بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

میری شادی کے بعد اگر میری بیوی موٹی ہو جائے، تو میں اسے ساتھ ہی طلاق دے دوں گا، ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق، بائن طلاق۔ کا حکم


سوال

​میری عمر جب تقریباً ساڑھے چودہ یا پندرہ سال تھی اور میں اس وقت شرعاً مکمل بالغ تھا، دوستوں کی ایک مجلس میں گفتگو کے دوران میں نے جذبات میں آکر نادانی سے یہ جملہ کہا تھا: "میری شادی کے بعد اگر میری بیوی موٹی ہو جائے، تو میں اسے ساتھ ہی طلاق دے دوں گا، ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق، بائن طلاق۔" میں نے یہ تمام الفاظ استعمال کیے۔ ​واضح رہے کہ جس وقت میں نے یہ الفاظ کہے، اس وقت نہ تو میری شادی ہوئی تھی، نہ کوئی لڑکی میرے نکاح یا مِلک میں تھی، اور نہ ہی میں نے کسی خاص لڑکی، خاندان یا شہر کی طرف نسبت کی تھی (یعنی جملہ بالکل عام اور مبہم تھا)۔ ​بعد میں جب میں نے کتاب "بہشتی زیور" کا مطالعہ کیا، تو مجھے احساس ہوا کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی اور کوتاہی ہوئی ہے۔ اس کے بعد سے میں شدید نادم و شرمندہ ہوں اور مسلسل اللہ رب العزت کے حضور استغفار کر رہا ہوں۔ ​اب جامعہ کے مفتیانِ کرام سے گزارش ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کہ کیا مستقبل میں میری شادی ہونے کے بعد اگر بیوی موٹی ہو جائے، تو کیا شرعاً کوئی طلاق واقع ہو جائے گی؟ یا یہ جملہ لغو اور باطل شمار ہوگا؟ ​براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ ​

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کے مذکورہ الفاظ  "میری شادی کے بعد اگر میری بیوی موٹی ہو جائے، تو میں اسے ساتھ ہی طلاق دے دوں گا، ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق، بائن طلاق۔"تعلیق کے نہیں ہیں،  یعنی شادی اور بیوی کے موٹے ہونے پر طلاق معلق نہیں ہوئی، بلکہ یہ تو بیوی کے موٹے ہونے کی صورت میں طلاق دینے کا ارادہ ہے، لہذا اگر سائل شادی کرے گا اور اس کی بیوی موٹی ہوجائے گی تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ:

"صيغة ‌المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(کتاب الطلاق، ج نمبر: 1، ص نمبر:38، دار المعرفۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى) ويسمى يمينا مجازا.

قوله واصطلاحا ربط إلخ) فهو خاص بالمعنوي والمراد بالجملة الأولى في كلامه جملة الجزاء، وبالثانية جملة الشرط، وبالمضمون ما تضمنته الجملة من المعنى، فهو في مثل إن دخلت الدار فأنت طالق ربط حصول طلاقها بحصول دخولها الدار."

(کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج:3،ص:341،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101560

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں