
درج ذیل حوالہ ، سند اور تشریح کے ساتھ رہنمائی کیجیے :
حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ : تم میں سے جو شخص فتوی دینے اور مسئلہ بتانے میں زیادہ جلد بازی کرنے والا ہے وہ جہنم میں داخل ہونے میں زیادہ سبقت کرنے والا ہے۔
1۔ روایت’’أَجْرَؤُكُمْ عَلَى الْفُتْيَا، أَجْرَؤُكُمْ عَلَى النَّارِ‘‘کی تحقیق وتفصیل:
’’سنن دارمي‘‘ ميں ہے:
"أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ ﷺ: أَجْرَؤُكُمْ عَلَى الْفُتْيَا، أَجْرَؤُكُمْ عَلَى النَّارِ. "
يعني عبیداللہ بن أبی جعفر ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو فتویٰ دینے میں سب سے جری ہے، وہی سب سے زیادہ جہنم میں جانے کے لئے جرأت کرنے والا ہے۔
)سنن الدارمي، باب الفتيا وما فيه من الشدة، (ص: 132) برقم (162 )، ط: دار البشائر، بيروت)
حكمِ حديث:
عبید اللہ بن ابی جعفر ؒ تک یہ سند صحیح ہے، لیکن عبید اللہ بن ابی جعفر ؒ جن کی وفات 136ھ میں ہوئی، تبع تابعین میں سے ہیں، اور ان کی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے روایت معروف نہیں ہے، لہٰذا ان کی یہ حدیث ’’معضل‘‘ کہلاتی ہے، اور یہ حدیثِ ضعیف کی اقسام میں سے ہے، کیونکہ اس کی سند متصل نہیں ہے۔
’’سیر أعلام النبلاء‘‘ میں ہے:
"عُبَيْدُ اللهِ بنُ أَبِي جَعْفَرٍ المِصْرِيُّ الكِنَانِيُّ مَوْلاَهُم ... وَعَنْهُ: عَمْرُوبنُ مَالِكٍ الشَّرْعَبِيُّ، وَعُمَارَةُ بنُ غَزِيَّةَ، وَسَعِيْدُ بنُ أَبِي أَيُّوْبَ ... وَقَالَ أَبُو سَعِيْدٍ بنُ يُوْنُسَ: تُوُفِّيَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلاَثِيْنَ وَمائَةٍ."
)سير أعلام النبلاء، (6/ 8 و9 و10)، ط: مؤسسة الرسالة)
’’الکفایۃ فی علم الروایۃ ‘‘ میں ہے:
"أما ما رواه تابع التابعي عن النبي صلى الله عليه وسلم فيسمونه : المعضل، وهو أخفض مرتبة من المرسل. "
یعنی تبعِ تابعی جب نبی کریم ﷺ سے براہِ راست روایت نقل کرے تو اسے محدثین کی اصطلاح میں ’’معضل‘‘ کہتے ہیں، اور یہ مرسل سے بھی کم درجے کی روایت ہے۔
)الكفاية، (ص: 21)، ط: المكتبة العلمية، المدينة المنورة(
لہذ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، تاہم اس کا مفہوم درست ہے، چنانچہ جو شخص بغیر تحقیق و تثبت کے اور دلائل میں غور و بحث کیے بغیر فتویٰ دینے کی جلدی کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے آپ کو جہنم میں داخل ہونے کا سبب فراہم کرتا ہے۔
تشریح:
’’فيض القدير‘‘ للمناوی ؒ میں ہے:
"(أجرؤكم على الفتيا) بضم الفاء أي: أقدمكم على إجابة السائل عن حكم شرعي من غير تثبت وتدبر والإفتاء بيان حكم المسألة. قال في الكشاف: الفتوى الجواب في الحادثة اشتقت على طريق الاستعارة من الفتى في السن (أجرؤكم على النار) أقدمكم على دخولها؛ لأن المفتي مبين عن الله خكمه فإذا أفتى على جهل أو بغير ما علمه أو تهاون في تحريره أو استنباطه، فقد تسبب في إدخال نفسه النار لجرأته على المجازفة في أحكام الجبار {الله أذن لكم أم على الله تفترون} قال الزمخشري: كفى بهذه الآية زاجرة زجرا بليغا عن التجوز فيما يسأل من الأحكام وباعثة على وجوب الاحتياط فيها وأن لا يقول أحد في شيء جائز أو غير جائز إلا بعد إتقان وإيقان ومن لم يوقن فليتق الله وليصمت وإلا فهو مفتر على الله تعالى. انتهى. وقال ابن النكدر: المفتي يدخل بين الله وبين خلقه فلينظر كيف يفعل فعليه التوقف والتحرز لعظم الخطر. كان ابن عمر إذا سئل قال: اذهب إلى هذا الأمير الذي تقلد أمر الناس فضعها في عنقه، وقال: يريدون أن يجعلونا جسرا يمرون علينا على جهنم فمن سئل عن فتوى فينبغي أن يصمت عنها ويدفعها إلى من هو أعلم منه بها أو من كلف الفتوى بها وذلك طريقة السلف. وقال ابن مسعود: الذي يفتي عن كل ما يستفتى عنه مجنون. قال الماوردي: فليس لمن تكلف ما لا يحسن غاية ينتهي إليها ولا له حد يقف عنده ومن كان تكلفه غير محدود فأخلق به أن يضل ويضل. وقال الحكماء: من العلم أن لا تتكلم فيما لا تعلم بكلام من يعلم فحسبك خجلا من نفسك وعقلك أن تنطق بما لا تفهم وإذا لم يكن إلى الإحاطة بالعلم من سبيل فلا عار أن تجهل بعضه وإذا لم يكن في جهل بعضه عار فلا تستحي أن تقول لا أعلم فيما لا تعلم، وقال ابن أبي ليلى: أدركت مئة وعشرين صحابيا وكانت المسألة تعرض على أحدهم فيردها إلى الآخر حتى ترجع إلى الأول قال حجة الإسلام فانظر كيف انعكس الحال صار المرهوب منه مطلوبا والمطلوب مرهوبا؟ وبما تقرر علم أنه يحرم على المفتي التساهل وعليه التثبت في جوابه ولو ظاهرا فلا يطلق في محل التفصيل فهو خطأ وإذا سئل عن قائل ما يحتمل وجوها كثيرة فلا يطلق بل يقول إن أراد كذا فكذا وينبغي أن لا يفتي مع وجود شاغل لفكره كالقضاء.(الدارمي) عبد الله بن عبد الرحمن السمرقندي في سنده المشهور له بالترجيح المستحق؛ لأن يسمى بالصحيح. قال الحافظ ابن حجر: مسند الدارمي ليس دون السنن في الرتبة، بل لو ضم إلى الخمسة لكان أولى من ابن ماجه فإنه أمثل منه بكثير (عن عبد الله) بالتصغير (ابن أبي جعفر مرسلا) هو أبو بكر المصري الفقيه أحد الأعلام والأئمة الكبار. "
یعنی «أجرؤكم على الفتيا» میں فتیا کے فاء پر ضمہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص کسی شرعی حکم کے بارے میں سوال کرنے والے کو بغیر پوری طرح تحقیق، غوروفکر اور اطمینان کے جواب دینے میں سب سے زیادہ جلدی کرے،اور افتاء سے مراد کسی مسئلے کا شرعی حکم بیان کرنا ہے۔
امام زمخشری ؒنے ’’الکشاف‘‘ میں لکھا ہے کہ: فتویٰ کسی پیش آنے والے واقعے کا جواب ہوتا ہے، اور یہ لفظ بطورِ استعارہ ’’فتیٰ‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی جوانی کے ہیں۔
«أجرؤكم على النار»یعنی تم میں سے جو شخص فتویٰ دینے میں سب سے زیادہ بے باک ہے، وہ گویا آگ میں داخل ہونے کے معاملے میں بھی سب سے زیادہ بے باک ہے۔ اس لیے کہ مفتی اللہ تعالیٰ کے حکم کو لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، چنانچہ اگر وہ بغیر علم کے فتویٰ دے، یا اپنے علم کے خلاف حکم بیان کرے، یا مسئلے کی تحقیق و تنقیح اور شرعی حکم نکالنے میں سستی کرے تو اس کی یہ بے باکی اسے جہنم میں داخل ہونے کا سبب بن سکتی ہے؛ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ، جو زبردست حاکم ہے، کے احکام میں بے احتیاطی اور جسارت سے کام لیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿اللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ﴾"کیا اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے یا تم اللہ پر بہتان باندھتے ہو؟"
زمخشری ؒکہتے ہیں: یہ آیت شرعی احکام کے بارے میں بے بنیاد اور بے تکلف بات کرنے سے روکنے کے لیے کافی سخت تنبیہ ہے، اور اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ان مسائل میں پوری احتیاط لازم پکڑی جائے،کسی شخص کو کسی چیز کے جائز یا ناجائز ہونے کا حکم پوری طرح تحقیق اور یقین حاصل کیے بغیر نہیں لگانا چاہیے۔ اور جسے یقین نہ ہو، اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور خاموش رہے؛ ورنہ وہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے والا ہوگا۔
ابن منکدر ؒ فرماتے ہیں:مفتی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ بنتا ہے، لہٰذا اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے، پس اتنے بڑے خطرے کی وجہ سے اس کے لیے ضروری ہے کہ فتویٰ دیتے وقت رک کر سوچے اور پوری احتیاط سے کام لے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب کوئی سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے:اس شخص کے پاس جاؤ جس نے لوگوں کے معاملات کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے، اور یہ مسئلہ اس کی گردن میں ڈال دو۔ اور وہ یہ بھی فرماتے تھے:لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں جہنم کے اوپر سے گزرنے کے لیے پل بنا لیں۔
لہٰذا جس شخص سے کسی شرعی مسئلے کا فتویٰ پوچھا جائے، اسے چاہیے کہ اگر وہ اس مسئلے کا اہل نہ ہو تو خاموش رہے، اور مسئلہ اپنے سے زیادہ علم رکھنے والے شخص کے سپرد کر دے، یا اسے اس شخص کی طرف بھیج دے جسے فتویٰ دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، یہی سلف صالحین کا طریقہ تھا۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جو شخص ہر اس مسئلے کا فتویٰ دینے لگے جس کے بارے میں اس سے پوچھا جائے، وہ دیوانہ ہے۔
امام ماوردی ؒ فرماتے ہیں:جو شخص ایسی چیز میں دخل دے جسے وہ اچھی طرح نہیں جانتا، اس کے لیے رکنے کی کوئی آخری حد نہیں ہوتی اور نہ کوئی ایسی منزل ہوتی ہے جہاں وہ خود کو روک لے، اور جب اس کا یہ تکلف اور بے جا جسارت بے حد ہو جائے تو اس کے بارے میں یہی مناسب ہے کہ وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔
اہلِ حکمت نے کہا ہے:علم کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ جس بات کو تم نہیں جانتے، اس میں جاننے والے کی طرح گفتگو نہ کرو۔ اپنے نفس اور اپنی عقل کے لیے اس سے بڑھ کر شرمندگی کی بات کیا ہوگی کہ تم ایسی بات زبان سے نکالو جسے خود سمجھتے ہی نہیں، اور جب تمام علوم کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں تو بعض چیزوں سے ناواقف ہونا کوئی عیب نہیں۔ پھر جب کسی چیز سے ناواقف ہونا عیب نہیں، تو جس چیز کو تم نہیں جانتے اس کے بارے میں"میں نہیں جانتا"کہنے سے بھی شرمانا نہیں چاہیے۔
ابن ابی لیلیٰ ؒ فرماتے ہیں:میں نے ایک سو بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پایا، ان میں سے کسی ایک کے سامنے جب کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تو وہ اسے دوسرے کی طرف لوٹا دیتا، پھر دوسرا تیسرے کی طرف، یہاں تک کہ وہ مسئلہ گھوم پھر کر پہلے شخص ہی کے پاس واپس آجاتا۔
حجۃ الاسلام امام غزالی ؒ فرماتے ہیں:ذرا دیکھو کہ حالات کیسے الٹ گئے ہیں! جو چیز پہلے باعثِ خوف تھی، آج وہی مطلوب بن گئی ہے، اور جو چیز پہلے مطلوب تھی، آج اسی سے خوف کیا جانے لگا ہے۔
اور ان تمام باتوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مفتی کے لیے فتویٰ دینے میں سستی اور بے احتیاطی کرنا حرام ہے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ جواب دینے میں پوری تحقیق اور تثبت سے کام لے۔ اسی طرح جہاں مسئلے میں تفصیل ہو وہاں فوراً مطلق حکم لگا دینا بھی درست نہیں، بلکہ یہ غلطی ہوگی، اور اگر کسی شخص کی بات ایسی ہو جس کے کئی مختلف مفہوم نکل سکتے ہوں تو بھی فوراً قطعی حکم نہ لگایا جائے، بلکہ یہ کہا جائے:اگر اس شخص کی مراد یہ ہے تو حکم یہ ہوگا، اور اگر اس کی مراد وہ ہے تو حکم وہ ہوگا،اسی طرح مناسب ہے کہ مفتی ایسے وقت فتویٰ نہ دے جب اس کا ذہن کسی دوسرے کام میں مشغول ہو، مثلاً قضاء اور عدالتی فیصلے کی ذمہ داری میں مصروف ہو۔
امام دارمی ؒ: ان کا نام عبداللہ بن عبدالرحمن السمرقندی ہے، ان کی کتاب مسند الدارمی کی سند کے بارے میں اہلِ علم کے ہاں خاص مقام ہے، یہاں تک کہ اسے صحیح کے درجے میں شمار کرنے کی گنجائش بیان کی گئی ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:مسند دارمی مرتبے کے اعتبار سے سنن کی کتابوں سے کم نہیں، بلکہ اگر اسے پانچ مشہور کتبِ حدیث کے ساتھ شامل کیا جائے تو یہ ابن ماجہ سے شامل کیے جانے کے زیادہ لائق ہے؛ کیونکہ مسند دارمی ابن ماجہ کی کتاب سے بہت بہتر ہے۔
)عن عبد الله بن أبي جعفر مرسلاً)یعنی یہ روایت عبداللہ بن ابی جعفر رحمہ اللہ سے مرسلاً نقل کی گئی ہے، ان کا نام أبو بکر مصری تھا، وہ بڑے فقیہ، مشہور عالم اور جلیل القدر ائمہ میں شمار ہوتے تھے۔
(فیض القدیر، (1/ 158) برقم (183)، ط: المكتبة التجارية الكبرى، مصر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801102514
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن