بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جو شخص سجدہ پر قادر نہیں اس کے لیے کچھ نماز کرسی پر بیٹھ کر اور کچھ نماز کھڑے ہو کر ادا کرنے کا حکم

سوال

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں اگر کچھ دیر کھڑا  رہا جائے،پھر بیٹھ  جایا جائے،یعنی   قیام کرلیا جائے ،رکوع،سجدے  کے وقت بیٹھ جایا جائے  تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

جو  شخص سجدہ پر قادرنہیں  تو اس سے  قیام کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے،اس شخص کے لیے بہتر یہی ہے کہ پوری نماز بیٹھ کر ادا کرے ،کچھ نماز کھڑے ہو کر اور کچھ کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے پڑھنا بہتر نہیں ،اگرچہ اس طرح نماز پڑھنے سے نماز ہو جاتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. قال في البحر: ولم أر ما إذا تعذر الركوع دون السجود غير واقع اهـ أي لأنه متى عجز عن الركوع عجز عن السجود نهر. قال ح: أقول على فرض تصوره ينبغي أن لا يسقط لأن الركوع وسيلة إليه ولا يسقط المقصود عند تعذر الوسيلة، كما لم يسقط الركوع والسجود عند تعذر القيام."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، ج:2، ص:97، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144801102363
تاریخ05-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں