
ہم فلپائن میں ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں غیر مسلم آبادی ہے اور دور تک مسجد کا کوئی تصور نہیں۔ اسی وجہ سے ہماری کمپنی کے اندر باقاعدہ مسجد بنائی گئی ہے جہاں پنج وقتہ نماز، جمعہ اور عیدین ادا کی جاتی ہیں۔ کمپنی کی یہ جگہ کرائے پر ہے۔ اب کمپنی والے پینتالیس سالہ لیز پر دوسری جگہ خرید چکے ہیں جہاں اب نئی مسجد بن رہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ نئی جگہ بننے والی مسجد مصلیٰ (نماز گاہ) کے حکم میں ہوگی؟ یا شرعی مسجد کے؟
اور کیا پہلی والی جگہ پر موجود مسجد کو ختم کر کے وہ جگہ کسی اور کام کے لیے استعمال میں لائی جا سکتی ہے؟
واضح رہے کہ کسی جگہ پر مسجدِ شرعی بننے کے لیے بنیادی شرائط میں سے یہ ہے کہ وہ جگہ واقف کی ملکیت میں ہو، ذاتی زمین ہو، کرایہ کی جگہ نہ ہو، اس جگہ کے وقف ہوجانے کے بعد مسجد کی وہ جگہ مالک کی ملکیت سے نکل کر ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہو جائے گی؛ اور ایک مرتبہ جو جگہ مسجدِ شرعی کی نیت سے وقف ہو جائے، وہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی۔
صورتِ مسئولہ میں 45 سالہ لیز کی جگہ میں نئی بننے والی مسجد عارضی مصلیٰ کے حکم میں ہوگی، اس پر مسجدِ شرعی کے احکام لاگو نہیں ہوں گے؛ اس لیے کہ مالک نے اس کو مستقل طور پر مسجد کی نیت سے وقف نہیں کیا ہے کہ وہ اس کی ملکیت سے نکل کر ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہو جائے، بلکہ کمپنی کی جگہ کرائے پر لینے والوں نے اس کو نماز کے لیے منتخب کیا ہے جو کہ مالک نہیں ہیں۔
باقی کمپنی میں جو پہلی مسجد تھی، وہ جگہ بھی چونکہ کرائے پر تھی، تو وہ بھی باقاعدہ طور پر مسجدِ شرعی نہیں تھی، اس وجہ سے اس کو کسی بھی کام کے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
فتح القدیر میں ہے:
"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد، فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولايورث."
(کتاب الوقف، ج: 6، ص: 203، ط: دار الفکر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يجوز وقف البناء في أرض هي إعارة أو إجارة كذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الوقف،الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لا يجوز وفي وقف المشاع، ج: 2، ص: 362، ط: دارالفکر)
کفایت المفتی میں ہے:
"جو زمین کرایہ پر لی جائے گی وہ وقف نہ ہو سکے گی اور مسجد کا حکم اس کو نہیں ہوگا۔ لیکن نماز پڑھنا اس میں جائز ہوگا اور جماعت کا ثواب بھی ملے گا۔ صرف مسجد کی فضیلت حاصل نہ ہوگی۔ "
(کتاب الوقف،پہلا باب مسجد کی بناوتعمیر، ج:7، ص: 53، ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100661
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن