
کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی صورت میں اگر کچھ دیر کھڑا رہا جائے،پھر بیٹھ جایا جائے،یعنی قیام کرلیا جائے ،رکوع،سجدے کے وقت بیٹھ جایا جائے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
جو شخص سجدہ پر قادرنہیں تو اس سے قیام کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے،اس شخص کے لیے بہتر یہی ہے کہ پوری نماز بیٹھ کر ادا کرے ،کچھ نماز کھڑے ہو کر اور کچھ کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے پڑھنا بہتر نہیں ،اگرچہ اس طرح نماز پڑھنے سے نماز ہو جاتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. قال في البحر: ولم أر ما إذا تعذر الركوع دون السجود غير واقع اهـ أي لأنه متى عجز عن الركوع عجز عن السجود نهر. قال ح: أقول على فرض تصوره ينبغي أن لا يسقط لأن الركوع وسيلة إليه ولا يسقط المقصود عند تعذر الوسيلة، كما لم يسقط الركوع والسجود عند تعذر القيام."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، ج:2، ص:97، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102363
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن