
میرے والدین زندہ ہیں -الحمدللہ- لیکن معاشی حالات اتنے اچھے نہیں ہیں۔ جتنی میری کوشش اور ہمت ہوتی ہے اس کے مطابق میں اپنے والدین اور بیوی بچوں کی خدمت کرتا ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی ایسی دعا یا وظیفہ بتادیں تاکہ میں اپنے والدین کی صحت، سلامتی اور درازی عمر، سایہ، سرپرستی تادیر قائم و دائم کی دعا کر سکوں!
صورتِ مسئولہ میں سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ آپ جو اپنے والدین کی خدمت کر رہے ہیں، یہ خود بہت بڑی سعادت اور بے شمار برکات کا ذریعہ ہے؛ حدیث میں ہے کہ صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک عمر میں برکت اور رزق میں وسعت کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھیں، اور والدین سے دعائیں لیتے رہیں، کیوں کہ والدین کی دعا اولاد کے حق میں مقبول ہوتی ہے۔
دعا و وظیفہ کے لیے درج ذیل کا اہتمام کریں:
1۔ ہر نماز کے بعد اور بالخصوص سجدے میں یہ قرآنی دعا پڑھیں:
«رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِيْ صَغِيْرًا». (سورۃ الإسراء: ۲۴)
2۔ نماز کے آخری قعدے میں درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:
«رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِيْ، رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ، رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ». (سورۃ إبراهیم: ۴۰-۴۱)
3۔ والدین کی صحت و تندرستی کے لیے کثرت سے "یَا سَلَامُ" کا ورد رکھیں، اور سورۂ فاتحہ و آیاتِ شفا پڑھ کر ان پر اور ان کی غذا و دواؤں پر دم بھی کر دیا کریں۔
4۔ روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ (خواہ تھوڑا ہی ہو) والدین کی صحت و سلامتی کی نیت سے کریں، کہ صدقہ بلاؤں کو ٹالتا اور بیماری کا علاج ہے۔
5۔ معاشی تنگی کے لیے کثرت سے استغفار اور یہ دعا پڑھتے رہیں:
"اَللّٰهُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ، وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ"
اور یاد رکھیں کہ عمر و موت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے؛ ہمارے ذمے دعا، خدمت اور جائز تدبیر ہے، نتیجہ اللہ کے سپرد کرکے اسی پر بھروسہ رکھیں۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100552
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن