بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معلق منت کی دو صورتیں، اور منت پوری نہ کر سکنے پر کفارے کا حکم


سوال

میں نے دو موقعوں پر منت مانی تھی، دونوں کا حکم معلوم کرنا ہے:

1۔والدہ سخت بیمار تھیں، میں نے کہا: اگر اللہ میری والدہ کو شفا دے دے تو میں ایک ماہ کے روزے رکھوں گا۔ اللہ کے فضل سے وہ صحت یاب ہو گئیں۔

2۔ایک شخص سے تعلق خراب ہو گیا تھا، غصے میں میں نے کہہ دیا: اگر میں نے آئندہ اس سے بات کی تو ایک ماہ کے روزے رکھوں گا۔ بعد میں ضرورت پڑنے پر بات کرنی پڑ گئی۔

دونوں صورتوں میں اب مجھ پر کیا لازم ہے، اور اگر مہینے بھر کے روزے نہ رکھ سکوں تو کیا کوئی اور صورت ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں منت کے معلق ہونے کی صورت میں شرط کی نوعیت دیکھی جاتی ہے، اور اسی کے اعتبار سے دونوں صورتوں کا حکم الگ الگ ہے۔

1۔پہلی صورت میں چوں کہ شرط ایسی ہے جس کا ہونا خود منت ماننے والا چاہتا تھا، یعنی والدہ کی شفا، اس لیے اس میں قسم کا معنیٰ سرے سے نہیں پایا گیا، بلکہ یہ منجز منت کے حکم میں ہے؛ لہٰذا شرط پائے جانے کے بعد بعینہٖ منت پوری کرنا، یعنی ایک ماہ کے روزے رکھنا ہی لازم ہیں، اس کے بدلے کفارہ دینا کافی نہیں ہوگا۔ روزے مسلسل رکھنے کی نیت نہ کی ہو تو وقفے وقفے سے بھی مہینے کی تعداد پوری کی جا سکتی ہے۔

2۔دوسری صورت میں شرط ایسی ہے جس کا ہونا مقصود نہ تھا، بلکہ اپنے آپ کو اس سے روکنا مقصود تھا؛ ایسی منت بظاہر نذر اور معنیٰ کے اعتبار سے قسم ہوتی ہے، اس لیے شرط پائے جانے پر منت ماننے والے کو اختیار ہے کہ چاہے تو بعینہٖ منت پوری کرے یعنی مہینے کے روزے رکھے، اور چاہے تو قسم کا کفارہ ادا کر دے۔

قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلایا جائے، یا ان میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار گندم یا اس کی قیمت دے دی جائے، یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑا دیا جائے؛ اور اگر ان تینوں میں سے کسی کی استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھے جائیں۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان، فكفارته إطعام عشرة مساكين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو كسوتهم أو تحرير رقبة، فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام"

(سورۃ المائدۃ: 89)

بدائع الصنائع میں ہے:

"الكلام في هذا الكتاب في الأصل في ثلاثة مواضع: في بيان ركن النذر، وفي بيان شرائط الركن، وفي بيان حكم النذر. أما الأول: فركن النذر هو الصيغة الدالة عليه، وهو قوله: لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك."

(کتاب النذر، بيان ركن النذر وشرائطه، ج:5، ص:81، ط: سعید)

فتح القدیر میں ہے:

"(وإن علق النذر بشرط فوجد الشرط فعليه الوفاء بنفس النذر) ... وهذا إذا كان شرطا لا يريد كونه؛ لأن فيه معنى اليمين وهو المنع، وهو بظاهره نذر فيتخير ويميل إلى أي الجهتين شاء، بخلاف ما إذا كان شرطا يريد كونه كقوله: إن شفى الله مريضي، لانعدام معنى اليمين فيه، وهذا التفصيل هو الصحيح ... وأما الشرط الذي يريد كونه مثل قوله: إن شفى الله مريضي أو قدم غائبي، فلله علي صوم شهر، فوجد الشرط، لا يجزيه إلا فعل عين المنذور."

(کتاب الایمان، فصل في الكفارة، ج:5، ص:92-94، ط: دار الفکر)

رد المحتار میں ہے:

"(ثم إن) المعلق فيه تفصيل، فإن (علقه بشرط يريده كأن قدم غائبي) أو شفي مريضي (يوفي) وجوبا (إن وجد) الشرط، (و) إن علقه (بما لم يرده كإن زنيت بفلانة) مثلا فحنث (وفى) بنذره (أو كفر) ليمينه (على المذهب)؛ لأنه نذر بظاهره يمين بمعناه فيخير ضرورة."

(کتاب الایمان، ج:3، ص:738، ط: سعید)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"وهي أحد ثلاثة أشياء: إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار، أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة، أو إطعامهم ... فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات."

(کتاب الایمان، الباب الثاني فيما يكون يمينا وما لا يكون يمينا، الفصل الثاني في الكفارۃ، ج:2، ص:61، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100192

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں