
پاکستان کے کئی دوسرے شہروں کی طرح ہماری تحصیل جوہی شہر میں بھی موٹر سائیکل لکی ڈرا سکیموں کے نام سے کئی لوگوں نے کام شروع کیا ہے۔
اس سکیم کی تفصیل کچھ یوں ہے:
ایک بندے نے 4 ہزار روپے ماہوار کے حساب سے موٹر سائیکل لکی ڈرا سکیم کا اجراء کیا، جس کی مدت تکمیل 20 ماہ ہے۔اس کے کل 160 ممبر ہیں۔ پہلی کمیٹی جب مکمل ہوئی یعنی 160 ممبران نے 4 ہزار روپے کے حساب سے رقم جمع کروا دی تو قرعہ اندازی کی گئی۔ 160 میں سے ایک ممبر کے نام کا قرعہ نکل آیا اور اُسے 4 ہزار میں موٹر سائیکل مل گیا۔
بقایا 19 کمیٹیاں اُس کی معاف ہو گئیں۔
اس طرح بالترتیب دوسرے ماہ ہوا۔ 159 ممبران جو رہ گئے، اُن میں سے ایک ممبر کا موٹر سائیکل نکل آیا۔ اُس کی 2 کمیٹیاں ہوئی تھیں، یعنی 8 ہزار روپے میں موٹر سائیکل کا مالک بن گیا اور اس کی باقی کمیٹیاں معاف ہو گئیں۔ اس طرح کرتے کرتے 19 نمبر تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ 20 نمبر جب کمیٹی پوری ہوئی اُس ٹائم یعنی 20 ماہ بعد سب لوگوں کو جو لکی ڈرا سکیم سے رہ گئے تھے موٹر سائیکل دے دیا گیا۔
موٹر سائیکل کی ابھی جو اصل قیمت ہے وہ 65 ہزار ہے، جبکہ وہ ہر ممبر سے 20 ماہ میں 80 ہزار وصول کر رہے ہیں۔ اسلامی اصولوں کے مطابق کیا ہم ایسی کمیٹی میں شامل ہو سکتے ہیں اور کیا شرعاً یہ جائز ہیں؟ برائے مہربائی ہماری رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لکی ڈرا کی صورت جوئے کے حکم میں ہے۔ کیونکہ کسی بھی شریک کو معلوم نہیں کہ اس کو موٹر سائیکل حاصل ہوگی یا نہیں، اور اگر ملے گی بھی تو کتنے کی؟
لہٰذا مذکورہ لکی ڈرا اسکیم ناجائز و حرام ہے۔ اس میں شرکت جائز نہیں۔
قرآن مجید میں ہے:
" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ."[المائدة]
ترجمہ :"اے ایمان والو بات یہی ہے، کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں ہیں، شیطانی کام ہیں،سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔"
( سورۃ المائدۃ،آیت :90،از بیان القرآن )
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر."
(كتاب البيوع والأقضية، ج:12، ص:336، ط: دار كنوز إشبيليا الرياض - السعودية)
فتاوی شامی میں ہے:
"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:403، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101170
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن