
(كتاب الاجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص:191، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102806
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن