بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الاول 1448ھ 30 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں برادری، ذات اور لڑکی کی رضامندی کی شرعی حیثیت


سوال

اگر ایک لڑکی کسی کو پسند کرتی ہے، وہ ذات آپ سے چھوٹی ہے لیکن لڑکا کمانے میں، سیرت میں افضل ہو تو کیا ذات کی بنیاد پر لڑکی کا رشتہ نہیں کرنا چاہیےاور زبردستی اپنی ذات میں ہی کرنا چاہیے؟ کیا قرآن و حدیث میں ہے کہ آرائیں ذات بہتر ہے باقی ذاتوں سے؟ یا راجپوت ذات سب سے بہتر ہے؟یا کون سی ذات سب سے اعلیٰ ہے قرآن و حدیث میں؟

کیا اللہ اس چیز کا حکم دیتا ہے کہ اگر ذات اچھی نہیں ہے تو لڑکی کو ساری عمر گھر بٹھاۓ رکھیں یا کسی غریب کے ساتھ اپنی ذات میں شادی کر دیں؟

گھر والے کہتے ہیں کہ اسلام کہتا ہے کہ اپنی مرضی سے لڑکی کی شادی کرنی چاہیے اور ماں باپ کریں گے تو بہتر ہوگا، اگر نہیں بھی ہو گا تو وہ لڑکی کی قسمت لیکن اگر تم اپنی پسند سے کرو گی تو کبھی خوش نہیں رہو گی اور وہ تمہاری اپنی غلطی ہو گی۔

کیا اسلام میں یہ ہے کہ لڑکی کی مرضی سے اگر شادی کریں تو قطع تعلق کر دیں یا اُسے مار دیں؟ اور اگر اپنی مرضی سے زبردستی اُس کی شادی کریں تو وہ ٹھیک ہے؟

کیا برادری یا معاشرے کے مطابق چلنا چاہیے؟ میرے بھائی کا کہنا ہے کہ جب معاشرہ ایک جیسا ہو تو معاشرے میں رہنے کے لیے آپ کو معاشرے کے مطابق چلنا چاہیے چاہے کچھ بھی ہو ورنہ آپ کی عزت نہیں ہوتی۔

جواب

واضح رہے کہ اسلام میں نکاح کے لیے کفاءت (برابری) کا تصور موجود ہے، جس کا مقصد زوجین کے درمیان ہم آہنگی اور خاندان کے لیے عار  سے بچنا ہے،اسی وجہ سےاگر بالغہ عورت غیرِ کفو میں نکاح کرے تو بعض صورتوں میں اولیاء کو شرعاً اعتراض اور فسخ کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

فقہائے کرام کے مطابق برابری کے معتبر ہونے کی پانچ یا چھ بنیادی چیزیں ہیں: نسب، اسلام، حریت (آزادی)، دیانت (تقویٰ)، مال اور پیشہ ہے، نسب کے اعتبار سے قریش ایک دوسرے کے برابر ہیں، اور دیگر عرب قبائل ایک دوسرے کے برابر ہیں، نیز تمام عجم نسب کے اعتبار سے ایک دوسرے کے کفو ہیں، کسی آرائیں یا راجپوت کو غیر آرائیں اور غیرراجپوت پر نسب کے اعتبار سے کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے، سبھی ایک دوسرے کے کفو ہیں۔

تاہم، اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے،لہذا مسئولہ صورت میں اگر لڑکا سیرت اور کردار میں اچھا ہے ، تو محض ذات کی بنیاد پر انکار کرنا یا لڑکی کو زبردستی اپنی برادری میں مجبور کرنا درست نہیں ہے،نیز قرآن کریم میں مذکورہ تقابل موجود نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم دیا ہے تاکہ فتنہ و فساد سے بچا جا سکے۔ اگر کسی کفو (برابر کے رشتہ) سے انکار کیا جائے تو یہ ظلم ہے۔

یہ سوچنا کہ ذات اچھی نہ ہو تو لڑکی کو بٹھائے رکھا جائے، اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

یہ بات واضح رہے کہ بالغہ لڑکی (خواہ کنواری ہو یا ثیبہ) کو اس کی مرضی کے بغیر نکاح پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی رضامندی شرط ہے،بالغہ لڑکی کا زبردستی نکاح کرانا درست نہیں۔

اسلام میں والدین کے ادب اور مشورے کی بڑی اہمیت ہے، لیکن لڑکی کو اس کے شرعی حق (پسند کی شادی بشرطیکہ وہ کفو میں ہو) کے استعمال پر مارنا یا قطع تعلق کرنا (قطع رحمی) حرام ہے۔البتہ والدین کی رضامندی اور مشورہ حاصل کرنا مستحب اور باعثِ برکت ہے، اور اولاد کو حتی المقدور والدین کو اعتماد میں لے کر معاملہ حل کرنا چاہیے، کیوں کہ شریعت نے والدین کے احترام کی بھی بڑی تاکید کی ہے۔

معاشرتی عزت اپنی جگہ، لیکن جہاں معاشرتی رسم و رواج اسلام کے عطا کردہ حقوق سے ٹکرائیں، وہاں شریعت کو مقدم رکھا جائے گا۔ برادری کی جھوٹی انا کی خاطر کسی کی زندگی تباہ کرنا یا اسے گناہ کی طرف دھکیلنا اسلام میں جائز نہیں ہے۔ کفاءت کا مقصد خاندان کی سہولت ہے، نہ کہ ظلم کا ذریعہ بنانا۔

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

"وقال عليه الصلاة والسلام: ليس لعربي على عجمي فضل إلا بالتقوى."

(كتاب النكاح، ج:3، ص:101، ط:مطبعة الحلبي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ."

(كتاب النكاح، باب الولي، ج:3، ص:58، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101445

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں