
1:نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟ان کے کیا معنی ہیں؟اور کون افضل ہے؟
2:کیا شیطان اور جنات ایک ہی مخلوق ہیں؟یہ انسان کو کیوں تنگ کرتے ہیں حالانکہ انسان تو اشرف المخلوقات ہے؟انسان انہیں نہیں دیکھ سکتا ہے اور وہ انسان کو دیکھ سکتے ہیں۔ان کا ٹھکانہ کیا ہوتا ہے؟ ان کی اولاد ہوتی ہے کہ نہیں؟ان کا کھانا پینا کیا ہوتا ہے؟
1:نبی اور رسول دونوں کے ہم معنی یا مختلف المعنی ہونے میں اختلاف ہے،راجح یہ ہے کہ دونوں میں فرق ہے،اور دونوں میں فرق ہونے کے بارے میں متعدد اقوال ہیں، مشہور یہ ہے کہ ’’رسول‘‘ اس پیغمبر کو کہتے ہیں جس کو نئی کتاب اور نئی شریعت دی گئی ہو۔ اور ’’نبی‘‘ ہر پیغمبر کو کہتے ہیں، چاہے اسے نئی شریعت دی گئی ہو یا نہ دی گئی ہو اور وہ اپنے سے پہلے والےرسول کی اتباع کرتے ہوئے اس کی شریعت کی تبلیغ کرے۔
مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب ؒدونوں کےفرق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ان دونوں میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے، ’’رسول‘‘ وہ ہے جو مخاطبین کو شریعتِ جدیدہ پہنچائے، خواہ وہ شریعت خود اس رسول کے اعتبار سے بھی جدید ہو جیسے تورات وغیرہ یا صرف ان کی امت کے اعتبار سے جدید ہو جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شریعت، وہ دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قدیم شریعت ہی تھی، لیکن ’’قوم جرہم‘‘ جن کی طرف ان کو مبعوث فرمایا تھا، ان کو اس شریعت کا علم پہلے سے نہ تھا، حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کے ذریعہ ہوا۔ اس معنی کے اعتبار سے رسول کے لیے نبی ہونا ضروری نہیں، جیسے فرشتے کہ وہ رسول تو ہیں مگر نبی نہیں ہیں، یا جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے فرستادہ قاصد جن کو آیتِ قرآن(( اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ))[سورة یٰس :13]میں رسول کہا گیا ہے، حالانکہ وہ انبیاء نہیں تھے۔
اور نبی وہ ہے جو صاحبِ وحی ہو خواہ شریعتِ جدیدہ کی تبلیغ کرے یا شریعتِ قدیمہ کی، جیسے اکثر انبیاءِ بنی اسرائیل شریعتِ موسویہ کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک اعتبار سے لفظِ رسول نبی سے عام ہے اور دوسرے اعتبار سے لفظِ نبی بہ نسبت رسول کے عام ہے، جس جگہ یہ دونوں لفظ ایک ساتھ استعمال کیےگئے جیسا کہ سورۃ مریم میں(( رَسُوْلاً نَّبِیًّا))[آيت 54]آیا ہے، وہاں تو کوئی اشکال نہیں کہ خاص اور عام دونوں جمع ہو سکتے ہیں، کوئی تضاد نہیں، لیکن جس جگہ یہ دو لفظ باہم متقابل آئے ہیں جیسے((وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ ))[سورة الحج :52]میں تو اس جگہ مقام کے قرینہ کی وجہ سے لفظِ ِنبی کو خاص اس شخص کے معنی میں لیا جائے گا جو شریعتِ سابقہ کی تبلیغ کرتا ہے۔‘‘
( معارف القرآن، ج:6،ص:42، سورۂ مریم، ط: مکتبہ معارف القرآن)
2:شیاطین جنات سے الگ کوئی مخلوق نہیں ہے ،شیاطین جنات ہی میں سے ہیں،بلکہ جنوں میں جو سرکش وکافر ہوتے ہیں،وہ شیطان کہلاتے ہیں،جنات میں بعض مؤمن اور نیک ہوتے ہیں اور بعض کافر اور نافرمان، ان میں سے جو سرکش اور نافرمان ہوتے ہیں، وہ شیطان کے معاون اور مددگار بنتے ہیں اور انسانوں کو گمراہ کرنے میں ابلیس کا ساتھ دیتے ہیں، ان کی کوئی ایک مخصوص اور متعین شکل نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف شکلیں اختیار کرنے کی قدرت دی ہے، جنات کبھی کسی انسان کی صورت،کبھی سانپ،کبھی کتے وغیرہ کے شکل میں ظاہر ہوتے ہیں،اس وقت انہیں سب دیکھ سکتے ہیں،جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے،البتہ جنات کا اپنی صورت میں دیکھنا ممکن نہیں،البتہ اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کی نظر میں ایسی قوت پیدا فرمائے،جس سے جنات کو دیکھنا ممکن ہو،پھر دیکھا جاسکتا،جس طرح انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ قوت عطا فرمائی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے انسانی آزمائش کے لیے جنات کو بعض تصرفات کی قدرت دی ہے، جس کی وجہ سے وہ بعض اوقات انسانوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جنات انسانوں کے پاس آ سکتے ہیں اور بعض مواقع پر انہیں پریشان بھی کر سکتے ہیں اور رگوں میں بھی دور سکتے ہیں، اور رگوں میں بھی ڈوڑھ سکتے ہیں۔
باقی ہمارے لیے اتنا ہی ضروری ہے کہ ان کے وجود کا اعتقاد رکھیں، اس سے زیادہ تفصیلات اور گہرائی میں جانے کی نہ ہمیں ضرورت ہے، اور نہ ہی ہم اس کے مکلف ہیں۔
تفسیر معارف القرآن از مولانا ادریس کاندھلوی نور اللہ مرقدہ میں ہے:
”ابلیس اصل میں جنات سےہے، مگر ابتداءمیں ملائکہ کے ساتھ اختلاط رکھتا تھا۔ فساد اور خونریزی کی وجہ سے جب جنات کو زمین سے نکال کر جزائر اور جبال میں منتشر کیا گیا تو ابلیس ان میں بہت بڑا عالم اور عابد تھا۔ فساد اور خونریزی سے اپنا بے لوث ہو نا ظاہر کیا تو فرشتوں کی سفارش سے بچ گیا اور فرشتوں میں رہنے کی اجازت ہوئی مگر دل میں یہ طمع لگی رہی کہ کسی طرح زمین کی فرمانروائی مجھ کو مل جائے اس طمع میں خوب عبادت کرتا رہا ۔ جب حضرت آدم کی خلافت کا وقت آیا اور تمام ملائک کو سجدہ کا حکم ہوا تو ابلیس اس وقت نا امید ہوا اور استکبار اور حسد نے اس کو حق جل شانہ کے مقابلہ اور معارضہ پر آمادہ کیا اور ہمیشہ کے لیے ملعون و مطرود و رجیم و مردود ہوا ۔ ابلیس اگر چہ ملائکہ میں سے نہیں کما قال تعالی كان من الجن( اور تھا ابلیس جنات میں سے) مگر خطاب سجود میں بتبعیہ ملائکہ بالا ولی داخل تھا۔“
(سورۃ البقرۃ، ج: 1، ص: 125۔126، ط:مکتبہ المعارف دار العلوم حسینیہ)
کتاب التعریفات للجرجانی میں ہے :
"الرسول: إنسان بعثه الله إلى الخلق لتبليغ الأحكام.الرسول: في اللغة: هو الذي أمره المرسل بأداء الرسالة بالتسليم أو بالقبض. قال الكلبي، والفراء: كل رسول نبي، من غير عكس. وقالت المعتزلة: لا فرق بينهما؛ فإنه تعالى خاطب محمدًا مرة بالنبي، وبالرسول مرة أخرى."
(باب الراء، ص: 110، ط: دارالکتب العلمیة)
احکام المرجان فی احکام الجان میں ہے:
"وقال القاضي عبد الجبار الهمداني فصل في كون اجسامهم رقيقة ولضعف ابصارنا لا نراهم لا لعلة أخرى لو قوي الله تعالى أبصارنا أو كثف أجسامهم لرأيناهم. اعلم أن الذي يدل على رقة أجسامهم قوله تعالى {إنه يراكم هو وقبيله من حيث لا ترونهم} فلو كانوا لنا مرئيين وإن كانوا بقربنا ولا حائل بيننا وبينهم بحيث يوسوسون إلينا وكانوا كثافا لرأيناهم كما يرونا كما يرى بعضهم بعضا وفي علمنا بخلاف ذلك من حالنا وحالهم دليل على صحة ما قلناه قال وقد ذكر شيوخنا أن الرقة أحد الموانع من رؤية المرئيات بشرط ضعف البصر كالبعد واللطافة ولهذا قالوا أنه يجوز أن نراهم إذا قوى الله تعالى شعاع ابصارنا كما يجوز أن نراهم لو كثف الله تعالى أجسامهم وعلى هذا الوجه يرى المعاين الملائكة دون من يحضره ويرونهم الأنبياء جميعا ويرون الجن أيضا دون غيرهم."
(الباب الرابع في بيان أجسام الجن، ص: 35، ط: مكتبة القرآن)
وفيه ايضاً:
"ولا شك ان الجن يتطورون ويتشكلون في صور الإنس والبهائم فيتصورون في صور الحيات والعقارب وفي صور الإبل والبقر والغنم والخيل والبغال والحمير وفي صور الطير وفي صور بني آدم كما أتى الشيطان قريشا في صورة سراقة بن مالكبن جعشم لما أرادوا الخروج إلى بدر قال الله تعالى{وإذ زين لهم الشيطان أعمالهم وقال لا غالب لكم اليوم من الناس وإني جار لكم فلما تراءت الفئتان نكص على عقبيه وقال إني بريء منكم إني أرى ما لا ترون إني أخاف الله والله شديد العقاب}وكما روى أنه تصور في صورة شيخ نجدي لما اجتمعوا بدار الندوة للتشاور في أمر الرسول صلى الله عليه وسلم هل يقتلوه أو يحبسوه أو يخرجوك كما قال الله تعالى{وإذ يمكر بك الذين كفروا ليثبتوك أو يقتلوك أو يخرجوك ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين}وروى الترمذي والنسائي في اليوم والليلة من حديث صيفي مولى أبي السائب عن أبي سعيد الخدري يرفعه أن بالمدينة نفرا من الجن قد أسلموا فإذا رأيتم من هذه الهوام شيئا فأذنوه ثلاثا فإن بدا لكم فاقتلوه."
(الباب الخامس، في بيان أصناف الجن، ص: 40، ط: مكتبة القرآن)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”سوال: زید کی بیوی بہت پریشان ہے، وہ اکثر کہا کرتی ہے کہ میں جنات میں سے ہوں ۔ کیا دراصل جنات اور شیطان انسانوں کو لگتے ہیں ؟ شریعت مطہرہ میں کہیں اس قسم کی کوئی چیز آئی ہے؟
جواب: انسان میں جن اور شیطان کا داخل ہو جانا ممکن ہے: " إن الشيطان يجرى من الإنسان مجرى الدم". الحديث، بخاري شريف- آكام المرجان في أحكام الجان میں اس کی تفصیل مروی ہے.“
(کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 24، ص: 25، ط: ادارۃ الفاروق)
وفیہ ایضاً:
”سوال: جن عورت میں آسکتا ہے یا نہیں اور بیل وغیرہ بن سکتا ہے یا نہیں؟
جواب : آ سکتا ہےبیل وغیرہ بھی بن سکتا ہے۔“
(کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 24، ص: 26، ط: ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100826
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن