بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1448ھ 24 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر مالی سرمایہ اور عقدِ شرکت کے منافع اور قرض میں شراکت ثابت نہیں ہوتی


سوال

میں پہلے ملازمت (نوکری) کرتا تھا، جبکہ میرے والد صاحب اپنی الگ دکان چلاتے تھے۔ بعد ازاں میں نے ملازمت چھوڑ کر اپنے ماموں سے تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے (4,50,000) اور کچھ دیگر افراد سے بھی قرض لے کر کرائے کی ایک دکان پر اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا۔ اس کاروبار کو شروع کرنے کے لیے میں نے اپنے والد صاحب سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا، یعنی کاروبار میں والد صاحب کا کوئی سرمایہ (رقم) نہیں لگا۔

کچھ عرصے بعد والد صاحب کی اپنی دکان نہ چل سکی، جس کی وجہ سے انہوں نے وہ کام چھوڑ دیا اور میری دکان پر آ کر میرے ساتھ بیٹھنے لگے۔ ہمارے درمیان ایسی کوئی بات یا تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ والد صاحب اب اس کاروبار میں میرے شریک (پارٹنر) بن رہے ہیں، بلکہ وہ بغیر کسی شراکت داری کے معاہدے کے دکان پر بیٹھتے ہیں۔

اس دوران میں گھر کے ماہانہ اخراجات کے لیے باقاعدگی سے 25 سے 30 ہزار روپے دیتا رہا ہوں، اور والد صاحب کے مطالبے پر انہیں ان کے ذاتی خرچ کے لیے الگ سے 10 ہزار روپے ماہانہ بھی دیتا رہا ہوں۔ فی الوقت اس کاروبار پر تقریباً 3 لاکھ روپے کا قرض ہے جو میں نے کاروبار ہی کی ضرورت کے لیے لیا تھا۔ واضح رہے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں مشترکہ طور پر رہتا ہوں۔

مذکورہ بالا صورتِ حال کے پیشِ نظر درج ذیل دو سوالات کے شرعی حکم مطلوب ہیں:

1-  کاروبار پر موجود تقریباً 3 لاکھ روپے کا یہ قرض کس کے ذمے لازم ہوگا؟ میرے ذمے یا میرے والد صاحب کے ذمے؟ جبکہ والد صاحب بھی دکان پر بیٹھتے ہیں لیکن انہوں نے کاروبار میں کوئی رقم نہیں لگائی۔

2-  اس کاروبار سے جو بھی بچت یا منافع حاصل ہوتا ہے اور اس سے جو رقم جمع ہوتی ہے، وہ شرعاً کس کی ملکیت شمار ہوگی؟ میری یا میرے والد صاحب کی؟

جواب

واضح رہے کہ کاروبار کی ملکیت کا مدار سرمائے (Capital) اور عقد (Contract) پر ہوتا ہے۔ چونکہ مذکورہ کاروبار سائل نے اپنے حاصل کردہ قرض سے شروع کیا اور والد صاحب کا اس میں کوئی مالی سرمایہ نہیں لگا، اور نہ ہی ان کے درمیان شراکت داری (Partnership) کا کوئی معاہدہ ہوا، لہٰذا شرعاً اس کاروبار کے تنہا مالک سائل ہی ہیں۔ کاروبار پر موجود 3 لاکھ روپے کا قرض سائل کے ذمے واجب الادا ہے اور کاروبار کا تمام منافع و بچت بھی سائل ہی کی ملکیت ہے ۔اور  والد صاحب کا دکان پر بیٹھنا بطور "معاون" (Helper) شمار ہوگا، جس سے وہ کاروبار میں شریکِ مِلک نہیں بن جاتے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"«كتاب الشركة لا يخفى مناسبتها للمفقود من حيث الأمانة، بل قد تحقق في ماله عند موت مورثه (هي) بكسر فسكون في المعروف لغة الخلط، سمي بها العقد لأنها سببه. وشرعا (عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح) جوهرة.

(وركنها في شركة العين اختلاطهما، وفي العقد اللفظ المفيد له)

«وقوله اختلاطهما أي اختلاط المالين بحيث لا يتميز أحدهما، وعبر بالاختلاط تبعا للفتح مع أن مقتضى ما مر التعبير بالخلط تأمل. (قوله اللفظ المفيد له) أي لعقد الشركة، وهو الإيجاب والقبول ولو معنى كما سيأتي.»

(كتاب الشركة، ج:4، ص: 298-299، ط:دار الفکر)

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"(وأما ‌شركة ‌العنان) فهو أن يشترك الرجلان برأس مال يحضره كل واحد منهما، ولا بد من ذلك، إما عند العقد، أو عند الشراء حتى أن الشركة لا تجوز برأس مال غائب، أو دين."

(كتاب الشركة: ج:11،ص: 152، ط: دار المعرفة، بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌اعلم ‌أن ‌أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك، فلو استولى في مفازة على حطب غيره لم يملكه ولم يحل للمقلش ما يجده بلا تعريف، وتمام التفريع في المطولات."

 

(کتاب الصید،ج: 6، ص: 463، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101703

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں