بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الاول 1448ھ 07 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاقِ رجعی کے بعد رجوع کرنے میں بیوی کی رضامندی کا حکم


سوال

ایک یا دو طلاق رجعی دینے کے بعد  رجوع کرنے کے لیے بیوی کی رضامندی کا  ہونا ضروری ہے یا شوہر اپنی مرضی سے رجوع کر سکتا ہے؟

جواب

واضح  رہے  کہ طلاقِ رجعی کے بعد عدت کے دوران شوہر کے   رجوع  کرنے سے رجوع ثابت  ہوجاتاہے،چاہے بیوی اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔

بدائع الصنائع میں ہے:

''وأما رضا المرأة فليس بشرط لجواز الرجعة، وكذا المهر لقوله تعالى {وبعولتهن أحق بردهن} [البقرة: 228] مطلقا عن شرط الرضا، والمهر؛ ولأنه لو شرط الرضا، والمهر لم يكن الزوج أحق برجعتها منها؛ لأنه لا يملك بدون رضاها، والمهر فيؤدي إلى الخلف في خبر الله عز وجل وهذا لا يجوز؛ ولأن الرجعة شرعت لإمكان التدارك عند الندم فلو شرط رضاها لا يمكنه التدارك؛ لأنها عسى لا ترضى، وعسى لا يجد الزوج المهر، وكذا كون الزوج طائعا وجادا، وعامدا ليس بشرط لجواز الرجعة فتصح ‌الرجعة ‌مع ‌الإكراه والهزل واللعب والخطأ؛ لأن الرجعة استبقاء النكاح، وأنه دون الإنشاء ولم تشترط هذهالأشياء للإنشاء فلأن لا تشترط للاستبقاء أولى، وقد روي في بعض الروايات «ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد النكاح، والرجعة، والطلاق» .

(فصل في شرائط جواز الرجعة،ج:3،ص:183،ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

''تصح الرجعة مع الإكراه والهزل واللعب والخطأ كالنكاح''

(كتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به ،ج:1،ص:470،ط:رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100653

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں