
ہمارے پاس اپناجانور تھا پھر اس نے بچے دیے اور ہم بچے بھی پالتے رہے اب ان میں سے ایک بچے کو قربانی کیلئے مختص کیا ہے کہ اس کی قربانی کریں گے آپ بتائیں کہ اب اس قربانی کے جانور سے انتفاع کرسکتے ہیں یا نہیں مثلا دودھ وغیرہ اگر نہیں تو کب سے استعمال نہیں کرسکتے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے مذکورہ جانور کا دودھ استعمال کرنا جائز ہے، اور اس کا صدقہ کرنا لازم نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ اس صورت میں بھی دودھ استعمال نہ کیا جائے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو اشترى بقرة حلوبة وأوجبها أضحية فاكتسب مالا من لبنها يتصدق بمثل ما اكتسب ويتصدق بروثها، فإن كان يعلفها فما اكتسب من لبنها أو انتفع من روثها فهو له، ولا يتصدق بشيء، كذا في محيط السرخسي."
( کتاب الاضحیۃ ،الفصل السادس فی بیان ما یستحب فی الاضحیۃ والانتفاع بھا،ج:5 ص:301 ط:دارالفکر)
المحيط البرهانی میں ہے:
"ويتصدق بلحمها؛ قال البقالي في «كتابه» : وما أصاب من لبنها تصدق بمثله أو قيمته، وكذا الأرواث إلا أن يعلفها بقدرها۔"
(كتاب الاضحیۃ،فصل فی الانتفاع ج:6 ص:95 ط:دارالکتب العلمیۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100421
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن