
ہمارے والد صاحب کا تین ماہ قبل انتقال ہو گیا ، انہوں نے ترکے میں گاؤں میں مکان اور زمین چھوڑ ی ہے جب کہ کراچی میں ایک عدد د کان جو کہ تقریبا ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کرایہ پر دی ہوئی ہے، جب کہ وارثین میں ہم تین بھائی اور دو بہن اور والدہ صاحبہ ہیں، جن میں ایک بہن نے شادی نہیں کی، مسئلہ یہ ہے کہ ہم زمین کے ساتھ ساتھ دکان کے کرائے کو آپس میں کس طرح تقسیم کریں گے اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کریں تاکہ ورثاء کو جائز حق مل سکے۔
وضاحت: باقی جائیداد تقسیم ہوچکی ہے ،صرف ایک د کان کراچی کی باقی ہے جو تقسیم نہیں کرنا چاہ رہے کرایہ پر رکھنا چاہ رہے ہیں،سب ورثاء راضی ہیں۔اس کرایہ کی تقسیم کا طریقہ کار پوچھنا مقصد ہے۔
اگر سائل اور اس کے تمام بھائی بہن نیز والدہ اس بات پر متفق ہیں کہ کراچی والی دوکان کو فی الحال تقسیم نہ کیا جائے بلکہ کرایہ پر دیا جائے تو اس کی شرعاً اجازت ہے، حاصل ہونے والا کرایہ تمام ورثاء میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا ، یعنی مرحوم کی بیوہ کو کرایہ کا 12.5فیصد،ہرایک بیٹۓ کو 21.875 فیصد،ہرایک بیٹی کو 10.937فیصد ملےگا۔
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (۱۳۰۸) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (۸۸) ............. إيضاح بدل الإيجار: لو أجر الشركاء الحانوت المشترك بينهم لآخر فيجب تقسيم بدل الإيجار بينهم حسب حصصهم في الحانوت."
(الكتاب العاشر الشركات، الفصل الثاني، ج:3، ص:26،27، ط: دار الجيل)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101211
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن