بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1448ھ 31 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف ڈیڑھ تولہ سونا ہو، نقدی نہ ہو تو اس صورت میں زکوۃ کا حکم


سوال

ایک عورت کے پاس صرف ڈیڑھ تولہ سونا ہے اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی نقدی، مال یا دیگر اثاثے نہیں ہیں۔ اس کے شوہر کی مالی حالت بھی کمزور ہے، اس کا کوئی مستقل روزگار نہیں اور اس پر قرض بھی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں درج ذیل سوالات کے بارے میں رہنمائی درکار ہے:

کیا اس عورت پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟ کیا صرف سونے کی موجودگی کی وجہ سے عورت صاحبِ نصاب شمار ہوگی؟ شوہر کے قرض اور مالی مشکلات کا عورت کی قربانی کے وجوب پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ اگر قربانی واجب ہو تو وہ کس طرح ادا کی جائے، جبکہ عملی طور پر مالی وسائل موجود نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔

جواب

واضح رہے کہ  جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان  مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو،  یا تجارت کا سامان، یا ضرورت  اور استعمال سےزائد اتنا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے  بعض یا سب کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔

قربانی  واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت و استعمال سے  زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ہے، ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے  جو مرد یا عورت صاحبِ نصاب بن جائے، اس پر قربانی  واجب ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت کے پاس محض ڈیڑھ تولہ سونا ہے، اس کے علاوہ بالکل بھی نقدی یا ضرورت سے زائد سامان  نہیں ہے تو اس عورت پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے، اور اگر سونے کے ساتھ کچھ نہ کچھ نقدی یا کچھ اضافی سامان ہو تو اس صورت میں ان دونوں کو ملا کر چوں کہ قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی سے زائد ہوگی، لہذا ایسی صور ت میں اس عورت پر زکوۃ واجب ہوگی۔

نیز قربانی میں ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت کا مالک ہوتا ہے، اگر شوہر صاحب نصاب ہو، اور بیوی صاحب نصا ب  نہ ہو یا معاملہ اس کے برعکس ہو، تو  اس صورت میں جو بھی صاحب نصاب ہو ، اس پر قربانی کرنا واجب ہوگا۔

خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ عورت پر قربانی واجب نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)

(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم."

(کتاب الأضحیة، ج: 6، ص: 312، ط: دارالفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر، وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر."

(کتاب الأضحية، فصل في شرائط وجوب في الأضحية، ج: 5، ص: 64، ط: دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌وتضم ‌قيمة ‌العروض ‌إلى ‌الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز."

(کتاب الزکوة، الباب الثالث، الفصل الثاني في العروض، ج: 1، ص: 179، ط: دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101461

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں