
مردوں کے لیے سونے کے علاوہ کسی دوسرے مادے کا بروچ(ایک آرائشی پِن یا کلپ جو کوٹ، شیروانی یا واسکٹ وغیرہ پر لگایا جاتا ہے) استعمال کرنا مباح ہے۔
کفایت المفتی میں ہے:
" آستین کے سرے پر جو بٹن لگائے جاتے ہیں وہ ایسے ضروری بٹن نہیں ہیں جیسے سامنے سینہ کے ہوتے ہیں یہ بٹن محض زینت کے لیے لگائے جاتے ہیں کپڑے کے ایک حصہ کو دوسرے سے ملانے کے لیے نہیں یہ بٹن نہ لگانا بہتر ہے لیکن بقصد زینت لگانا مباح ہے جیسے کامدار جوتوں پر سنہری رو پہلی کلا بتوں کا کام جس سے صرف زینت مقصود ہوتی ہے یا جیسے سادہ کپڑوں کے بجائے چھینٹ کا استعمال صرف زینت کے قصد سے کیا جاتا ہے اور یہ سبقل من حرم زینة الله التی اخرج لعبادہ والطیبات من الرزق(الاعراف، 32)، کے ماتحت مباح کی حد میں داخل ہے اسی طرح سامنے سینہ پر شیروانی کے دونوں پلوں کو ملانے کے لئے چار بٹن کافی ہوسکتے ہیں مگر بقصد زینت چھ سات بٹن لگانا مباح ہے فقہاء نے مکان کی تزئین بالظروف کو مباح فرمایا ہے یعنی مکان کے طاقوں میں برتن قلعی دار یا چینی کے چن دینا جس کی غرض صرف زینت ہوتی ہے اسے مباح فرمایاگیا ہے پس اسی زینت مباح میں یہ بٹن بھی داخل ہوسکتے ہیں،اس کواسراف قرار دینا اور لگانے والے کو فاسق سفیہ بتانا تعدی ہے۔ محمدکفایت اللہ "
(کتاب الحظر والاباحۃ،دسواں باب لباس و متعلقات لباس، شیروانی اور کوٹ پر زائد بٹن لگانے کا حکم، جلد : 9 ، صفحہ: 162 ، طبع : دار الاشاعت)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100924
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن