بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الاول 1448ھ 02 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک دو تین طلاق دیتا ہوں کا حکم


سوال

میرے شوہر نے جھگڑے کے دوران مجھے یہ الفاظ کہے ! ایک دو تین طلاق دیتا ہوں یہ الفاظ انہوں نے ایک ہی جملے میں، بنا رکے ایک ہی سانس میں کہے ہیں ۔

ان الفاظ سے کتنی طلاق واقع ہوئی ہیں ؟ اور رجوع کی گنجائش ہے ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں "ایک دو تین طلاق دیتا ہوں " کے الفاظ کہنے سےسائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ،نکاح ختم ہوچکا ہے   سائلہ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے ،،دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں ، سائلہ عدت (تین حیض ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ۔ اب رجوع کی گنجائش  نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به

قوله والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه."

(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 287، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها".

( کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة،ج:1،ص:473،دارالفكر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال [۲۱۳۹] : زید نے اپنی بیوی کو پہلے ایک طلاق بائن دے کر تھوڑی دیر کے بعد کہا ” میری فلانی بیوی کو ایک دو تین طلاق دیا، بائن طلاق کیا ،کیا اب وہ بغیر تحلیل عورت مذکورہ کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا طلاق واقع ہوئی ؟

جواب:اگر عورت مدخولہ ہے تو صورت مسئولہ میں طلاق مغلظہ واقع ہوگئی ، اب بغیر حلالہ کے رکھنا حرام ہے۔"

(کتاب الطلاق،باب الطلاق الثلاث،ج:12،ص:455،ط:ادارہ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101269

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں