
میں نے اپنی بیوی سے کہا تھا: اگر تم میری مرضی کے بغیر اس گھر سے باہر گئی، تو تمہیں طلاق ہو جائے گی، اور یہ بات ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس کے بعد سے میری بیوی میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اب اگر میں اپنی بیوی سے کہہ دوں کہ میں نے یہ پابندی ختم کر دی ہے، تو اس سے یہ شرط ختم ہو جائے گی؟
اور اگر آئندہ وہ میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلے، تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟
نیز میں نے اپنی بیوی کو میکہ چھوڑا ،تو میری بیوی نے کہا کہ دو دن بعد واپس آؤں گی ،لیکن ابھی تک نہیں آئی،تو کیا میری شرط کی وجہ سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟ جبکہ ان دو دنوں کے لیے میں راضی نہیں تھا؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر کا یہ کہنا کہ ”اگر تم میری مرضی کے بغیر اس گھر سے باہر گئی تو تمہیں طلاق ہوجائے گی“ طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا ہے۔ لہٰذا اگر بیوی آئندہ شوہر کی مرضی کے بغیر اس گھر سے باہر جائے گی تو ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی۔
اگر شوہر بعد میں یہ کہہ دے کہ ”میں نے یہ پابندی ختم کردی ہے، اب میری مرضی یا میری اجازت ہے، آپ گھر سے باہر جاسکتی ہیں“ تو اس سے مذکورہ شرط ختم ہوجائے گی اور سابقہ تعلیق لغو ہوجائے گی؛ لہٰذا اس کے بعد بیوی گھر سے باہر جائے گی تو سابقہ شرط کی خلاف ورزی شمار نہیں ہوگی اور اس کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
نیز موجودہ واقعہ میں اگر بیوی میکے گئی اور وہاں سے دو دن بعد واپس آنے کا کہا، لیکن واپس نہ آئی، تو صرف اس وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی، کیو ں کہ شوہر کی شرط گھر سے بغیر اجازت باہر جانے کے ساتھ متعلق تھی، جب کہ یہاں شوہر خود میکے چھوڑ کے آیاہے،تو صرف واپس آنے میں تاخیر سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(أما تفسيرها شرعا) فاليمين في الشريعة عبارة عن عقد قوي به عزم الحلف على الفعل أو الترك كذا في الكفاية.
وهي نوعان: يمين بالله تعالى، أو صفته، ويمين بغيره، وهي تعليق الجزاء بالشرط كذا في الكافي."
(كتاب الأيمان،الباب الأول في تفسير الأيمان شرعا وركنها وشرطها وحكمها،ج:2ص:51،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."
(كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج:1،ص:420، ط: دار الفكر)
وفيه أيضاً:
"وإذا طلق الرجل إمرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أم لم ترض كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة،ج:1،ص:470،ط:دار الفكر)
وفيه أيضاً:
"ألفاظ الشرط إن وإذا وإذاما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت؛لأنها لاتقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده."
(كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط،الفصل الأول في ألفاظ الشرط، ج:1، ص:415، ط:دارالفكر)
المحيط البرهاني میں ہے:
"والحيلة للزوج في ذلك أن يقول لها: كلّما شئت الخروج فقد أذنت لك، فإن أذن لها بالخروج في كلِّ مرّة ثمَّ نهاها عن الخروج؛ قال محمّد رحمه الله: يُعمل نهيه، وقال أبو يوسف: لا يعمل، وأجمعوا على أنّه لو أذن لها بالخروج مرّة ثمَّ نهاها يعمل نهيه.ولو قال لها: أنتِ طالق إن خرجت من هذه الدّار حتّى آذن لك، فأذن لها بالخروج مرة بينهنّ اليمين، حتّى لو خرجت بعد ذلك بغير إذن لا تطلق؛ لأنَّ كلمة حتّى كلمة غاية، وقد دخلت على ما يقبل التأقيت، فإن اليمين يقبل التأقيت بوقت، ألا ترى أنَّ من قال لامرأته: أنتِ طالق إن خرج فلان من هذه الدّار حتّى الليلة، أو قال: إلى الليلة كانت اليمين مؤقتة. إذا ثبت هذا فنقول: الزوج جعل ليمينه غاية، وهو إذن، فإذا وجد الإذن مرّة فقد وجدت الغاية فتنتهي اليمين فلا تطلق بعد ذلك وإن خرجت بغير إذنه."
(كتاب الطلاق، الفصل السابع عشر: في الأيمان في الطلاق، ج:3، ص: 368، ط:دار الكتب العلمية، بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801102722
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن