
ایک استاد اپنے گھر سے ایسی جگہ تدریس کے لیے جاتا ہے جو اس کے گھر سے 72 کلومیٹر سے کم فاصلے پر ہے، اس لیے وہاں جاتے ہوئے وہ شرعی مسافر نہیں بنتا اور پوری نماز ادا کرتا ہے۔
بعض اوقات جب وہ اپنے گھر سے دوبارہ مدرسے کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کی نیت یہ ہوتی ہے کہ اس دفعہ مدرسے میں تین یا چار دن قیام کرنے کے بعد وہاں سے کسی دوسری جگہ جائے گا، جہاں کا فاصلہ شہر کی حدود سے 78 کلومیٹر سے زیادہ ہے، یعنی وہاں جانے سے شرعی مسافتِ سفر پوری ہو جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں جب وہ اپنے گھر سے اس نیت کے ساتھ نکلے کہ پہلے مدرسے جائے گا، پھر تین چار دن بعد وہاں سے دوسری (مسافتِ سفر والی) جگہ روانہ ہوگا، تو اس وقت وہ قصر کرے گا یا پوری نماز پڑھے گا؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کاجب اپنے وطن سے ہی یہ ارادہ ہے کہ 78کلومیٹرسے زیادہ مسافت پر جاناہے، درمیان میں مدرسہ جاکر تین یا چاردن ٹہرتاہے تو اس صورت میں مذکورہ شخص اپنے شہر یا گاؤں کی حدود سے نکلتے ہی مسافر شمار ہوگا نماز میں قصر کرےگا، اگرچہ اس کا ارادہ راستے میں مدرسے میں تین چار دن کا قیام کرنے کاہو۔
الدر المختار میں ہے:
"من (من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر...(قاصدا)...(مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة، ولا يشترط سفر كل يوم إلى الليل بل إلى الزوال، ولا اعتبار بالفراسخ على المذهب(بالسير الوسط مع الإستراحات المعتادة) حتى لو أسرع فوصل في يومين قصر،(صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا...(حتى يدخل موضع مقامه)...(أو ينوي)...(إقامة نصف شهر) حقيقة أو حكما...(بموضع) واحد (صالح لها) من مصر أو قرية أو صحراء دارنا وهو من أهل الاخبية (فيقصر إن نوى) الاقامة (في أقل منه) أي في نصف...(فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر...(أو دخل بلدة ولم ينوها) أي مدة الإقامة (بل ترقب السفر) غدا أو بعده (ولو بقي) على ذلك (سنين)."
(كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، ج: 1، ص: 105، ط: سعید)
منحۃ الخالق حاشیہ البحر الرائق میں ہے:
"والذي يظهر لي في التوفيق أنه إذا كان مسافرا فأقام في بلد دون نصف شهر لم يعتبر هذا الوطن أصلا؛ لأنه يقصر فيه فإذا خرج منه، ثم رجع إليه يقصر أيضا، وعليه يحمل كلام المحققين الذين لم يعتبروا وطن السكنى كما يفيده ما نقله المؤلف عنهم."
(كتاب الصلاة، باب المسافر، ج: 2، ص: 148، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی ہندیہ ميں ہے
"وإن نوى الإقامة أقل من خمسة عشر يوما قصر، هكذا في الهداية."
البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
"ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر. وإن نوى أقل من ذلك قصر؛ لأنه لا بد من اعتباره مدة،(وإن نوى أقل من ذلك) ش: أي من خمسة عشر يوما. م: (قصر) ش: صلاته. م: (لأنه) ش: أي لأن الشأن. م: (لا بد من اعتبار مدة، لأن السفر يجامعه اللبث) ش: يعني أن المسافر، ربما يلبث في بعض المواضع لمصلحة له كانتظار الرفقة أو شراء السلعة فلا يعتبر ذلك، فلا بد من أن يقدر اللبث مدة."
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج: 3، ص: 17، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"سوال یہ ہے کہ اگر کوئی 15 دن یا زائد کی نیت کر کے چلتا ہے تو وہ راستے میں قصر کرے گا یا نہیں؟
جواب: جو شخص تین منزل کی مسافت 48 میل کا ارادہ کر کے سفر کرتا ہے تو وہ راستہ میں قصر کرے گا۔
اگر 48 میل یا اس سے زائد کا سفر تو کرتا ہے مگر درمیان میں ٹھہرتا ہوا جائے گا اور یہ ٹھہرنا 15 روز سے کم ہوگا تو یہ شخص مسافر ہے، سفر میں قصر کرے گا۔ "
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
"(سوال ۲۲۱۰) ہم لوگ پندرہ سال سے قصبہ تراوڑی میں تجارت کرتے ہیں اور مال لا کر فروخت کرتے ہیں اور یہاں آکر دیہات کو چلے جاتے ہیں۔ مگر مکان کرایہ پر لے رکھا ہے۔ مکان سے جب ہم آتے ہیں چار پانچ مہینہ رہتے ہیں مگر پندرہ روز ٹھہرنا نہیں ہوتا۔ دو روز باہر جاتے ہیں دو روز تراوڑی رہتے ہیں۔ نیت یہ ہوتی ہے کہ چار ماہ رہ کر وطن جائیں گے تو نماز قصر پڑھیں یا پوری۔؟ (جواب) جب کہ اس جگہ جہاں آپ لوگ بغرض تجارت جاتے ہیں پندرہ دن کے قیام کی نیت نہیں ہوتی بلکہ یہ نیت ہوتی ہے کہ دو چار دن ٹھہر کر باہر دیہات میں پھریں گے۔ کسی گاؤں میں دو دن کسی میں چار دن رہیں گے۔ اسی طرح چار پانچ مہینہ گزارے جاتے ہیں تو اس صورت میں نماز قصر پڑھنی چاہئے کذا فی کتب الفقہ۔"
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100830
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن