
کیا درج ذیل حدیث کتاب فردوس الاخبار میں موجود ہے ؟ حوالہ ، سند اور تشریح کے ساتھ رہنمائی کیجیے :
’’خبردار! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو لوگوں کی تعریف و تحسین کی محبت کے ساتھ نہ ملاؤ، ورنہ تمہارے اعمال ضائع اور برباد ہو جائیں گے۔‘‘
علامه ابن حجر رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت کی سند یوں نقل فرمائی ہے:
"قال: أخبرنا أبي، أخبرنا محمد بن عثمان الإمام، حدثنا أبو محمد الأبهري، حدثنا أبو علي أحمد بن محمد القومساني، حدثنا علي بن عامر، حدثنا حميد بن عبد الرحمن بن عبد الله، حدثنا خداش بن مخلد، حدثنا الفضل بن عيسى، عن عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: إياكم أن تخلطوا طاعة الله بحُبّ ثناء العباد فتحبط أعمالكم. "
)الغرائب الملتقطة، (3/ 233) برقم (1007)، ط: جمعية دار البرّ، الإمارات العربية المتحدة دبي)
حكمِ حديث:
یہ روایت ضعیف ہے، دیلمی ؒ کے علاوہ کسی اور کے ہاں اس کی تخریج نہیں ملتی، بعد کے دیگر حضرات نے بھی دیلمی ؒ کے حوالہ سے اسے نقل فرمایا ہے،نیز اس کی سند میں ’’عباد بن منصور الناجی‘‘ نامی ایک راوی ہے جو ضعیف ہے۔
امام ابو حاتم ؒ نے فرمایا: یہ ضعیف الحدیث تھا، اس کی حدیث لکھی جاتی تھی، لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس نے یہ احادیث ’’ابراہیم بن ابی یحییٰ‘‘ سے، اور انہوں نے داؤد بن حصین سے، اور انہوں نے عکرمہ سے حاصل کی تھیں۔
اور ابن حبان ؒنےفرمایاکہ: وہ قدری (قدر کے منکر نظریے کا حامل) تھا اور لوگوں کو اس نظریے کی دعوت بھی دیتا تھا، اور جب بھی وہ عکرمہ سے روایت کرتا، تو دراصل اس نے اسے ابراہیم بن یحییٰ سے سنا ہوتا، انہوں نے داؤد بن حصین سے، اور انہوں نے عکرمہ سے روایت کیا ہوتا؛ لیکن وہ درمیان کے ان راویوں کو چھپا کر اسے براہِ راست عکرمہ سے روایت کر دیتا تھا۔
’’تہذیب التہذیب‘‘ لابن حجر ؒ میں ہے:
"قال أبو حاتم: كان ضعيف الحديث، يكتب حديثه، ونرى أنه أخذ هذه الأحاديث عن إبراهيم بن أبي يحيى، عن داود بن الحصين، عن عكرمة... وقال (ابن حبان): كان قدريا داعية إلى القدر، وكلما روى عن عكرمة سمعه من إبراهيم بن يحيى بن أبي يحيى عن داود بن الحصين عنه فدلسها عن عكرمة. "
)تهذيب التهذيب، من اسمه عباد، (5/ 104، 105)، ط: دائرة المعارف)
تشریح:
اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کا اصل مقصد اس کی رضا اور خوشنودی ہے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، واہ واہ اور شہرت، جب انسان نیکی کرتے ہوئے یہ چاہنے لگے کہ لوگ اسے نیک، متقی یا عبادت گزار سمجھیں تو یہ ریاکاری ہے، اور ریا اخلاص کی ضد اور نہایت خطرناک بیماری ہے، یہ بظاہر نیکی کو خوب صورت بناتی ہے، مگر باطن میں اس کے اجر کو برباد کر سکتی ہے۔ اس لیے مومن کو چاہیے کہ اپنے ہر عمل میں اخلاص کی حفاظت کرے، لوگوں کی مدح و تحسین سے بے نیاز رہے اور صرف یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل سے راضی ہے یا نہیں۔
فردوس الأخبار بمأثور الخطاب میں ہے:
ابن عباس"إياكم أن تَخْلِطُوا طاعتهَ بِحُبِّ ثناء العباد، إياكم فَتَحبط أعمالُكم".
(فردوس الأخبار بمأثور الخطاب المخرج على كتاب الشهاب، (1/471)، رقم: (1567)،ط: دار الكتاب العربي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101135
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن