
میں نے ایک شخص سے کہا تھا کہ آپ مجھ سے دوسری شادی کر لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں، میں کچھ نہ کچھ سمجھوتہ کر لوں گی۔ لیکن اب وہ ہر روز مجھے یہ کہتا ہے کہ تم نے خود کہا تھا، اسی وجہ سے وہ میرے ساتھ بہت ناانصافی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ گناہ نہیں ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مجھ سے زیادہ امید نہ رکھنا۔ اب یہ سب میرے لیے برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
آپ کی پیشکش (خود دوسری بیوی بننے کی) سے نکاح جائز ہو سکتا ہے اگر شرعی ارکان پورے ہوں، لیکن مرد کا اس پیشکش کو بنیاد بنا کر ناانصافی کرنا، روزانہ طعنے دینا، اور ”یہ گناہ نہیں“ کہہ کر دل دکھانا ظلم اور حرام ہے۔ اس کا یہ کہنا کہ ”میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ زیادہ امید نہ رکھنا“ بھی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اگر اس نے حقوق کی ادائیگی کا وعدہ کیا ہو۔ آپ پر صبر لازم ہے، مگر اگر برداشت سے باہر ہو تو شرعی راستہ (مثلاً خلع یا جدائی) اختیار کر سکتی ہیں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
"﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا﴾." (سورۃالنساء:آیت:3)
ترجمہ:
”اور اگر تم کواس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو دو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے۔“
( بیان القرآن ، ص:91، ط:میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها: وجوب العدل بين النساء في حقوقهن.
وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وإما إن كانت له امرأة واحدة، فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة."
(کتاب النکاح، فصل وجوب العدل بين النساء في حقوقهن، ج:2، ص:332، ط:دار الكتب)
سنن ابی داود میں ہے:
"عن أبي هُريرة، عن النبيَّ صلى الله عليه وسلم قال: "مَن كانت له امرأتانِ، فمال إلى إحداهما جاء يَومَ القيامَةِ وشِقُّه مَائِلٌ".
(كتاب النكاح، باب في القَسم بين النساء، ج:3، 479، حدیث:2133، ط:دار الرسالة العالمية)
ترجمہ:
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور (وہ ان دونوں بیویوں میں سے) کسی ایک (بیوی)کی طرف مائل ہو(یعنی ایک بیوی کے حقوق ادا کرے اور دوسری کے حق کا خیال نہ کرے) تو قیامت کے روز وہ شخص اس حالت میں آئے گا کہ اس کے جسم کا آدھا حصہ گرا ہوا یعنی اپاہج ہو گا۔“
(سنن ابی داود مترجم، ج:2، ص:170، ط:بیت العلم لاہور)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100770
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن