
ایک حدیث سنی ہے جس کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ آسمان وزمین میں سب سے بد تر مخلوق علماء سوء ہیں۔
(۱): کیا درست ہے؟
(۲)ایسے علماء کی صفات کیا ہیں؟ ان کی پہچان کا کیا طریقہ ہے؟
(۳): ہم ان کی شر سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
(۱): مذکورہ حدیثِ مبارکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا اور موقوفا دونوں طرح مروی ہے۔ چنانچہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے نقل کیا ہے، جبکہ امام دینوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "المجالسة "میں اسے موقوفا روایت کیا ہے۔ روایت کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا، اور قرآن میں صرف اس کا رسمِ خط (لکھائی) باقی رہ جائے گا۔ ان کی مسجدیں آباد ہوں گی، لیکن ہدایت سے خالی اور ویران ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین لوگ ہوں گے، انہی کی طرف سے فتنے اٹھیں گے اور انہی میں واپس لوٹ آئیں گے۔"
اس روایت کا مدار عبد اللہ بن دُکَین پر ہے۔ ائمۂ جرح و تعدیل میں سے بعض نے ان پر کلام کرتے ہوئے انہیں ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ بعض دیگر ائمہ نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ مجموعی اعتبار سے یہ روایت قابلِ بیان ہے۔
المجالسة وجواهر العلم میں ہے:
"أحمد، نا محمد بن مسلمة، نا يزيد بن هارون، عن عبد الله بن دكين، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده، قال: قال علي بن أبي طالب رضي الله عنه: سيأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ومن القرآن إلا رسمه، مساجدهم يومئذ عامرة، وهي خراب من الهدى، علماؤهم شر من تحت أديم السماء، منهم خرجت الفتنة وفيهم تعود."
(المجالسة وجواهر العلم)، (2/359-361)، رقم (519 )، ط: جمعية التربية الإسلامية)
شعب الإیمان میں ہے:
"عن أبي الحسن علي بن أحمد بن عبدان، أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار، حدثنا محمد بن عيسى بن أبي إياس، حدثنا سعيد بن سليمان، عن عبد الله بن دكين، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده، عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرة، وهي خراب من الهدى، علماؤهم شر من تحت أديم السماء من عندهم تخرج الفتنة وفيهم تعود".
أخبرنا أبو سعد الماليني، أخبرنا أبو أحمد بن عدي، حدثنا عيسى بن سليمان القرشي، حدثنا بشر بن الوليد، حدثنا عبد الله بن دكين، فذكره بإسناده موقوفا."
(شعب الإيمان، نشر العلم، وألا يمنعه أهله أهله، (3/317)، رقم (1763 )، ورقم (1764 )، (3/317، 318)، ط: مكتبة الرشد)
میزان الاعتدال میں ہے:
"قال ابن معين: ليس بشئ. ونقل ابن الجوزي أن ابن معين قال مرة: ليس به بأس. وقال أبو زرعة: ضعيف. وقال النسائي: ليس بثقة. وقال في موضع: ليس به بأس. وقال أبو داود: وثقه أحمد."
(ميزان الاعتدال في نقد الرجال، عبد الله بن دكين، (۲/417)، رقم (4296 )، ط: دار المعرفة)
(2، 3) : جواب سے پہلےعلم اور اہلِ علم سے متعلق حضرات ِ سلف رحمہم اللہ کے چند اقوال ملاحظہ فرمائیے:
۱۔ حضرت عون بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمه الله سے عرض کیا: کہا جاتا ہے کہ اگر تم عالم بننے کی استطاعت وقدرت رکھتے ہو تو عالم بن جاؤ، اور اگر تم عالم نہیں بن سکتے تو پھر طالب ِ علم بن جاؤ، اور اگر تم طالب علم بھی نہیں بن سکتے تو پھر ان (علماء و طلباء) سے محبت رکھو، اگر تم ان سے محبت بھی نہیں رکھ سکتے تو پھر (کم از کم) ان سے نفرت مت کرو، (یہ سن کر)حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے جواب دیا: اللہ تعالی نے اس(آخر والے ) کے لیے بھی نکلنے کی راہ رکھی ہے اگر وہ اُسے قبول کرلے(کہ علماء وطلباء سے متعلق اپنے دل میں نفرت نہ پالے)۔
۲۔حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ایک عقل مند شخص پر حق ہے کہ وہ تین قسم کے لوگوں کی بے قدری نہ کرے :۱۔علماء، ۲۔بادشاہ وحکمران، ۳۔(مسلمان) بھائی ، اس لیے کہ جو شخص علماء کی بے قدری کرے گا وہ اُخروی زندگی سے محروم رہے گا، جو شخص بادشاہ وحکمران کی بے قدری کرے گا وہ دنیوی زندگی سے محروم رہے گا، اور جو شخص اپنے (مسلمان)بھائی کی بے قدری کرے گا وہ اچھے اخلاق و کردار سے محروم رہے گا۔
۳۔(ایک دن) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما (اپنی سواری پر) سوار ہونےلگے تو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہمانے اُن کی سواری کی لگام پکڑی ( تا کہ ا ُنہیں رونہ کر سکیں)، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما نے ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے احترام میں) فرمایا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ! ایسا مت کیجیے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں اپنے علماء کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کرنے کا حکم دیا گیا ہے (کہ ہم اُن کا عزت واحترام کریں)،(یہ سن کر) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما نے اُن سے فرمایا:مجھے اپنا ہاتھ دکھائیے، حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ آگے کیا تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما نے اُسے چوما اور فرمایا: ہمیں اہلِ بیت کے ساتھ یوں ہی برتاؤ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حضراتِ سلف رحمہم اللہ کے مذکورہ اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو اولااس بات کی کوشش کرنا چاہیے کہ وہ عالم ِ دین بنے، اور اگر وہ عالمِ دین نہیں بن سکتا تو طالبِ علم بن جائے ، اور اگر وہ طالبِ علم بھی نہیں بن سکتا تو علماء وطلباء سے محبت رکھے ، اور اگر اُن سے محبت بھی نہیں رکھ سکتا تو کم از کم اُن سے نفرت نہ رکھے، کیوں کہ علم اللہ تعالي کی صفت ہے ، اللہ تعالی اپنی اس صفت سے اپنے منتخب بندوں کو ہی متصف فرماتے ہیں ، اللہ تعالی کی اس صفت کے حاملین ہیں، انبیا ئے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے وارث ہیں۔
البتہ اس کے برخلاف علماءِ سوء سے بچنا ضروری ہے۔ اہلِ علم نے علماءِ سوء کی متعدد علامات ذکر کی ہیں۔ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماءِ سوء سے مراد وہ علماء ہیں جو علمِ دین کو دنیا کمانے، جاہ و منصب حاصل کرنے، شہرت پانے اور لوگوں میں عزت و وقار حاصل کرنے کا ذریعہ بنالیں۔ اس کے برعکس علمائے آخرت کی نمایاں علامت یہ ہے کہ وہ اپنے علم کو دنیاوی مفادات کے حصول کا وسیلہ نہیں بناتے، بلکہ ان کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہوتا ہے۔ چونکہ وہ دنیا کی ناپائیداری اور آخرت کی دائمی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کی توجہ دنیا کے بجائے آخرت کی طرف مرکوز رہتی ہے۔ یہی علمائے ربانیین اور مقربین کی نمایاں نشانی ہے۔
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے علماءِ سوء کے بدترین ہونے کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اہلِ علم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غفلت برتتے ہیں، ان میں علماءِ سوء کی صفات پائی جا سکتی ہیں، جبکہ جو علماء اس فریضے کو ادا کرتے ہیں، وہ علماءِ حق کے وصف سے متصف ہوتے ہیں۔
تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اگرچہ علماءِ سوء کی علامات کتب میں مذکور ہیں، لیکن ان علامات کا کسی معین شخص پر منطبق کرنا آسان کام نہیں، اور نہ ہی یہ ہر شخص کے اختیار اور صلاحیت میں ہے۔ یہ ذمہ داری گہرے علم و بصیرت رکھنے والے محقق اور متبحر علماء کی ہے۔ محض بعض ظاہری علامات یا اپنے اندازے کی بنیاد پر کسی عالم کو عالمِ سوء قرار دینا یا اس کے بارے میں بدگمانی رکھنا انتہائی خطرناک امر ہے، کیونکہ اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک ویسا نہ ہو جیسا اس کے بارے میں گمان کیا گیا ہے تو یہ بدگمانی انسان کے دین و ایمان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
لہٰذا عام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ علمائے حق سے وابستہ رہے، ان کی صحبت اور رہنمائی اختیار کرے، کیونکہ علمائے ربانیین سے تعلق انسان کو فتنوں، گمراہیوں اور فکری انحرافات سے محفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
"جامع بيان العلم وفضله"میں ہے:
"وحدّثنا عبدُ اللهِ، نا الحسنُ، نا يعقوبُ، نا زيدُ بنُ بِشْرٍ الحضرمِيُّ، وعبدُ العزيزِ بنِ عمرانَ الخزاعِيُّ قَالَا: أنا ابنُ وهبٍ، قال: أنا حنظلةُ أنّ عونَ بنَ عبدِ اللهِ حدّثه قالَ: حدّثتُ عمرَ بنَ عبدِ العزيزِ: أنّه كانَ يُقالُ: إنِ استطعتَ فَكُنْ عالماً، فإنْ لَمْ تستطِعْ فَكُنْ متعلِّماً، وإنْ لَمْ تستطِعْ فَأحِبَّهم، وإنْ لَمْ تستطِعْ فَلَا تُبْغِضْهم، فَقالَ عمرُ بنُ عبدِ العزيزِ: لَقَدْ جعلَ اللهُ -عزّ وجلّ- لَهُ مخرجاً إنْ قَبِلَ".
(جامع بيان العلم وفضله، باب قوله -صلّى الله عليه وسلّم-: العالم والمتعلم شريكان، (1/142)، رقم: (143)، ط: دار ابن الجوزي المملكة العربية السعودية)
"سير أعلام النبلاء"میں ہے:
"السُّلمِيُّ: حدّثنا محمّدُ بنُ العبّاسِ الضّبِّيُّ، حدّثنا محمّد بنُ أبِيْ علِيٍّ، حدّثنا الفضلُ بنُ محمّدِ بنِ نُعيمٍ، سمعتُ علِيَّ بنُ حُجْرِ، سمعتُ أبا حاتمٍ الفراهيجِيُّ، سمعتُ فُضالةَ النّسوِيُّ، سمعتُ ابنَ المباركِ يقولُ: حقٌّ علَى العاقلِ أنْ لَا يستخفَّ بِثلاثةٍ: العلماءِ والسّلاطينِ والإخوانِ، فَإنّه مَنْ استخفَّ بِالعُلماءِ ذهبتْ آخرتُه، ومَنْ استخفَّ بِالسُّلطانِ ذهبتْ دُنْيَاهُ، ومَنْ استخفَّ بالإخوانِ ذهبتْ مروءتُه".
(سير أعلام النبلاء، الطبقة الثانية والعشرون، ترجمة: السلمي محمد بن الحسين بن محمد بن موسى، (17/250،251)، رقم: (152)، ط: مؤسسة الرسالة)
"المجالسة وجواهر العلم"میں ہے:
"حدّثنا أحمدُ، نا أحمدُ بنُ محمّدِ النِّيسابورِيُّ، نا الحسنُ بنُ عيسَى، عنِ ابنِ المباركِ، عنْ داودَ عنِ الشّعبِيِّ-رحمه الله- قالَ: ركِبَ زيدُ بنُ ثابتٍ، فَأخذَ ابنُ عبّاسٍ بِرِكابِه، فَقالَ لَهُ: لَا تفعلْ يَا ابنَ عمِّ رسولِ اللهِ -صلّى الله عليه وسلّم-، فَقالَ: هَكَذا أُمِرْنَا أنْ نفعلَ بِعُلمائِنا، فَقالَ زيدٌ: أرِنِيْ يدَك، فَأخرجَ يدَه، فَقبّلَها زيدٌ، وقالَ: هَكَذا أُمِرْنَا أنْ نفعلَ بِأهلِ بيتِ نبيِّنا -صلّى الله عليه وسلّم-".
(المجالسة وجواهر العلم، (4/146، 147)، رقم: (1314)، ط: جمية تربية الإسلامية)
"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر"میں ہے:
"(الرّابِعُ في الاستخفافِ بِالعلمِ): وفي البزّازيّة: فَالاستخفافُ بِالعلماءِ لِكونِهم علماءُ استخفافٌ بِالعلمِ، والعلمُ صفةُ اللهِ -تَعالَى- منحَه فضلاً علَى خِيارِ عبادِه لِيدلُّوا خلقَه على شريعتِه نِيابةً عن رسلِه، فَاستخفافُه بِهَذا يعلمُ أنّه إلَى مَنْ يعودُ".
(مجمع الأنهر، كتاب السير، باب المرتد، (1/695)، ط: دار إحياء التراث العربي)
احياء علوم الدين میں ہے:
"فمن المهمات العظيمة معرفة العلامات الفارقة بين علماء الدنيا وعلماء الآخرة، ونعني بعلماء الدنيا علماء السوء الذين قصدهم من العلم التنعم بالدنيا والتوصل إلى الجاه والمنزلة عند أهلها ... وأن الفائزين المقربين هم علماء الآخرة، ولهم علامات، فمنها: أن لا يطلب الدنيا بعلمه فإن أقل درجات العالم أن يدرك حقارة الدنيا وخستها وكدورتها وانصرامها وعظم الآخرة ودوامها وصفاء نعيمها وجلالة ملكها، ويعلم أنهما متضادتان، وأنهما كالضرتين مهما أرضيت إحداهما أسخطت الأخرى، وأنهما ككفتي الميزان مهما رجحت إحداهما خفت الأخرى، وأنهما كالمشرق والمغرب مهما قربت من أحدهما بعدت عن الآخر، وأنهما كقدحين أحدهما مملوء والآخر فارغ فبقدر ما تصب منه في الآخر حتى يمتلىء يفرغ الآخر."
(إحياء علوم الدين، (1/58، 59، 60)، ط: دار المعرفة)
”فتح الإلہ“ میں ہےمیں مذکورہ حدیث کی تشريح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
"علماء ہم شر من تحت أدیم السماء إما لکونہم لا یأمرون بالمعروف ولا ینہون عن منکر مع قدرتہم علی ذلك، وإما لبدعتہم المقتضیة لخراب المساجد کبدعة الإمامیة التي عمت الآن إقلیم فارس حتی غلقت جمیع مساجدہ لاعتقادہم توقف الجماعة علی إمام معصوم․"
(فتح الإله في شرح المشکاة، كتاب العلم: (۲/۱۵۳، ۱۵۲) رقم الحديث (276)، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144712100028
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن