
1:کیا مرد اپنی بیوی کو وفات کے بعد غسل دے سکتا ہے؟اور کیا وہ اس کا چہرہ دیکھ سکتا ہے؟کیا شوہر بیوی کا جنازہ کندھے پر اٹھا سکتا ہے؟کیا وہ اس کو قبر میں اتار سکتا ہے؟
2:کیا عورت اپنے شوہر کی وفات پر اس کو غسل دے سکتی ہے؟
1:بیوی کے انتقال کے بعد شوہربیوی کو صرف دیکھ سکتا ہے۔ ہاتھ لگانے اور غسل وکفن کی اجازت نہیں۔نیز شوہراپنی بیوی کا جنازہ کندھے پر اٹھا سکتا ہے اوربیوی کو اس طرح قبر میں اتارنا کہ بیوی کے جسم کو ہاتھ نہ لگے تو یہ جائز ہے،تاہم دوسرے محارم( باپ، بیٹا، بھائی، چچا، ماموں وغیرہ میں سے)کوئی موجود ہوں تو ان کا حق زیادہ ہے۔
2:شوہر کے انتقال کی صورت میں دورانِ عدت مرحوم شوہر کا حق اس کی بیوہ پر برقرار رہتا ہے، اور نکاح بھی عدت مکمل ہونے تک قائم رہتا ہے، لہٰذا اگر مرحوم شوہر کو غسل دینے والا کوئی مرد نہ ہو تو بیوہ اسے غسل دے سکتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح) منية.
(قوله ويمنع زوجها إلخ) أشار إلى ما في البحر من أن من شرط الغاسل أن يحل له النظر إلى المغسول فلا يغسل الرجل المرأة وبالعكس. اهـ."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج: 2، ص: 198، ط: سعید)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"عورت کو اس کا شوہر قبر میں اتار سکتا ہے یا نہیں؟
سوال[4192] : شوہر کی حیات میں اگر عورت کا انتقال ہوجائے تو مرحومہ حلقہ شوہریت سے نکل جاتی ہے یا نہیں اور مرد کا بحیثیتِ نا محرم ہونا درست ہے یا نہیں؟ نیز حقیقی محرم جیسے باپ، بھائی، بیٹا وغیرہ کی موجودگی میں شوہر مذکور مرحومہ کو قبر میں اتار سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب حامداً و مصلیاً:
انتقال سے نکاح ختم ہوجاتا ہے، ہاتھ نہیں لگا سکتا، البتہ دیکھنا درست ہے۔ جب محرم باپ، بھائی وغیرہ موجود ہوں تو تو وہ مقدم ہیں، وہی قبر میں اتاریں، شوہر کو بھی اتارنا اور جنازہ کو ہاتھ لگانا درست ہے۔"
(باب الجنائز، ج:9، ص:63، ط:ادارۃ الفاروق)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"وذو الرحم المحرم أولى بإدخال المرأة من غيرهم، كذا في الجوهرة النيرة وكذا ذو الرحم غير المحرم أولى من الأجنبي فإن لم يكن فلا بأس للأجانب وضعها، كذا في البحر الرائق، ولا يدخل أحد من النساء القبر، كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الصلاۃ، الباب احادی والعشرون فی الجنائز،الفصل السادس فی القبر والدفن والنقل، ج: 1، ص: 166، ط: دارالفکر)
وفیہ ایضاً:
"ويغسل الرجال الرجال والنساء النساء ولا يغسل أحدهما الآخر فإن كان الميت صغيرا لا يشتهى جاز أن يغسله النساء وكذا إذا كانت صغيرة لا تشتهى جاز للرجال غسلها والمجبوب والخصي في ذلك كالفحل ويجوز للمرأة أن تغسل زوجها إذا لم يحدث بعد موته ما يوجب البينونة من تقبيل ابن زوجها أو أبيه وإن حدث ذلك بعد موته لم يجز لها غسله وأما هو فلا يغسلها عندنا، كذا في السراج الوهاج."
(كتاب الجنائز، ج: 1 ، ص: 160، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101087
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن