بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

فیفا ورلڈ کپ کے متعلق دس اہم شرعی سوالات اور ان کے تفصیلی جوابات


سوال

اس وقت فیفا ورلڈ کپ جاری ہے۔ اس موقع پر دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی اس کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ بالخصوص برازیل، ارجنٹائن، پرتگال، فرانس، انگلینڈ، جرمنی وغیرہ کی مختلف ٹیموں کی حمایت کا رجحان بہت زیادہ ہے، حالانکہ ان ممالک کی اکثریت غیر مسلم ہے اور ان ٹیموں کے زیادہ تر کھلاڑی بھی غیر مسلم ہیں۔

عملاً دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے مسلمان ان ٹیموں سے اس قدر گہری جذباتی وابستگی اختیار کر لیتے ہیں کہ ان کی جیت پر بے حد خوشی اور ہار پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہیں، ان کی کامیابی کی دعائیں کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کی حمایت میں مہم چلاتے ہیں، ان کے جھنڈے لگاتے ہیں، ان کی جرسیاں پہنتے ہیں اور مختلف طریقوں سے اپنی محبت اور حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ اس مقصد کے لیے بہت زیادہ مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی اپنے گھر کو اپنی پسندیدہ ٹیم کے پرچم کے رنگوں سے رنگ دیتا ہے، جبکہ بعض افراد اپنی پسندیدہ ٹیم کا بہت بڑا پرچم بنانے کے لیے اپنی قیمتی جائیداد تک فروخت کر دیتے ہیں۔

مزید یہ کہ ورلڈ کپ کے دوران، خصوصاً برازیل اور ارجنٹائن کے حامیوں کے درمیان بحث و تکرار، گالی گلوچ، جھگڑے، بلکہ بعض اوقات لڑائی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں باہمی تعلقات خراب ہوتے ہیں، قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، اور بہت سے لوگ نماز، عبادات اور دیگر دینی ذمہ داریوں میں بھی غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس صورتِ حال میں درج ذیل امور کے بارے میں شریعتِ مطہرہ کی راہ نمائی مطلوب ہے:

1. فیفا ورلڈ کپ یا اس قسم کے کھیلوں کو اسٹیڈیم میں، یا ٹیلی ویژن، موبائل، کمپیوٹر اور دیگر اسکرینوں پر دیکھنے، یا صرف اسکور (Scores) دیکھنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

2.غیر مسلم ممالک یا ان کے کھلاڑیوں سے دلی محبت رکھنا، ان کی حمایت کرنا، ان کی کامیابی کی خواہش کرنا، نیز ان کی کامیابی پر غیر معمولی خوشی اور ان کی شکست پر شدید رنج و غم کا اظہار کرنا شرعاً کیسا ہے؟ کیا اس قسم کی محبت اور جذباتی لگاؤ ایک مسلمان کے ایمان پر منفی اثر ڈال سکتا ہے؟ اس بارے میں شریعت کی کیا راہ نمائی ہے؟

3. کھیل کے موقع پر کسی ٹیم کی حمایت اور اس سے وابستگی کے اظہار کے لیے اس کے قومی پرچم، جرسی، لوگو یا دیگر مخصوص علامات و نشانات استعمال کرنا، انہیں گھروں، دکانوں، گاڑیوں یا دیگر مقامات پر آویزاں کرنا، ان کا احترام و تعظیم کرنا، اس مقصد کے لیے مال خرچ کرنا، نیز میچ دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟

4.کھیل کو بنیاد بنا کر جھگڑا، عداوت، گالی گلوچ، قیمتی وقت ضائع کرنا، نماز و عبادات میں غفلت برتنا اور معاشرے میں انتشار پیدا کرنا، شریعت کی نظر میں کس درجے کا عمل ہے؟

5.کسی غیر مسلم کھلاڑی کو اپنا آئیڈیل، رول ماڈل یا نمونہ بنانا، اس کی شخصیت سے متاثر ہو کر اس کے طرزِ زندگی، لباس، بالوں کی وضع، اندازِ گفتگو، خوشی منانے کے طریقے، حرکات و سکنات اور دیگر مخصوص عادات و اطوار کی پیروی کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

6.اگر ورلڈ کپ میں کسی مسلم ملک کی ٹیم یا اس کے مسلمان کھلاڑی شریک ہوں، تو ان کی حمایت کرنا، ان کی کامیابی کی دعا کرنا، ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا شرعاً کیسا ہے؟ کیا اس کا حکم غیر مسلم ممالک اور ان کے کھلاڑیوں کی حمایت سے مختلف ہے؟

7.ورلڈ کپ کے میچز بڑے اسکرینوں پر دکھانے کے دوران موسیقی، گانے بجانے، عورتوں اور مردوں کے آزادانہ اختلاط، نیز اس قسم کے پروگراموں کا انعقاد کرنا، شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟

8. فیفا ورلڈ کپ یا اس قسم کے بین الاقوامی کھیلوں کے موقع پر کسی گاؤں، محلے یا علاقے میں ایک فریق برازیل اور دوسرا فریق ارجنٹائن (یا کسی اور ٹیم) کی حمایت اختیار کرکے آپس میں شرط (بازی) لگانا، ٹیم کی جیت یا ہار پر گائے یا دیگر جانور ذبح کرکے دعوت، ضیافت، پکنک یا جشن کا اہتمام کرنا، یا اس موقع پر مختلف قسم کی خوشی کی تقریبات منانا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟

9.موجودہ دور میں بچوں اور نوجوانوں کے اندر غیر مسلم کھلاڑیوں اور ٹیموں سے غیر معمولی محبت اور حد سے زیادہ جذباتی لگاؤ دیکھا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں والدین کی کیا ذمہ داریاں ہیں، تاکہ وہ اپنی اولاد کی صحیح دینی تربیت کر سکیں اور انہیں اس قسم کی غیر شرعی وابستگی سے محفوظ رکھ سکیں؟ نیز اس سلسلے میں علماءِ کرام اور دینی اداروں کی شرعی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

10.موجودہ دور میں ایک مسلمان کو تفریح، کھیل کود اور اوقاتِ فراغت گزارنے کے معاملے میں قرآن و سنت کی روشنی میں کن امور کو اختیار کرنا چاہیے، اور شریعت نے کن جائز ذرائعِ تفریح اور کھیلوں کی اجازت دی ہے؟ نیز کن امور سے اجتناب کرنا لازم ہے؟

قرآنِ مجید، سنتِ نبویہ اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں مذکورہ تمام امور کے متعلق شریعتِ مطہرہ کا مفصل جواب مطلوب ہے۔

جواب

 1.فیفا ورلڈ کپ یا اس قسم کے دیگر کھیلوں کو اسٹیڈیم میں جا کر، یا ٹیلی ویژن، موبائل، کمپیوٹر اور دیگر اسکرینوں پر دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کھیل عموماً لہو و لعب کے طور پر کھیلے اور دیکھے جاتے ہیں، نیز ٹیلی ویژن، موبائل، کمپیوٹر اور دیگر اسکرینوں پر میچ دیکھنے کے دوران عموماً متعدد خلافِ شرع امور پائے جاتے ہیں، جیسے بے پردگی، نامحرم خواتین کے مناظر، فحش اشتہارات، موسیقی، مرد و عورت کا اختلاط اور دیگر ناجائز امور۔ مزید یہ کہ فٹ بال کے کھلاڑیوں کا ستر بھی عموماً مکمل طور پر مستور نہیں ہوتا۔ اس لیے ایسے میچوں کو دیکھنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

البتہ اگر صرف آن لائن میچ کا اسکور، نتیجہ یا مختصر اپ ڈیٹ معلوم کیا جائے، اور اس کے ساتھ میچ کے مناظر نہ دیکھے جائیں، نہ کسی حرام کام کا ارتکاب ہو، اور نہ ہی اس میں غیر ضروری انہماک، دل چسپی  ہو، تو یہ بذاتِ خود میچ دیکھنے کے حکم میں داخل نہیں،لیکن یہ بھی لایعنی اور بےفائدہ کام ہے، مسلمانوں کو ا س سے بھی بچنا چاہیے، اس سے ایک مسلمان کا ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہے۔

2.اسلام نے مسلمان کے دل کی محبت، وفاداری اور دلی وابستگی کا اصل مرکز اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ، دینِ اسلام اور اہلِ ایمان کو قرار دیا ہے۔ اس لیے کسی غیر مسلم ملک، اس کی قومی ٹیم یا اس کے کھلاڑیوں سے اس درجے کی قلبی محبت رکھنا کہ ان کی کامیابی کی تمنا کی جائے، ان کی فتح پر غیر معمولی خوشی منائی جائے اور ان کی شکست پر شدید رنج و غم محسوس کیا جائے، شرعاً درست نہیں۔ خصوصاً اگر یہ محبت محض کھیل کی دلچسپی تک محدود نہ رہے، بلکہ غیر مسلموں کے دین، تہذیب، شعار یا ان کے غلبہ و برتری سے قلبی وابستگی کی صورت اختیار کر لے،  تو یہ نہایت خطرناک امر ہے، جو ایمان پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ایسے جذباتی تعلق اور طرزِ عمل سے اجتناب کرے۔

3.کسی ٹیم کی حمایت اور اس سے وابستگی کے اظہار کے لیے اس کے قومی پرچم، جرسی، لوگو یا دیگر مخصوص علامات و نشانات استعمال کرنا، انہیں گھروں، دکانوں، گاڑیوں یا دیگر مقامات پر آویزاں کرنا، ان کی تعظیم کرنا یا اس مقصد کے لیے مال خرچ کرنا شرعاً درست نہیں، خصوصاً جب یہ وابستگی غیر مسلم ممالک یا ان کی قومی ٹیموں کے ساتھ ہو؛ کیونکہ اس میں ان کی مشابہت، تعظیم اور غیر شرعی وابستگی کا اظہار پایا جاتا ہے، جبکہ مسلمان کی اصل محبت اور وفاداری اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اہلِ ایمان کے ساتھ ہونی چاہیے۔

اسی طرح طرح اسٹیڈیم میں جا کر میچ دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدنا بھی جائز نہیں؛ کیونکہ اس میں بہت سے غیر شرعی امور کا ارتکاب لازم آتا ہے، مثلاً تصویر کشی، گانے بجانے، مرد و عورتوں کا اختلاط، کھلاڑیوں کا پورے ستر والا  لباس نہ پہننا، وغیرہ وغیرہ۔ لہذا اس مقصد کے لیے ٹکٹ خریدنے میں مال خرچ کرنا  آیت کریمہ ”يشترى لهو الحديث “ کے وعید میں شامل ہے، اور گناہ کے کام میں تعاون اور اس کی ترویج ہے،لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

4.کھیل کو بنیاد بنا کر جھگڑا، عداوت، گالی گلوچ، باہمی نفرت، قیمتی وقت ضائع کرنا، نیز معاشرے میں فساد اور انتشار پیدا کرنا، یہ سب امور شرعاً ناجائز اور گناہ ہیں۔ اگر کھیل کے شوق کی وجہ سے فرائض و واجبات میں کوتاہی ہونے لگے، یا لوگوں کے درمیان دشمنی، لڑائی جھگڑا، بدزبانی اور فساد پیدا ہو، تو اس کی وجہ سے جائز کھیل بھی ناجائز قرار پاتا ہے۔

 شریعتِ مطہرہ نے ہر اس کام سے منع فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کی یاد، نماز اور دیگر دینی فرائض سے غافل کرے، یا مسلمانوں کے درمیان عداوت، بغض اور فساد کا سبب بنے۔ لہٰذا کسی بھی کھیل یا اس سے متعلق سرگرمی کو اس حد تک اختیار کرنا کہ اس کے نتیجے میں مذکورہ خرابیاں پیدا ہوں، سخت قابلِ مذمت،  اورگناہ ہے، اور ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے وقت، اخلاق، عبادات اور باہمی تعلقات کی حفاظت کرے۔

5.کسی غیر مسلم کھلاڑی کو اپنا آئیڈیل یا رول ماڈل بنانا اور اس کی شخصیت سے متاثر ہو کر اس کے مخصوص طرزِ زندگی، لباس، ہیئر اسٹائل (بالوں کی وضع)، اندازِ گفتگو، خوشی منانے کے مخصوص طریقوں اور عادات و اطوار کی پیروی کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔اسلام میں ایک مسلمان کے لیے کامل نمونہ اور حقیقی رول ماڈل صرف سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے، اور آپ ﷺ کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور سلفِ صالحین بہترین نمونے ہیں۔ ایک مسلمان کی عزت، شناخت اور امتیاز اسی میں ہے کہ وہ اپنی اسلامی تہذیب، دینی تشخص اور اسلامی شعائر کو مضبوطی سے اختیار کرے اور ہر اس چیز سے بچے جو غیر مسلموں یا فاسق و فاجر لوگوں کی مخصوص پہچان اور شعار ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں اور فاسقوں کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے، کیونکہ ظاہری مشابہت رفتہ رفتہ قلبی محبت، فکری وابستگی اور عملی اثر پذیری کا سبب بن جاتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی محبت، عقیدت، تقلید اور پیروی کا مرکز انبیائے کرام علیہم السلام، خصوصاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اکابرِ امت کو بنائیں، کیونکہ دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی انہی کے نقشِ قدم پر چلنے میں ہے۔

6.اگر ورلڈ کپ یا کسی دوسرے کھیل میں کسی مسلم ملک کی ٹیم یا مسلمان کھلاڑی شریک ہوں، تو ان کی حمایت کرنا، ان کی کامیابی کی دعا کرنا، ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا بھی شرعاً جائز نہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں ایسے کھیل  عموماً لہو و لعب، وقت کے ضیاع، فرائض و واجبات سے غفلت، غیر شرعی رسوم،  اور غیر اسلامی طرزِ زندگی کی ترویج کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ان مقابلوں میں شرکت یا ان کی حمایت اکثر انہی مفاسد کا سبب بنتی ہے، لہٰذا ان کی تائید، تشہیر، حوصلہ افزائی اور کامیابی کی دعا سے اجتناب کرنا چاہیے۔

7.ورلڈ کپ کے میچز بڑے اسکرینوں پر دکھانے کے لیے ایسے اجتماعات اور پروگراموں کا انعقاد کرنا جن میں موسیقی، گانے بجانے، عورتوں اور مردوں کا آزادانہ اختلاط، بے پردگی،  اور دیگر   منکرات پائے جاتے ہوں، شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔ اس قسم کے پروگرام میں شرکت کرنا، اس کی تشہیر کرنا، اس کے انعقاد میں مالی یا عملی تعاون کرنا بھی جائز نہیں؛ کیونکہ یہ متعدد حرام امور کا مجموعہ ہوتا ہے، جبکہ شریعت نے نہ صرف انفرادی گناہوں سے منع فرمایا ہے بلکہ گناہ اور معصیت کے کاموں میں تعاون سے بھی سختی کے ساتھ روکا ہے۔

 مزید یہ کہ موسیقی سننا، اجنبی عورتوں کی طرف نظر کرنا، مرد و عورت کے آزادانہ اختلاط کا ماحول پیدا کرنا اور لوگوں کو ایسے منکرات پر جمع کرنا، ہر ایک مستقل طور پر بھی ناجائز ہے، لہٰذا جب یہ تمام امور ایک ہی پروگرام میں جمع ہوجائیں تو اس کی حرمت اور قباحت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ایسے پروگراموں کا انعقاد یا ان میں کسی بھی درجے میں تعاون کرنا جائز نہیں، بلکہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان سے خود بھی اجتناب کرے اور دوسروں کو بھی ان سے بچنے کی تلقین کرے۔

8.فیفا ورلڈ کپ یا اس قسم کے بین الاقوامی کھیلوں کے موقع پر کسی گاؤں، محلے یا علاقے کے لوگوں کا مختلف ٹیموں، مثلاً برازیل، ارجنٹائن یا دیگر ممالک کی حمایت میں گروہ بندی کرنا، پھر ان کی جیت یا ہار پر شرط (بازی) لگانا، یا یہ طے کرنا کہ ہارنے والا فریق گائے یا دیگر جانور ذبح کرکے دعوت کرے گا، یا کھانے، پکنک، جشن اور خوشی کی دیگر تقریبات کا اہتمام کرے گا، یہ تمام صورتیں شرعاً ناجائز اور گناہ ہیں۔

اگر دعوت یا جانور ذبح کرنا پہلے سے شرط کے طور پر طے کیا گیا ہو، یا فریقین کی جیت و ہار پر موقوف ہو، تو یہ قمار (جوا) کی ایک صورت ہے، کیونکہ اس میں مال کو کھیل کے نتیجے کے ساتھ مشروط کیا جاتا ہے، حالانکہ قرآنِ کریم نے جوا کو حرام قرار دیا ہے، لہٰذا اس قسم کی شرط کے نتیجے میں جیتنے والے کے لیے مال یا دعوت وصول کرنا، اور ہارنے والے کے لیے اسے ادا کرنا، دونوں ناجائز ہیں۔

اسی طرح کسی غیر مسلم ٹیم کی کامیابی پر جشن منانا، خوشی کی محفلیں منعقد کرنا، آتش بازی، دعوتیں اور دیگر تقریبات کا اہتمام کرنا بھی ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں؛کیونکہ اس میں لہو و لعب، وقت اور مال کا ضیاع پایا جاتا ہے۔

مزید یہ کہ ایسے اجتماعات میں موسیقی، اختلاط، جھگڑے، اور دیگر ناجائز امور بھی شامل ہوجاتے ہیں، اس لیے ان سے اجتناب لازم ہے۔

9.موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر کھیلوں کی وسیع تشہیر کے نتیجے میں بہت سے بچوں، اور نوجوانوں کے دلوں میں غیر مسلم کھلاڑیوں اور ٹیموں کے لیے غیر معمولی محبت اور حد سے زیادہ جذباتی وابستگی پیدا ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کے ایمان، دینی شعور اور اسلامی شناخت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، بلکہ ان کے ایمان پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس سلسلے میں والدین، علمائے کرام اور دینی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ درج ذیل امور کا اہتمام کریں:

1۔ ایمان اور اسلامی شناخت کی تعلیم دینا:

بچوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرامؓ، سلفِ صالحین اور نیک مسلمانوں کی محبت پیدا کی جائے۔ انہیں یہ بات سمجھائی جائے کہ ایک مسلمان کا حقیقی آئیڈیل اور نمونۂ عمل صرف نبی کریم ﷺ اور ہمارے صالح اسلاف ہیں، نہ کہ کوئی کھلاڑی-

2۔ فیفا ورلڈ کپ اور اس سے متعلق آن لائن مواد کے نقصانات سے آگاہ کرنا:

بچوں کو بتایا جائے کہ فیفا ورلڈ کپ کے میچ، ہائی لائٹس، ریلز، شارٹ ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر اس سے متعلق مختلف مواد کو دیکھنے سے جسمانی اور ذہنی نقصان ہو سکتا ہے، مثلاً آنکھوں پر منفی اثرات، سر درد، نیند میں خلل، توجہ اور یادداشت کی کمزوری، قیمتی وقت کا ضیاع، اور آہستہ آہستہ کھلاڑیوں اور ٹیموں کے ساتھ غیر معمولی جذباتی وابستگی پیدا ہونا۔

3۔ ورلڈ کپ اور کھیلوں کی حد سے زیادہ دلچسپی کے نقصانات واضح کرنا:

انہیں سمجھایا جائے کہ اس کے نتیجے میں نماز اور دیگر عبادات میں غفلت، وقت اور مال کا ضیاع، غیر مسلم تہذیب کی نقالی، فحاشی، موسیقی، جھگڑے، شرط بازی اور جوا، رات بھر جاگنا، اور تعلیم سے غفلت جیسے بہت سے نقصانات پیدا ہوتے ہیں۔

4۔ خود عملی نمونہ بننا:

والدین کو چاہیے کہ گھر کے ماحول کی اصلاح کریں۔ وہ خود کھیلوں یا ورلڈ کپ کے بارے میں جوش و خروش کا اظہار نہ کریں اور نہ ہی گھر میں ایسا ماحول پیدا ہونے دیں۔

5۔ مفید اور جائز متبادل فراہم کرنا:

بچوں کو قرآنِ کریم کی تلاوت، اسلامی کتابوں کے مطالعے، جائز کھیلوں، جسمانی ورزش، تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ مفید وقت گزارنے کی ترغیب دی جائے۔

6۔ نیک صحبت اور دینی ماحول فراہم کرنا:

بچوں کو دین دار دوست بنا نے کی ترغیب دی جائے اور انہیں باقاعدگی سے مسجد، مکتب، مدرسہ، دینی اجتماعات اور نیک علمائے کرام کی صحبت میں رکھا جائے۔

7۔ محبت، حکمت اور نرمی کے ساتھ سمجھانا:

بچوں کو غصے، مارپیٹ یا بے عزتی کے ذریعے نہیں، بلکہ محبت، حکمت اور معقول انداز میں سمجھایا جائے۔

8۔ وقت کی قدر کا احساس پیدا کرنا:

انہیں یہ تعلیم دی جائے کہ ایک مسلمان کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور قیامت کے دن ہر لمحے کا حساب دینا ہوگا۔

9۔ باقاعدگی سے دعا کرنا:

والدین اپنے بچوں کے ایمان، اچھے اخلاق اور ہر قسم کی شریعت کے خلاف جانے والی وابستگی اور غلط رجحانات سے حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعا کرتے رہیں۔

10۔ علمائے کرام اور دینی اداروں کا دعوتی کردار:

علمائے کرام کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبات، وعظ و نصیحت، دینی دروس، مساجد کے بیانات، مدارس، تعلیمی اداروں اور جہاں بھی دینی راہ نمائی کا موقع ملے، وہاں کھیلوں کی حد سے زیادہ وابستگی کے شرعی نقصانات، غیر مسلموں کی  تقلید کے برے نتائج، وقت کے ضیاع، اور مسلمانوں کے حقیقی آئیڈیل کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں راہ نمائی کریں۔ اسی طرح دینی اداروں کو چاہیے کہ اس موضوع پر باقاعدہ آگاہی مہم اور تربیتی پروگرام منعقد کریں، تاکہ مسلم معاشرہ، خصوصاً بچے،اور نوجوان، اس قسم کی غیر شرعی وابستگیوں سے محفوظ رہ سکیں۔

10.کھیل کود سے متعلق احکام:

(الف) اصولی ہدایت :

اسلام انسان کو ایک بامقصد زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے اور کھیل کود اور لہوولعب پرمشتمل زندگی کی مذمت کرتا ہے۔ بامقصد زندگی جس کی اساس ہمہ وقت اللہ کی خوشنودی کی جستجو، تعمیر آخرت کی فکر مندی اور لہو و لعب سے اِعراض ہو؛ وہ زندگی اہل ایمان کی پہچان ہے اور جس کی بنیاد لہوولعب پر مشتمل غفلت و بے پرواہی ہو وہ کفار کا شعار ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:  "وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ." (سورة المؤمنين:3)کہ اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ وہ لغو اور فضول باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔

لہٰذا شرعی نقطۂ نظر سے ہر وہ کام، قابلِ تعریف ہے؛ جو انسان کو مقصدِ اصلی پر گامزن رکھے۔ ہر اس کام کی اجازت ہے، جس میں دنیا وآخرت کا یقینی فائدہ ہو۔ یا کم از کم دنیا وآخرت کا خسارہ نہ ہو۔ کھیلوں میں سے بھی صرف انھیں اقسام کی اجازت ہے، جو جسمانی یاورزش کا حامل ہو۔اور اس کو ورزش کی حد تک ورزش ہی کے لیے کھیلا جائے، وہ کھیل جو محض اوقات کے ضیاع  کا ذریعہ ہوں، فکرِ آخرت سے غافل کرنے والے ہوں؛ وہ کھیل جو دوسروں کے ساتھ دھوکہ فریب یا ضرر  رسانی پر مبنی ہوں؛ ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

(ب) لباس وپوشاک سے متعلق  ہدایت: 

لباس اور پوشاک کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ کھلاڑی کھیل کے دوران ایسا لباس پہنے جو ساتر ہو، یعنی جسم کا وہ حصہ چھپ جائے جس کا چھپانا شرعاً واجب ہے۔ مرد کے لیے ناف سے لے کر گھٹنے تک ستر ہے، لہٰذا اس حصے  کا مکمل طور پر ڈھکا ہونا ضروری ہے۔ لباس اتنا باریک یا چست بھی نہ ہو کہ جسم کے اعضا نمایاں ہوں۔ اسی طرح اس لباس میں کفّار کے ساتھ ایسی مشابہت نہ ہو کہ اسے دیکھ کر کسی خاص غیر مسلم قوم کی پہچان ہوتی ہو، اور نہ ہی وہ غیر اسلامی شعار میں شمار ہوتا ہو۔ مردوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ ان کا لباس ٹخنوں سے نیچے نہ ہو۔

(ج) پسندیدہ کھیل:

  1.  تیراندازی اور نشانہ بازی: اصول شریعت کی روشنی میں مروّجہ کھیلوں میں یہ  کھیل مستحب اورپسندیدہ ہیں۔ بعض اوقات ان  کی اہمیت وجوب تک پہنچ جاتی ہے۔ نشانہ بازی (چاہے وہ تیر کے ذریعہ ہو یا نیزہ، بندوق اور پستول یا کسی اور ہتھیار کے ذریعہ ہو۔ احادیث میں اس کے فضائل بیان کیے گئے ہیں اور اس کے سیکھنے کو باعثِ اجر وثواب قرار دیاگیا ہے؛ کیوں کہ یہ کھیل انسان کے ذاتی دفاع اور ملکی دفاع کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ کھیل جسم کی پھرتی، اعصاب کی مضبوطی، نظر کی تیزی اور نشانے کی مہارت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نیز خاص حالات، مثلاً  جہاد یا ملکی دفاع کے موقع پر، دشمن کے مقابلے میں بھی یہ مہارت نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں باضابطہ مسلمانوں کو حکم دیاگیاہے: "وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ."(سوره الانفال: 60)کہ اے مسلمانو! تمہارے بس میں جتنی قوت ہو، اسے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھو۔ بذل المجہود میں ہے کہ رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ”قوة“ کی تفسیر رمی (تیراندازی) سے کی ہے۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا:ألاَ أَنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ۔ یعنی خبردار ”قوة“ پھینکنا ہے۔ اس پھینکنے میں جس طرح تیر کا پھینکنا داخل ہے، اسی طرح اس میں کسی بھی ہتھیار کے ذریعہ مطلوبہ چیز کو نشانہ بنانا، راکٹ، میزائل وغیرہ کوٹھیک نشانہ تک پہنچانا بھی داخل ہے اور ان میں سے ہر ایک کی مشق جہاں جسمانی لحاظ سے بہترین ورزش ہے، وہیں باعث اجر وثواب بھی ہے۔ 
  2. گھوڑ سواری کی مشق: یہ کھیل بھی اسلام کا پسندیدہ کھیل ہے، اس سے بھی جسم کی پوری ورزش کے ساتھ انسان میں مہارت، ہمت وجرأت اور بلند حوصلہ جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں اور سفر میں اور جہاد میں بھی خوب کام آتا ہے، اگرچہ قرآن وحدیث میں عام طور پر گھوڑے کاذکر آیا ہے؛ مگر اس میں ہر وہ سواری مراد ہے؛ جو جہاد میں کام آسکے۔احادیث طیبہ میں اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے اگرچہ گھوڑوں کے فضائل مذکور ہیں؛ مگر اشتراکِ علت کے پیش نظر ہر وہ سواری جو جہاد میں کام آتی ہو، یا ذاتی تحفظ اور اچھے مقاصد کے لیے آمد ورفت کے کام آتی ہو۔ اگر اسے بھی اچھی نیت سے چلانے کی مشق کی جائے؛ تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوگی۔ جیسے: ہیلی کاپٹر، ہوائی جہاز، بحری جہاز، لڑاکا طیارہ، ٹینک، بکتربند گاڑیاں، جیپ کار وغیرہ۔ ان سب سواریوں کے چلانے کی مشق اور ٹریننگ اسلامی  نقطۂ نظر سے پسندیدہ کھیل ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ جائز اور نیک مقاصد کے لیے انھیں سیکھا جائے اور استعمال کیا جائے۔
  3. دوڑلگانا: اپنی صحت اور توانائی کے مطابق، ہلکی یا تیز دوڑ بہترین جسمانی ورزش ہے۔ اس کی افادیت پر سارے علماء اور ڈاکٹر متفق ہیں۔ احادیث سے بھی اس کا جواز؛ بلکہ استحباب مفہوم ہوتا ہے۔ پیدل دوڑنے کی اسی افادیت کی وجہ سے صحابہٴ کرام عام طور پر دوڑ لگایا کرتے تھے اور ان میں آپس میں پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی ہوا کرتا تھا۔
  4. بیوی کے ساتھ بے تکلّفانہ کھیل: مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ مختلف بے تکلفی کا کھیل بھی اسلام کی نظر میں مستحسن ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی۔ میں نے آپ سے دوڑ لگائی اور آگے نکل گئی۔ کچھ عرصہ بعد پھر ایک سفر میں میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑلگائی اب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے اور آپ نے فرمایا یہ اس کے بدلہ میں ہے ۔مذکورہ حدیث نبوی سے بیوی کے ساتھ تفریح کرنے اور دوڑ لگانے دونوں کی افادیت سمجھ میں آتی ہے؛ لیکن واضح رہے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ دونوں واقعات  اس وقت کے  ہیں ؛ جب کہ قافلہ آپ کے حکم سے آگے جاچکا تھا اور وہاں آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اور حضرت عائشہ کے علاوہ کوئی نہ تھا، وہ تنہا تھے۔ کسی اور کی موجودگی میں ایسا نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ یہ حیا کے خلاف ہے۔
  5. نیزہ بازی: نیزہ زنی اور بھالا چلانا ایک مستحسن کھیل ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم میں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ،آپ میرے حجرے کے دروازہ پر کھڑے ہوگئے۔ جب کہ کچھ حبشی نیزوں کے ساتھ مسجد کے باہر صحن میں نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی چادر سے چھپارہے تھے اور میں آپ کے کان اور کندھوں کے درمیان حبشیوں کو کھیلتے دیکھ رہی تھی۔
  6. تیراکی: تیرنے کی مشق ایک بہترین اور مکمل جسمانی ورزش ہے، جس میں جسم کے تمام اعضا وجوارح کی بھرپور ورزش ہوتی ہے، یہاں تک کہ سانس کی بھی ورزش ہوتی ہے۔ سیلاب آنے کی صورت میں ایک ماہر تیراک انسانیت کی بہترین خدمت کرسکتا ہے۔ اس سے جہادی تربیت کا فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے؛ کیوں کہ کسی بھی جنگ میں ندی نالے، تالاب اور دریا کو عبور کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ ایک طبعی امر ہے۔ آج کل کی جنگوں میں سمندر کی ناکہ بندی کو دفاعی   نقطۂ نظر سے بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا تیراکی جہاں تفریحِ طبع اور جسمانی ورزش کا عمدہ ذریعہ ہے، وہیں بہت سے دیگر سماجی فوائد کا حامل بھی ہے۔ 
  7. کُشتی اورکبڈی: اس کھیل میں ورزش کا بھرپور سامان ہے۔ اگر ستر کی رعایت اور انہماک کے بغیر کھیلا جائے، تو جائز ہوگا؛ بلکہ نیک مقصد کے لیے مستحسن قرار دیاجائے گا۔ 

 مذکورہ تمام کھیل چوں کہ احادیث وآثار سے ثابت ہیں؛ اس لیے ان کے جواز؛ بلکہ استحباب میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا، اورکبڈی کا حکم بھی کشتی کی طرح ہے۔

(د)ناپسندیدہ کھیل

ان کے علاوہ جو کھیل کود رائج ہیں: ان کی شرعی حیثیت کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ جن کھیلوں کی احادیث و آثار میں صریح ممانعت کی گئی ہے، وہ سب ناجائز ہیں: جیسے نرد، شطرنج، کبوتربازی، اور جانوروں کو لڑانا۔

  •  نرد: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے نرد یعنی چوسر کھیلنے سے سختی سے منع فرمایا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے نرد شیر کا کھیل کھیلا، تو گویا اس نے اپنے ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خوں سے رنگ لیے۔
  • شطرنج:صحابہٴ کرام نے شطرنج کھیلنے سے صراحتاً منع فرمایا ،اور ظاہر ہے کہ صحابہٴ کرام نے شطرنج کی ممانعت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوگی۔ 
  • کبوتربازی: احادیث کی روشنی میں یہ بھی ممنوع ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھا؛ تو فرمایا: شَیْطَانٌ یَتَّبِعُ شَیْطَانَةًکہ ایک شیطان دوسرے شیطان کے پیچھے دوڑا جارہا ہے۔
  • مرغ بازی، بٹیر بازی: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح سے جانوروں کو آپس میں لڑانے کی ممانعت فرمائی ہے، چاہے مرغیوں کو لڑایا جائے یا بٹیر کو یا مینڈھے کو ، یا کسی اور جانور کو لڑایا جائے۔

(ہ)موجودہ زمانے کے چند کھیل:

  •  پتنگ بازی: جو حکم کبوتر کے پیچھے دوڑنے کا ہے، وہی حکم پتنگ کے پیچھے دوڑنے کا ہے؛ یعنی ناجائز۔ حدیث میں ایسے شخص کو شیطان قرار دیاگیا ہے۔
  • تاش بازی: یہ کھیل بھی شرعی   نقطۂ نظر سے ممنوع ہے؛ اس لیے کہ تاش عام طور پر باتصویر ہوا کرتے ہیں۔ تاش کھیلنا عام طور پر فاسق وفاجر لوگوں کا معمول ہے۔ بالعموم جوا اور قمار کی شمولیت ہوتی ہے۔ اس کھیل میں تفریح کی جگہ پرالٹا ذہنی تھکان ہوتا ہے۔ اگر جوے کے بغیر بھی کھیلاجائے، تو شطرنج کے حکم میں ہوکر مکروہ تحریمی کہلائےگا۔
  • باکسنگ، فائٹنگ: موجودہ زمانہ میں باکسنگ، مُکّا بازی جو شریعتِ اسلامی میں بالکل حرام ہیں، اسے جائز ورزش کا نام نہیں دیا جاسکتا۔
  • بیلوں کے ساتھ کشتی: اسی طرح بیلوں کے ساتھ کشتی جس میں تربیت یافتہ مسلح افراد اپنی مہارت سے بیل کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں، یہ بھی حرام ہے؛ کیوں کہ اس میں جانور کو ایذا پہنچاکر اور جسم میں نیزے پھونک کر قتل کیاجاتا ہے اور بعض اوقات بیل بھی مدِمقابل انسان کو ختم کردیتا ہے یہ عمل کسی بھی حال میں درست نہیں۔
  • کیرم بورڈ: یہ کھیل بھی اگر انہماک اور جوے کے بغیر کھیلا جائے توبھی وقت کا ضیاع ہے۔
  • لوڈو: اگر اس میں ذی روح کی تصویر نہ ہو اور مذکورہ خرابیوں سے پاک ہو توبھی وقت کا ضیاع ہے، اس میں جسمانی ورزش نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ہے: 

"وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ."(سورۃ المؤمنون: 3)

ترجمہ: ”جو لغو  باتوں سے (خواہ قولی ہو یا فعلی) برکنار رہنے والے ہیں ۔“(بیان القرآن،ج:2،ص:537،ط: مکتبہ رحمانیہ)

و فيه أيضا:

"وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ."(سورۃ المائدۃ: 2)

ترجمہ:” گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو۔“(بیان القرآن،ج:1،ص:444،ط: مکتبہ رحمانیہ)

و فيه أيضا:

"لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ." (المائدۃ: 51)

ترجمہ:”اے ایمان والو! تم یہود و نصاری کو دوست مت بنانا۔“(بیان القرآن،ج:1،ص:488،ط: مکتبہ رحمانیہ)

و فيه أيضا:

"وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ."(سورة لقمان: الآية 6)

ترجمہ:” بعض آدمی ایسا (بھی) ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے جو اللہ سے غافل کرنے والے ہیں ۔تاکہ اللہ کی یاد سے بے سمجھے گمراہ کرے اور اس کی ہنسی اڑائے  ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔“   (بیان القرآن،ج:3،ص:145،ط: مکتبہ رحمانیہ)

و فيه أيضا:

"وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا  إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ." (الإسراء: 26-27)

ترجمہ:”(مال کو) بے موقع مات اڑانا ؛(کیونکہ) بے شک بے موقع اڑانے والے شیطانوں  کے بھائی بند ہیں۔“(بیان القرآن،ج:2،ص:374،ط: مکتبہ رحمانیہ)

وفيه أيضا:

"إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ." (سورة المائدة: 91)

ترجمہ:” شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کر دے اور اللہ تعالی کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے ۔سو اب بھی باز اؤ گے۔“(بیان القرآن،ج:1،ص:510،ط: مکتبہ رحمانیہ)

وفيه أيضا:

"وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ."(سورة الأنفال: 46)

ترجمہ: ”نزاع مت  کرو؛ (نہ اپنے امام سے نہ آپس میں) ور نہ کم ہمت ہو جاؤ گے۔“(بیان القرآن،ج:2،ص:98،ط: مکتبہ رحمانیہ)

و فيه أيضا:

"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا." (سورة الأحزاب: 21)

ترجمہ:” تم لوگوں کے لیے یعنی ایسے لوگوں کے لیے جو اللہ سے اور روز آخرت سے ڈرتا ہو، اور کثرت سے ذکر الہی کرتا ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔“(بیان القرآن،ج:3،ص:168،ط: مکتبہ رحمانیہ)

و فيه أيضا:

"وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ."(سورة المائدة: 49)

ترجمہ: ”ان کی خواہشوں پر عمل درآمد نہ کیجئے ۔“(بیان القرآن،ج:1،ص:485،ط: مکتبہ رحمانیہ)

و فيه أيضا:

"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ."(سورة الحجرات: 10)

ترجمہ: ”مسلمان تو سب بھائی ہیں۔“(بیان القرآن،ج:3،ص:443،ط: مکتبہ رحمانیہ)

و فيه أيضا:

 "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ."(سورۃ المائدۃ: 90)

ترجمہ:” اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں ہیں شیطانی کام ہے ۔سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔“  (بیان القرآن،ج:1،ص:510،ط: مکتبہ رحمانیہ)

و فيه أيضا:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ."(سورةالتحريم:6)

ترجمہ:” اے ایمان والو تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن (اور سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں ۔جس پر تند خو (اور) مضبوط فرشتے متعین فرشتے ہیں جو خدا کی (ذرا) نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے ۔“(بیان القرآن،ج:3،ص:571،ط: مکتبہ رحمانیہ)

صحیح بخاری میں ہے:

"ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر."

(كتاب الإيمان،باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر،ج:1،ص:12،رقم الحديث: 48،ط: المكتبة المظهرية، جلشن اقبال،كراتشى)

سنن ترمذی میں ہے: 

"عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه."

(أبواب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،باب ما جاء في قلة الكلام،ج:2،ص:506،رقم الحديث: 2275،ط: رحمانية)

 سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تشبه بقوم فهو منهم."

(كتاب اللباس، باب ما جاء في الأقبية ،ج:2،ص:203،رقم الحديث: 4031،ط: رحمانية)

ترمذی شریف میں ہے:

"عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الله ليدخل بالسهم الواحد ثلاثة الجنة: صانعه يحتسب في صنعته الخير والرامي به والممد به " وقال: «ارموا واركبوا، ولأن ترموا أحب إلي من أن تركبوا، كل ما يلهو به الرجل المسلم باطل، إلا رميه بقوسه، وتأديبه فرسه، وملاعبته أهله، فإنهن من الحق»."

(أبواب فضائل الجهاد،باب ما جاء في فضل الرمي في سبيل الله ،ج:1،ص:426،ط:رحمانية)

و فيه أيضا: 

"عن ابي هريرة قال،قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا سبق إلا في خف أو حافر أو نصل."

(أبواب الجهاد، باب ما جاء في الرهان والسبق،ج:1،ص:432،رقم الحديث:1660،ط: رحمانية)

سنن ابن ماجہ میں ہے: 

 "وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ارموا واركبوا، وأن ترموا أحب إلي من أن تركبوا، وكل ما يلهو به المرء المسلم باطل، إلا رميه بقوسه، وتأديبه فرسه، وملاعبته امرأته، فإنهن من الحق."

(أبواب الجهاد،باب الرمي في سبيل الله، ص: 327،رقم الحديث: 2811،ط:رحمانية)

صحیح بخاری میں ہے:

"حدثني نافع، عن عبد الله رضي الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (كلكم راع فمسؤول عن رعيته، فالأمير الذي على الناس راع وهو مسؤول عنهم، والرجل راع على أهل بيته وهو مسؤول عنهم، والمرأة راعية على بيت بعلها وولده، وهي مسؤولة عنهم، والعبد راع على مال سيده وهو مسؤول عنه، ألا فكلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته."

(كتاب العتق،باب كراهية التطاول على الرقيق، وقوله عبدي أو أمتي،ج:1،ص:346،رقم الحديث:2553،ط: المكتبة المظهرية ، جلشن اقبال ،كراتشى)

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: رأى رجلا يتبع حمامة فقال: «شيطان يتبع شيطانة»."

(كتاب الأدب،باب في اللعب بالحمام،ج:2،ص:333،رقم الحديث:4939،ط: رحمانية)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي يحيى، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التحريش بين البهائم»."

(أبواب الجهاد،باب ما جاء في التحريش بين البهائم والوسم في الوجه،ج:1،ص:433،رقم الحديث:1668،ط: رحمانية)

سنن ابی داؤد میں ہے: 

"عن أبي علي ثمامة بن شفي الهمداني أنه سمع عقبة بن عامر الجهني يقول: «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يقول: {وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة} ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي»."

(كتاب الجهاد،باب في الرمي،ج:1،ص:363،رقم الحديث:2514،ط: رحمانية)

بذل المجہود میں ہے:

"وما في معناها (ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي).

قال في "التفسير الكبير": والمراد بالقوة ها هنا ما يكون سببًا لحصول القوة، وذكروا فيه وجوهًا: الأول: المراد من القوة أنواع الأسلحة، والثاني: أن القوة الرمي، قالها صلى الله عليه وسلم ثلاثًا على المنبر، الثالث: القوة هي الحصون، الرابع: قال أصحاب المعاني: الأولى أن يقال: هذا عام في كل ما يتقوى به على حرب العدو، وكل ما هو آلة للغزو والجهاد فهو من جملة القوة، وقوله عليه الصلاة والسلام: "القوة هي الرمي"، لا ينفي كون غير الرمي معتبرًا، كما أن قوله عليه الصلاة والسلام: "الحج عرفة" و "الندم توبة" لا ينفي اعتبار غيره، بل يدل على أن هذا المذكور جزء شريف من المقصود، فكذا ها هنا.وهذه الآية تدل على أن الاستعداد للجهاد بالنبل والسلاح وتعليم الفروسية والرمي فريضة، إلَّا أنه من فروض الكفايات."

(كتاب الجهاد،باب في الرمي،ج:9،ص:70،رقم الحديث: 2515،ط: مركز الشيخ ابي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية،الهند)

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وأخرج ابن أبي شيبة، وابن المنذر، وابن أبي حاتم عن علي رضي الله عنه قال: النرد والشطرنج من الميسر. وأخرج عبد بن حميد عن علي قال: الشطرنج ميسر الأعاجم، وأخرج عبد بن حميد، وابن أبي الدنيا في ذم الملاهي، والبيهقي في الشعب، عن القاسم أنه قيل له: هذه النرد تكرهونها فما بال الشطرنج؟ قال: كل ما ألهى عن ذكر الله وعن الصلاة فهو من الميسر، صح القول لأن الشطرنج مكروه لعبه كراهة تحريم."

(كتاب اللباس، باب التصاوير، الفصل الثالث،ج:7،ص:2859، رقم الحديث:4512،ط: دار الفكر، بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) كره (كل لهو) لقوله - عليه الصلاة والسلام – "كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة ملاعبته أهله وتأديبه لفرسه ومناضلته بقوسه" قال ابن عابدين: قوله (وكره كل لهو) أي كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:395،ط: ايچ ايم سعيد)

مرقاة المفاتيح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"و أما اتخاذ المصور بحيوان، فإن كان معلقًا على حائط سواء كان له ظل أم لا، أو ثوبًا ملبوسًا أو عمامةً أو نحو ذلك، فهو حرام، و أما الوسادة و نحوها مما يمتهن فليس بحرام، و لكن هل يمنع دخول الملائكة فيه أم لا؟ فقد سبق."

(کتاب اللباس، باب التصاویر، ج: 7، ص:2848،ط:دار الفکر) 

وفيه ايضا:

"وعنها، أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما رآها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب، فلم يدخل، فعرفت في وجهه الكراهية. قالت: فقلت: يا رسول الله أتوب إلى الله وإلى رسوله، فماذا أذنبت؟ فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما بال هذه النمرقة؟ " قلت: اشتريتها لك لتقعد عليها، وتوسدها! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن أصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة، ويقال لهم: " أحيوا ما خلقتم ". وقال: " إن البيت الذي فيه الصورة لا تدخله الملائكة» ". متفق عليه"فدل على أن التصوير حرام، وهو مشعر بأن استعمال الصور ممنوع ; لأنه سبب لذلك، وباعث عليه مع ما فيه من أنه زينة الدنيا."

(کتاب اللباس، باب التصاویر، ج: 7،ص:  2850،ط: دار الفکر) 

تکملۃ فتح الملہم میں ہے:

"فالضابط في هذا : أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام أو مكروه تحريماً، وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علی منافعه، وأنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة والمساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك  فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح،  بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل على معصية أخرى، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه."

(باب تحريم اللعب بالنردشير، حكم الألعاب في الشريعة،ج:4،ص:381،382،ط: دار إحياء التراث العربي)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: و لبس ثوب فيه تصاوير)؛ لأنه يشبه حامل الصنم فيكره. و في الخلاصة: و تكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لم يصل اهـ.

و هذه الكراهة تحريمية و ظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان، و أنه قال: قال أصحابنا و غيرهم من العلماء: تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم، و هو من الكبائر؛ لأنه متوعد عليه ... فينبغي أن يكون حرامًا لا مكروهًا إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، ج: 2، ص: 47، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)

کنز العمال میں ہے:

"كل شيء ليس من ذكر الله لهو ولعب، إلا أن يكون أربعة: ملاعبة الرجل امرأته، وتأديب الرجل فرسه، ومشى الرجل بين الغرضين، وتعليم الرجل السباحة."

(حرف اللام، كتاب اللهو واللعب والتغني من قسم الأقوال، اللهو المباح،ج:15،ص:211 ،ط:مؤسسة الرسالة)

امداد الفتاوی میں ہے:

”اگر چہ شطرنج انصاب میں جو بمعنی بت کے ہے، داخل نہیں، مگر دوسرے دلائل سے حرام ہے، اگر مع القما ر ہو تو بالاجماع؛لقوله تعالی: {انما الخمروالمیسر...} الآیة اور بدون قمار کے ہے تو مع الاختلاف، یعنی ہمارے نزدیک اس وقت بھی حرام ہے؛  لإطلاق ما روی صاحب الهدایة؛ لقوله علیه السلام: من لعب بالشطرنج والنردشیر فکأنما غمس یده في دم الخنزیر، ولقول علي رضي اﷲ عنه حین مر بقوم یلعبون بالشطرنج، فقال: ما هذه التماثیل التي أنتم لها عاکفون؟ وروی مثل هذا عن عمر رضي اﷲ عنه أیضاً حین مر بقوم یلعبون بالشطرنج، وقد شبه عملهم بعمل بعبادة الأوثان. اهـ غایة البیان ۱۲. وعن عبیداللّٰه بن عمر رضي اﷲ عنه أنه قال للقاسم بن محمد: هذه النرد یکرهونها فما بال الشطرنج؟ قال: کل ما ألهی من ذکر اللّٰه وعن الصلوٰة فهو میسر. تخریج زیلعی۱۲"...پس تقریرِ بالا سے واضح ہوا کہ شطرنج آیة: إنما الخمر و المیسر" میں مفہوماً تو داخل نہیں ،مگر حکماً و تحریماً   داخل ہے،لما مر من قول علي رضي الله عنه ما هذه التماثيل الخ  اور حالتِ فرصت میں بھی کھیلنا ائمہ ثلثہ کے نزدیک باعتبارِ مذہب کے اور شافعیؒ کے نزدیک باعتبارِ فقدانِ شرائطِ اباحت اور اتباعِ ہوی کے حرام ہے اور نفسِ حرمت میں بھی مثل خمر و میسر کے ہے ،اگرچہ بعض وجوہ سے تفاوت ہے۔“

(کتاب الحظر و الاباحۃ ،غناو مزامیر اور لہو و لعب و تصاویر کے احکام،شطرنج کا حکم،ج:4،ص:240،ط:دار العلوم کراچی)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

”تاش کھیلنا یا لڈو کھیلنا بہت برا ہے، اور اگر اس پر ہار  جیت کی ہو تو جوا ہے اور بالکل حرام ہے، گناہِ کبیرہ سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے، ایک گناہ سے بچنے کے لیے دوسرے گناہ کو اختیار کرنا بھی جائز نہیں ہے، کامیاب مؤمنین کی شان اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں یوں بیان کی ہے۔ {وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ}  کامیاب مؤمنین وہ ہیں جو لہو ولعب سے اعراض کرتے ہیں ،مولانا شیخ الہندرحمہ اللہ  لکھتے ہیں کہ: ’’خود تو لہو ولعب میں مصروف نہیں ہوئے، بلکہ اگر کوئی اور شخص بھی لہو ولعب میں مصروف ہو تو اس سے بھی اعراض کرتے ہیں‘‘، بہر حال تاش سے اجتناب ضروری ہے۔“

( باب الحظر والاباحۃ،تاش یا لڈو اس نیت سے کھیلنا کہ دیگر گناہوں سے محفوظ رہیں،ج:11،ص:259، ط: اشتیاق پریس لاہور)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101891

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں