
بنگلہ دیش میں عام لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر کوئی شخص فاحش زنا کار ہو اور دوسروں کی عزت لوٹے، تو اس قبیح عمل کا بدلہ اس کے اہل وعیال، بیوی بچیوں وغیرہ سے لیا جاتا ہے، یعنی یہ گویا ایک قرض بن جاتا ہے جسے اسے بہرحال ادا کرنا ہی پڑتا ہے (بعض لوگ اسے بنگالی محاورے میں بھی بیان کرتے ہیں، جیسے "پاپ باپ کو بھی نہیں چھوڑتا")۔
اس کے برعکس جو شخص طہارت، پاکیزگی اور تقویٰ اختیار کرے اور بچپن سے ہی پاکیزہ زندگی گزارتے ہوئے پروان چڑھے، تو کس حد تک یہ یقین کیا جائے کہ اس کی اولاد، اہل وعیال، بیوی بچیاں بھی یقینی طور پر اسی کی طرح نیک اور پاکیزہ اوصاف کی مالک ہوں گی، اور کسی طرح ظاہراً و باطناً کسی فحاشی کی مرتکب نہ ہوں گی؟ یعنی جیسے گھر کا سربراہ (شوہر، باپ) خود جن اوصاف و خوبیوں و خامیوں کا مالک ہو، کیا اس کی بیوی بچیوں کو بھی ویسا ہی سمجھا جانا درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں "زنا ایک قرض ہے، جس کی ادائیگی آدمی کو اپنے گھر کی عورتوں سے کرنی پڑتی ہے" یہ مضمون نہ کسی حدیثِ صحیح سے ثابت ہے اور نہ اسے کوئی شرعی قاعدہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں جو روایت «عِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ» کے الفاظ سے مشہور ہے، محدثین نے اسے ثابت قرار نہیں دیا، بلکہ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے "الموضوعات" میں ذکر کرکے فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ اور مذکورہ مضمون دراصل بعض اشعار میں وارد ہوا ہے، جن میں زنا سے روکنے کے لیے اسے قرض سے تعبیر کیا گیا ہے، تاکہ آدمی اپنے گھر کی عورتوں کی پاک دامنی کا خیال کرکے اس گناہ سے باز آجائے۔
اس مضمون کی اصل بنیاد وہ حدیثِ صحیح ہے جس میں ایک نوجوان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زنا کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکمت کے ساتھ منع فرمایا اور اس کی طرف متوجہ کیا کہ اگر اس کی ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی یا خالہ کے ساتھ ایسا کیا جائے تو اسے کیسا محسوس ہوگا؟ گویا جس عورت سے زنا کیا جائے، وہ بھی کسی کی ماں، بیٹی یا بہن ہے، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔
لہٰذا اس مضمون کو حدیث کہہ کر بیان کرنا یا اسے یقینی قاعدہ سمجھنا درست نہیں؛ اور نہ یہ لازم ہے کہ ایک شخص کے گناہ کی نحوست سے اس کے گھر کی عورتیں بھی اسی گناہ میں مبتلا ہوں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسی ایک کے گناہ کی سزا دوسرے کو نہیں دیتا، اور قرآنِ کریم میں تصریح ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ البتہ بطورِ نصیحت و تنبیہ اتنی بات کہنے میں حرج نہیں کہ جو شخص دوسروں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالتا ہے، اسے ڈرنا چاہیے کہ کہیں اس کے اپنے گھر کی حرمت پامال نہ ہوجائے۔
نیز والدین کی نیکی، تقویٰ اور صلاح کا اثر ان کی اولاد پر، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پڑتا ہے ، جیسا کہ قرآنِ کریم میں مذکور ہے کہ ایمان والوں کی اولاد کو ایمان کی بنیاد پر ان کے ساتھ ملا دیا جائے گا، اور سورۂ کہف میں دو یتیم بچوں کے خزانے کی حفاظت کی وجہ ان کے والد کی نیکی بیان کی گئی۔ تاہم اسے بھی یقینی و لازمی قاعدہ نہیں بنایا جاسکتا کہ نیک آدمی کی اولاد اور اہلِ خانہ لازماً نیک ہی ہوں گے اور ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوگا؛ کیوں کہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے، اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کے گھرانوں میں بھی اس کے برخلاف واقعات موجود ہیں، جیسےحضرت نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کافر ہے اور فرعون کی اہلیہ کی موت ایمان کی حالت میں ہوئی۔ بہرحال یہ کہ نیکی کا اثر بیوی بچوں پر پڑنے کی امید رکھنا اور اس کے لیے دعا کرنا مطلوب ہے، مگر اسے قطعی و لازمی سمجھنا درست نہیں۔
قرآنِ کریم میں ہے:
«ولا تزر وازرة وزر أخرى».
(سورۃ الأنعام: 164)
«وأن ليس للإنسان إلا ما سعى».
(سورۃ النجم: 39)
«والذين آمنوا واتبعتهم ذريتهم بإيمان ألحقنا بهم ذريتهم وما ألتناهم من عملهم من شيء، كل امرئ بما كسب رهين».
(سورۃ الطور: 21)
«وكان أبوهما صالحا، فأراد ربك أن يبلغا أشدهما ويستخرجا كنزهما رحمة من ربك».
(سورۃ الكهف: 82)
«ضرب الله مثلا للذين كفروا امرأة نوح وامرأة لوط، كانتا تحت عبدين من عبادنا صالحين فخانتاهما».
(سورۃ التحریم: 10)
مسند احمد میں ہے:
«عن أبي أمامة قال: إن فتى شابا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، ائذن لي بالزنا، فأقبل القوم عليه فزجروه وقالوا: مه مه. فقال: ادنه، فدنا منه قريبا، قال: فجلس. قال: أتحبه لأمك؟ قال: لا والله، جعلني الله فداءك. قال: ولا الناس يحبونه لأمهاتهم... قال: فوضع يده عليه وقال: اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه وحصن فرجه. قال: فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء».
(مسند الأنصار، حديث أبي أمامة الباهلي، رقم الحدیث: 22211، ج:36، ص:545، ط: مؤسسة الرسالة)
الموضوعات لابن الجوزی میں ہے:
«عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بروا آباءكم تبركم أبناؤكم، وعفوا تعف نساؤكم، ومن تنصل إليه فلم يقبل فلن يرد على الحوض. هذا حديث لا يصح».
(ج:3، ص:85، ط: دار الفكر)
كشف الخفاء میں ہے:
«عفوا تعف نساؤكم، وبروا آباءكم تبركم أبناؤكم. رواه الطبراني عن جابر، والديلمي عن علي مرفوعا: لا تزنوا فتذهب لذة نسائكم، وعفوا تعف نساؤكم، إن بني فلان زنوا فزنت نساؤهم... وللعلامة المقري:عفوا تعف نساؤكم في المحرم ... وتجنبوا ما لا يليق بمسلممن يزن في قوم بألفي درهم ... في أهله يزنى بربع الدرهمإن الزنا دين إذا أقرضته ... كان الوفا من أهل بيتك فاعلم».
(ج:2، ص:71، ت: هنداوي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101062
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن