بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے لیے مقرر کیے گئے جانور کے دودھ اور دیگر منافع سے فائدہ اٹھانے کا شرعی حکم


سوال

 ہمارے پاس اپناجانور تھا پھر اس نے بچے دیے اور ہم بچے بھی پالتے رہے اب ان میں سے ایک بچے کو قربانی کیلئے مختص کیا ہے کہ اس کی قربانی کریں گے آپ بتائیں کہ اب اس قربانی کے جانور سے انتفاع  کرسکتے ہیں یا نہیں مثلا دودھ وغیرہ اگر نہیں تو کب سے استعمال نہیں کرسکتے؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے مذکورہ جانور کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے، اور اس کا صدقہ کرنا لازم نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ اس صورت میں بھی دودھ استعمال نہ کیا جائے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو اشترى بقرة حلوبة وأوجبها أضحية فاكتسب مالا من لبنها يتصدق بمثل ما اكتسب ويتصدق بروثها، فإن كان يعلفها فما اكتسب من لبنها أو انتفع من روثها فهو له، ولا يتصدق بشيء، كذا في محيط السرخسي."

( کتاب الاضحیۃ ،الفصل السادس فی بیان ما یستحب فی الاضحیۃ والانتفاع بھا،ج:5 ص:301 ط:دارالفکر)

المحيط البرهانی میں ہے:

"ويتصدق بلحمها؛ قال البقالي في «كتابه» : وما أصاب من لبنها تصدق بمثله أو قيمته، وكذا الأرواث إلا أن يعلفها بقدرها۔"

(كتاب الاضحیۃ،فصل فی الانتفاع  ج:6 ص:95 ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100421

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں