
میاں بیوی کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو رہا تھا، اسی دوران شوہر نے ایک معاملے میں سچ جاننے کے لیے بیوی سے”طلاقِ کُلما کی قسم“ کے الفاظ استعمال کیے۔ لیکن اس وقت اس نے بالکل کیا الفاظ کہے تھے، اس بارے میں اب شوہر کو شک ہو گیا ہے، اور بیوی کو بھی ٹھیک طرح یاد نہیں رہا۔ غالب گمان اس طرف ہے کہ اس نے یہ الفاظ کہے تھےکہ ”تمہیں طلاقِ کُلّما کی قسم کھلاؤں گا، اگر اس معاملہ میں جھوٹ بولو گی تو خود بخود طلاق واقع ہو جائے گی۔“ اور کبھی یہ شک بھی ہوتا ہے کہ شاید اس نے یہ کہا ہےکہ ”میں تمہیں طلاقِ کُلّما کھلا رہا ہوں یا میں طلاقِ کُلّما دے رہا ہوں، اگر اس معاملہ میں جھوٹ کہو گی تو خود بخود طلاق واقع ہو جائے گی ۔“لیکن اس شک کا امکان بہت کم ہے۔
اب ان تمام شبہات کی صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟کون سی صورت میں کیا حکم لاگو ہوگا؟کیا اس معاملے میں شریعت کے مطابق طلاقِ کُلّما واقع ہوگی یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر نے جھگڑے کے دوران ”طلاقِ کلماکی قسم“ کے عنوان سےجو الفاظ کہے ہیں اُن میں سے جس کے بارے میں گمانِ غالب ہے، اُس کا اعتبار ہے، اور جس کے بارے میں شک ہےشرعاً اُس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔لہذا شوہر کے کہے ہوئے خط کشیدہ الفاظ میں سے ”تمہیں طلاقِ کُلّما کی قسم کھلاؤں گا“ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ یہ طلاق کی دھمکی ہے نیز اِن الفاظ پر قسم یا کُلما کی طلاق کے شرعی اَحکام بھی مرتب نہیں ہوتے۔البتہ اِس کے ساتھ جو الفاظ بولے ہیں ”اگر اس معاملہ میں جھوٹ بولو گی تو خود بخود طلاق واقع ہو جائے گی“اِس سے شرعاً ایک طلاق رجعی معلق ہوگئی ہے۔ لہذا اگر بیوی نے مذکورہ معاملہ میں سچ بولا تو کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوگی، اور جھوٹ بولا تو ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔ اور ایک طلاقِ رجعی کے بعد شوہر کے لیے مطلقہ بیوی کی عدت (مکمل ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور ماہواری آتی ہو، حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک کے عرصہ ) میں رجوع کرنے کا حق ہوگا ہے، اگر عدت میں قولاًوفعلاً رجوع کرلیا یعنی زبان سے بیوی کو یہ کہہ دیا کہ میں نے تم سے رجوع کرلیا ہے یا اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرلیے تو اس سے رجوع ثابت ہوجائے گا اور میاں بیوی کا نکاح برقرار رہے گا۔اور اگر شوہر نے عدت میں رجوع نہیں کیا تو عدت گزرتے ہی نکاح ٹوٹ جائے گا،اور میاں بیوی کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ بعد ازاں اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔ بہر صورت(عدت میں رجوع کرے یا عدت کے بعد نکاحِ جدید کرے) شوہر کے پاس آئندہ صرف دو طلاقیں دینے کا اختیار ہوگا۔
غمز عیون البصائر میں ہے:
"أما الطلاق والعتاق فإنهما لا يقعان بالشك."
(قاعدة من شك هل فعل أم لا، ج:1، ص:211، ط:دارالكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"قال في نور العين: الظاهر أنه لا يصح اليمين؛ لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان: أن من قال: جعلت كلما، أو علي كلما، أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل، ومن هذيانات العوام اهـ فتأمل".
(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج:3، ص:247، سعید)
العقود الدریۃ میں ہے:
"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."
(كتاب الطلاق، ج:1 ،ص:38، ط:دار المعرفة)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"وإن أضافه إلى شرطٍ وقع عقيب الشرط."
(كتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن و إذا وغيرهما، ج:1، ص:420، ط:دارالفكر)
وفیہ ایضاً:
"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، ج:1 ، ص:470، ط:دارالفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101332
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن