
(زید) کو طلاق کے معاملے میں شدید وسوسے اور شک کی بیماری ہے، دو سال قبل زید نے اپنے دل میں پکا ارادہ کرتے ہوئے یہ سوچا تھا(یا جملہ قائم کیا تھا) کہ: "اگر میں نے مشت زنی کی یا فحش کچھ دیکھا تو بیوی کو طلاق ہے،" پھر اس کے دو سال بعد دوبارہ دل ہی میں پکا ارادہ کرتے ہوئے یہ سوچاکہ: "اگر میں نے نسوار رکھ لی یا سونگھ لی تو بیوی کو طلاق ہے،" زید آج تک یہی سمجھتا تھا کہ دل کے پکے ارادے اور دل میں جملہ دہرانے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لیکن جب حال ہی میں زید کو معلوم ہوا کہ اسلام میں دل کے ارادے یا دل میں بات کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، تو اسے بہت خوشی اور سکون ملا۔
اس شرعی مسئلے کا پتا چلنے کے بعد، زید نے وہ چاروں کام (مشت زنی ، فحش دیکھنا، نسوار رکھنا اور سونگھنا) کر لیے، زید کا اپنا مضبوط رجحان (غالب گمان) یہی ہے کہ یہ الفاظ اس نے صرف دل کے پکے ارادے کے ساتھ دل ہی میں دہرائے تھے، اور اسے بالکل یاد نہیں کہ یہ الفاظ کبھی زبان سے بولے ہوں، لیکن اب ان کاموں کے کر لینے کے بعد، زید کو شدید وسوسے آ رہے ہیں کہ کہیں ماضی میں (نادانی میں) یہ الفاظ زبان سے تو نہیں نکل گئے تھے؟ حالانکہ اسے زبان سے بولنا قطعی یاد نہیں ہے۔
کیا محض دل میں پکا ارادہ کر کے طلاق کی شرط (تعلیق) مقرر کرنے سے، شرط پائے جانے پر طلاق واقع ہوتی ہے؟
زید کا غالب گمان یہ ہے کہ الفاظ صرف دل میں تھے، لیکن اب وسوسہ ہو رہا ہے کہ کہیں زبان سے نہ نکلے ہوں، اس شک اور وسوسے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
مذکورہ بالا صورتحال میں ان چاروں افعال کے سرزد ہونے کے بعد، کیا زید کا نکاح برقرار ہے یا طلاق واقع ہو چکی ہے؟
واضح رہے کہ وقوع طلاق کے لیے یا طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنے کے لیے زبان سے تلفظ کرنا ضروری ہے،محض دل میں کسی شرط کے ساتھ طلاق معلق کرلینے کا ارادہ یا پکا عزم کرلینے سے طلاق معلق نہیں ہوتی؛لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر زید نے صرف دل میں طلاق کو ان کا موں کے نہ کرنے پر معلق کیا تھا،اور زبان سے تعلیق کے الفاظ ادا نہیں کیے تھے، اور اس کا غالب گمان بھی یہی ہےتو مذکورہ شرط(مشت زنی،فحش ویڈیوز،اور نسوار رکھنے یا سونگھنے )سے مذکورہ شخص کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی،اور نکاح برقرار رہے گا،نیز جب غالب گمان ہے کہ زبان سے الفاظ ادا نہیں ہوئے ہیں تو اب وساوس اور خدشات کو دل میں جگہ نہیں دینی چاہیے،البتہ مشت زنی کرنا،یا غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھناانتہائی سخت گناہ،اور اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے،اور شادی شدہ ہونے ،اور اپنی خواہش کو حلال طریقے پورا کرنے کا ذریعہ ہونے کے باوجود اس طرح کے سنگین گناہ کرنازیادہ بڑا جرم ہے،اس لیے مذکورہ شخص کو چاہیے کہ مذکورہ گناہوں سے فورا پکی سچی توبہ کرے،اور آئندہ ان گناہوں کی طرف لے جانے والے اسباب سے بھی دور رہے،اور ان گناہوں سے بچنے کے لیے بیوی کو طلاق دینے کے علاوہ اپنے نفس پر جو چیز بھاری وہ سزا مقرر کرے،اس لئے کہ خود گناہ کرکے دوسرے کو سزا دینا غیرمعقول بات ہے،نیز نماز کی باجماعت ادائیگی کی پابندی کرے،تلاوت اور اور مسنون اذکار کا معمول بنائے،اور اللہ سے خوب دعا کرے کہ اور بہتر یہ کسی اللہ والے بزرگ کی صحبت اختیار کرلے،کہ اچھے ماحول میں گناہ چھوڑنا آسان اور نیکی کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي."
(کتاب الطلاق، رکن الطلاق، ج:3، ص:230، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي."
(کتاب الطلاق، الباب الاول،ج:1، ص:348، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102122
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن