بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الاول 1448ھ 06 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعا کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنا مستحب ہے


سوال

 دعا مکمل کرنے کے بعد جو عام طور پر چہرہ پر دونوں ہاتھ پھیرے جاتے ہیں کیا یہ سنت سے ثابت ہے؟ میں نے ایک مفتی صاحب کو سنا کہ دعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے؛اس لیے میں  نے  دعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرہ پر پھیرنا چھوڑ دیا ،چنانچہ میں دعا مکمل کر کے ہاتھ ویسے ہی نیچے کی طرف کردیتا ہوں۔

جواب

دعا مکمل کرنے کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرنا مستحب عمل ہے،احادیث مبارکہ سے دعا کے بعد دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرنا ثابت ہے۔

سنن الترمذی میں ہے:

"حدثنا أبو موسى محمد بن المثنى، وإبراهيم بن يعقوب، وغير واحد قالوا: حدثنا حماد بن عيسى الجهني، عن حنظلة بن أبي سفيان الجمحي، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه، عن عمر بن الخطاب، قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه في الدعاء، لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه» قال محمد بن المثنى في حديثه: لم يردهما حتى يمسح بهما وجهه: «هذا حديث غريب، لا نعرفه إلا من حديث حماد بن عيسى، وقد تفرد به وهو قليل الحديث، وقد حدث عنه الناس، وحنظلة بن أبي سفيان الجمحي هو ثقة، وثقه يحيى بن سعيد القطان»."

ترجمہ: ”حضرت عمر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  رسولِ اکرم ﷺ جب دعا میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو انہیں اس وقت تک نہ رکھتے جب تک کہ اپنے منہ پر نہ پھیر لیتے۔“

(أبواب الدعوات،باب ما جاء في رفع الأيدي عند الدعاء،ج: 2،ص: 1128،رقم الحديث: 3404،ط: البشرى)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن مالك بن يسار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا سألتم الله فاسألوه ببطون أكفكم ولا تسألوه بظهورها»وفي رواية ابن عباس قال: «سلوا الله ببطون أكفكم ولا تسألوه بظهورها فإذا فرغتم فامسحوا بها وجوهكم» . رواه داود."

ترجمہ: ”حضرت مالک بن یسار  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: جس وقت تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو اپنے ہاتھوں کے اندرونی رخ کے ذریعے مانگو، اپنے ہاتھوں کے اوپر کے رخ کے ذریعہ اس سے  نہ مانگو۔ ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے ہاتھوں کے اندرونی رخ کے ذریعہ مانگو اور جب تم دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیر لو۔“

(كتاب الدعوات،الفصل الثاني،ج: 1،ص: 341،رقم الحديث: 2242،ط: البشرى)

وفيه أيضاً: 

"وعن السائب بن يزيد عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دعا فرفع يديه مسح وجهه بيديه. روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في «الدعوات الكبير»."

ترجمہ: ”سائب بن یزید  رضی اللہ عنہما اپنے والدِ مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب دعا مانگتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو اپنے منہ پر دونوں ہاتھوں کو پھیرتے۔“

(كتاب الدعوات،الفصل الثالث،ج: 1،ص: 342،رقم الحديث: 2255،ط: البشرى)

اس حدیث کے تحت مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"(وعن السائب بن يزيد، عن أبيه «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دعا، فرفع يديه» ) : عطفا على دعا (مسح وجهه بيديه) : قال ابن حجر: جواب إذا، والصواب أنه خبر كان، وإذا ظرف له. قال الطيبي رحمه الله: دل على أنه إذا لم يرفع يديه في الدعاء لم يمسح، وهو قيد حسن؛ لأنه صلى الله عليه وسلم كان يدعو كثيرا، كما في الصلاة والطواف وغيرهما من الدعوات المأثورة دبر الصلوات، وعند النوم، وبعد الأكل، وأمثال ذلك، ولم يرفع يديه، لم يمسح بهما وجهه، وأما ما قاله ابن حجر: وما أفاده لفظ الحديث من أنه إذا دعا ولم يرفع يديه لم يمسح إنما هو على سبيل الفرض لما مر أنه عليه الصلاة والسلام كان يرفع يديه في كل دعاء، فيلزم أنه كان يمسح بهما في كل دعاء، فمردود بأنه لم يمر ما يدل على الكلية أصلا، مع أن قوله: في فعله عليه الصلاة والسلام على سبيل الفرض لا طائل تحته."

(كتاب الدعوات،ج:4،ص: 1536،ط: دارالفكر لبنان)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"ذهب الحنفية على الصحيح والشافعية على المعتمد إلى جواز مسح الوجه عند الدعاء.
فنص الشافعية على أنه يستحب مسح الوجه باليدين في الدعاء، ومحل استحباب مسح الوجه بهما في الدعاء خارج الصلاة. أما فيها فلا يستحب بل يكره على الصحيح من مذهب الشافعية.
ودليل استحباب مسح الوجه ما روى عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه في الدعاء لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه.
وجاء في الفتاوى الهندية: قيل مسح الوجه باليدين ليس بشيء، وكثير من مشايخنا اعتبروا مسح الوجه هو الصحيح وبه ورد الخبر.
وقال الخطابي: وقول بعض الفقهاء في فتاويه: ولا يمسح وجهه بيديه عقب الدعاء إلا جاهل، محمول على أنه لم يطلع على هذه الأحاديث."

(حرف الواو، وجه، الأحكام المتعلقة بالوجه، مسح الوجه عند الدعاء، ج: 42، 366، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلاميه)

وفيه أيضاً:

"اختلف الفقهاء في مسح الوجه باليدين بعد الانتهاء من الدعاء.
فذهب الحنفية في الصحيح والشافعية والحنابلة والمالكية في قول إلى أن من يدعو خارج الصلاة يمسح وجهه بيديه عند الفراغ من الدعاء.

وقال المالكية في قول والحنفية في قول ورد بلفظ " قيل ": إن مسح الوجه باليدين عند الفراغ من الدعاء ليس بشيء."

(حرف الياء، يد، الأحكام المتعلقة باليد،مسح الوجه باليدين بعد الدعاء خارج الصلاة، ج: 45، ص: 266، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلاميه)

جواہر الفقہ میں میں ہے:

”وہ احادیث و روایات اوپر گزر چکی ہیں جن سے دُعا کے بعد چہرہ پر ہاتھ پھیرنے کا مستحب ہونا معلوم ہوتا ہے۔ اب رہا چاروں مذاہب میں اس کا حکم: سو مالکیہ کے مذہب کی روایت تو یہ ہے کہ معیار میں ابن زرقون کا قول نقل کیا ہے کہ حدیث میں آیا ہے مسح کرنا اپنے چہرہ کا دونوں ہاتھوں سے بوقتِ اختتامِ دُعا کے، اور اس کے ساتھ تمام عوام و خواص اور علماء کا عمل مل گیا، جس سے اس روایت کی تقویت ہو گئی۔ اور ابن رشد فرماتے ہیں کہ امام مالکؒ نے دونوں ہاتھوں کے چہرہ پر پھیرنے کا بایں وجہ انکار کیا ہے کہ اس کے لئے کوئی حدیث نہیں آئی، البتہ اس حدیث سے اس کو لیا جاتا ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔

میں کہتا ہوں کہ امام اُستاذ ابو سعید بن لب اور عبداللہ بن علاق اور ابوالقاسم بن سراج جو متأخرین علمائے غرناطہ میں سے ہیں اور ابن عرفہ اور برزلی اور غبرینی جو ائمہ تونس میں سے ہیں اور سید ابو یحییٰ شریف اور ابوالفضل عقبانی جو ائمہ تلمسان میں سے ہیں، یہ سب حضرات دُعا کے بعد چہرہ پر دونوں ہاتھ پھیرنے کے جواز کے قائل ہیں، اور اسی پر ائمہ فاس کا عمل رہا ہے۔ اور مراد اس حدیث سے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہوئی ہے وہ ہے جو ترمذی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اُٹھاتے اپنے ہاتھوں کو دُعا میں تو نہ ڈالتے تھے جب تک کہ نہ پھیر لیتے تھے ان کو اپنے چہرہ مبارک پر، اھ۔ اس کو مازریؒ وغیرہ نے نقل کیا ہے، ذکر کیا اس کو شیخ محمد بن ابی القاسم مالکیؒ نے شرح نظم میں جس میں وہ مسائل جمع کئے ہیں جن پر ائمہ اُمت کا عمل رہا ہے۔

 شیخ ابوالقاسم برزلی فرماتے ہیں کہ: اس سے حضرت عز الدین ابن عبدالسلام کے انکارِ مسح وجہ کی تردید ہوتی ہے۔ اور مذہب شافعیہ اور حنفیہ کا اس میں یہ ہے کہ وہ سنت ہے ہر دُعا میں سوائے دُعائے قنوت کے جیسا کہ شافعیہ کی کتابوں میں اس کی تصریح ہے۔ اور مذہب حنابلہ کی نقل گزر چکی ہے کہ وہ سنت ہے ہر دُعا میں حتیٰ کہ دُعائے قنوت میں بھی۔ اور ابن حجرؒ نے شرح عباب میں اس کو آدابِ دُعا میں شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ: حلیمی فرماتے ہیں کہ: راز اس فعل کے مستحب ہونے میں نیک فال لینا ہے، کہ گویا اس کے ہاتھ خیر سے بھر گئے ہیں، اس کو اپنے چہرہ پر ڈالتا ہے، اھ۔ واللہ اعلم۔“

(احکام دعا، ج: 2، ص: 238، ط: دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100576

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں