بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1448ھ 31 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی اطاعت کرنے کا حکم / شوہرکا بیوی پر بلا وجہ طعن وتشنیع کرنے کا حکم


سوال

1 ۔کیا بیوی کو اپنے شوہر کے سامنے دب کر رہنا چاہیے؟اور کیا اسلام میں یہ اجازت نہیں ہے کہ بیوی اپنے فیصلے خود کرے یا اپنی مرضی سے کہیں بیٹھے؟ یا پھر جو کچھ شوہر کہے، وہی کرنا لازم ہوتا ہے؟نیز اگر شوہر نے باہر جانے کی اجازت نہ دی ہو تو کیا بیوی نہیں جا سکتی؟چاہے اس کے والد کا انتقال ہی کیوں نہ ہو گیا ہو؟

2۔ اگر شوہر کو بیوی کی ہر عادت سے مسئلہ ہو، حتیٰ کہ چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر بھی اعتراض کرے، تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟اور اگر شوہر بیوی کا ماضی بھلا نہ پائے، ہر بات پر اس کا ماضی لے آئے ، جھگڑا کرے اور الٹی سیدھی باتیں کہے، تو کیا یہ درست ہے؟ یا پھر اسے ماضی بھلا کر مستقبل بنانا چاہیے؟ اور اگر وہ ماضی نہیں بھلا سکتا تو وہ مستقبل بھی نہیں بنا پائے گا، کیونکہ وہ ہر بار ماضی لا کر جھگڑا کرتا ہے۔ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟

3۔ کیا اسلام میں عورت کو طلاق دینے کا حق نہیں ہے؟

جواب

1۔شریعتِ مطہرہ میں عورت کو جائز کام میں استطاعت کے مطابق شوہر کی مکمل فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے، اگر شوہر بیوی کو کسی جائز بات کاحکم دے تو بیوی پر استطاعت کےمطابق اس کی بات ماننا لازم ہے، ہاں خلافِ شرع امور میں شوہر کی اطاعت جائزنہیں ہے،شوہرکی خدمت،تابعداری اوراطاعت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار ارشادات موجودہیں۔ ایک حدیث میں ہے:

”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“

صاحبِ ”مظاہرِحق“ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں:

”مطلب یہ ہے کہ ربِ معبود کے علاوہ اور کسی کو سجدہ کرنا درست نہیں ہے۔ اگرکسی غیراللہ کو سجدہ کرنا درست ہوتا، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے؛ کیوں کہ بیوی پر اس کے خاوند کے بہت زیادہ حقوق ہیں، جن کی ادائیگی شکر سے وہ عاجز ہے، گویا اس ارشادِگرامی میں اس بات کی اہمیت وتاکید کو بیان کیا گیا ہے کہ بیوی پر اپنے شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔“

تاہم گھر کے نظم و نسق کی ذمہ داری شریعت نے چونکہ شوہر پر رکھی  ہے، لہذاگھریلو نظم کو برقرار رکھنے کے لیے بیوی کو آمد و رفت کے معاملات میں شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے،شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا بیوی کے لیے جائز نہیں ہے، ایسی خاتون کےبارےمیں حدیث میں وعید آئی ہے، حدیث شریف میں ہے کہ:

” ایک خاتون  نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ : شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : شوہر کا حق  اس پر یہ ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتہ اور رحمت وعذاب کے فرشتہ  اس پر لعنت بھیجیں گے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔“

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں یہ بات درست نہیں کہ بیوی کو شوہر کے سامنے بالکل دب کر رہنا چاہیے یا اس کے پاس کسی قسم کا اختیار ہی نہیں ہوتا، بلکہ اسلام نے بیوی کو عزت، احترام اور بعض معاملات میں اپنی رائے اور فیصلے کا حق بھی دیا ہے۔البتہ اگر شوہر کسی جائز بات میں بیوی کو روک دے یا کسی کام کا حکم دے تو عام حالات میں بیوی پر اس کی اطاعت کرنا لازم ہے۔

اسی بنا پر اگر شوہر نے بیوی کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہ دی ہو تو بیوی کو چاہیے کہ اس کی اجازت کے بغیر باہر نہ جائے۔تاہم شوہر کے لیےبھی  یہ درست نہیں ہےکہ وہ بلا وجہ بیوی کو اس کے والدین سے ملنے یا ان کے انتقال کی صورت میں جنازہ میں شرکت کرنے سے روکے،  کیونکہ والدین کے حقوق اور صلۂ رحمی کی شریعت میں بڑی تاکید آئی ہے۔ لہٰذا ایسے مواقع پر شوہر کو چاہیے کہ  وہ بیوی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے، اس کی ضروریات اور آرام و راحت کا خیال رکھے،اور  وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئےبیوی کو جانے کی اجازت دے، تاکہ دونوں طرف کے حقوق کی رعایت ہو اور گھریلو زندگی محبت اور باہمی ہمدردی کے ساتھ قائم رہے۔

2۔شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ   حسنِ معاشرت کا حکم دے کر یہ واضح کیا ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ محض قواعد و ضوابط سے نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، باہمی ہمدردی اور جذبۂ ایثار سے مضبوط رہتا ہے،  اور جب اس رشتے کو ان بنیادوں پر نبھایا جائے تو یہ رشتہ کامیاب اور مستحکم رہتا ہے۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں شوہر کا یہ طرزِ عمل کہ وہ بلاوجہ بیوی کی ہر چھوٹی بڑی بات پر اعتراض کرے، اس کے ساتھ نفرت آمیز رویہ رکھے، اور بار بار اس کے ماضی کو لا کر طعن و تشنیع کرے، شرعاً درست اور پسندیدہ نہیں ہے۔اس سے نہ صرف دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے، بلکہ ا س طرح کے معاملات رشتوں کو کمزورکردیتے ہیں۔

ایسی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ وہ ماضی كے معاملات كو بھلا کر آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کی فکر کرے، کیونکہ بار بار ماضی کو دہرانا دلوں میں کدورت پیدا کرتا ہے،  اور باہمی اعتماد کو ختم کر دیتا ہے، جبکہ کامیاب ازدواجی زندگی کا دارومدار معافی، درگزر اور حسنِ سلوک پر ہوتا ہے۔ اگر میاں بیوی میں سے کسی کو دوسرے کی کوئی بات ناگوار بھی ہو تو صبر اور برداشت سے کام لینا چاہیے،  ہر چھوٹی بات کو مسئلہ بنا لینا اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرنا درست طرزِ عمل نہیں، بلکہ مطلوب یہ ہے کہ انسان وسعتِ ظرفی اور حکمت کے ساتھ اس رشتے کو نبھائے، کیونکہ بسا اوقات جس چیز کو انسان ناپسند کرتا ہے، اسی میں اللہ تعالیٰ بہتری رکھ دیتا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں باری تعالی کا ارشادہے :

"﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ "[النساء: 19]

ترجمہ: ”اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی  کے  ساتھ گزران کرو،  اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو  ممکن ہے  کہ تم ایک شے  کو ناپسند کرو  اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر  کوئی  بڑی منفعت رکھ دے۔“(ازبیان القرآن)

3۔شریعت نے مہر کا حق بیوی کو دیا ہے، اور  طلاق دینے کا اختیار اصلاً شوہر کو ہی دیا ہے، عورت کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ مرد کی طرف سے اجازت ملے بغیر اپنے اوپر طلاق واقع کرے، تاہم بعض مواقع پر  عورت مجبور ہوتی ہے ، ایسی صورت میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ شوہر طلاق نہ دے کر بیوی کو تنگ کرے،  اس طرح کے ممکنہ خدشات سے بچنے کے لیے  شریعت نے عورت کے لیے چند شرعی راستے مقرر کیے ہیں۔ 

چنانچہ ایسی صورتحال میں عورت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ طلاق یا خلع کا مطالبہ کرے، بلکہ بعض صورتوں میں کچھ معاوضہ ادا کرکے وہ طلاق بالعوض بھی حاصل کر سکتی ہے، یا اگر شوہر بہت ظا لم ہو اور نان نفقہ بھی نہ دیتا ہو تو اس کو یہ بھی اختیار حاصل ہوتاہے  کہ کورٹ میں ”تعنت“ کا دعوی دائر کرکے اس بات کو ثابت کرے  کہ یہ مجھے خرچہ نہیں دیتا اور اس بنیاد پر مسلمان قاضی دونوں کے نکاح کو فسخ بھی کرسکتا ہے۔  الغرض  کسی بھی مشکل صورتِ حال کے لیے راستے موجود ہیں ، لیکن اہم بات یہ ہے کہ حتی الوسع اس کی کوشش کی جائے کہ کسی طرح گھر نہ ٹوٹے، شریعت میں یہی مطلوب ہے۔

1۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ."(سورۃ النساء،آیت نمبر:34)

ترجمہ:”مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں ۔“(بیان القرآن)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌المرأة ‌إذا ‌صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت» . رواه أبو نعيم في الحلية"

(كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:971، رقم:3254، ط:المكتب الاسلامي)

ترجمہ:”  حضرت انس  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے  (اپنی پاکی کے  دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی،  رمضان کے  (ادا اور قضا) رکھے،  اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی  اور اپنے خاوند  کی فرماں برداری کی  تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔“

وفيھا ایضا:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لو ‌كنت ‌آمر أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» . رواه الترمذي"

(كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:972، رقم:3255، ط:المكتب الاسلامي)

ترجمہ:” رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“

وفيھا ایضا:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن من ‌أكمل ‌المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا وألطفهم بأهله»."رواه الترمذي

(كتاب النكاح، باب عشرة النساء، ج:2، ص:973، رقم:3263، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ:” رسول کریم ﷺ نے فرمایا: مؤمنین میں سے  کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہت زیادہ خوش اخلاق ہو،  اور تم  میں بہتر وہ شخص ہے جو  اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے۔“

وفيھا ایضا:

"وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ‌طاعة ‌لمخلوق في معصية الخالق."

(كتاب الامارة والقضاء، ج:2، ص:1092، رقم:3696، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ:”آپﷺنے فرمایا : کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ایسے کام میں جس میں خالق کی نافرمانی لازم آئے۔“

بدائع الصنائع میں ہے:

"وعليها أن تطيعه في نفسها، وتحفظ غيبته؛ ولأن الله عز وجل أمر بتأديبهن بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن، ونهى عن طاعتهن بقوله عز وجل {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] ، فدل أن التأديب كان لترك الطاعة، فيدل على لزوم طاعتهن الأزواج."

(کتاب النکاح، فصل وجوب طاعة الزوج۔۔۔، ج:2، ص:334، ط:دار الکتب العلمیة)

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي میں ہے:

"المعاشرة بالمعروف من كف الأذى وإيفاء الحقوق وحسن المعاملة: وهو أمر مندوب إليه، لقوله تعالى:  {وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء:19/ 4] ولقوله صلّى الله عليه وسلم: خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي وقوله: استوصوا بالنساء خيراً والمرأة أيضاً مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجها بالإحسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج. ومن العشرة بالمعروف: بذل الحق من غير مطل، لقوله صلّى الله عليه وسلم: مَطْل الغني ظلم . ومن العشرة الطيبة: ألا يجمع بين امرأتين في مسكن إلا برضاهما؛ لأنه ليس من العشرة بالمعروف، ولأنه يؤدي إلى الخصومة. ومنها ألا يطأ إحداهما بحضرة الأخرى؛ لأنه دناءة وسوء عشرة. ومنها ألا يستمتع بها إلا بالمعروف، فإن كانت نِضْو الخلق (هزيلة) ولم تحتمل الوطء، لم يجز وطؤها لما فيه من الإضرار. حكم الاستمتاع أو هل الوطء واجب؟ قال الحنفية: للزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج."

(‌‌الباب الأول الزواج وآثاره، ‌‌الفصل الثاني، ‌‌المبحث الرابع، ‌‌أحكام الزواج عند الفقهاء، ج:9، ص:6598، ط:دار الفكر سورية)

فتاوى شامی میں ہے:

"فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها  أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلةً أو غاسلةً لا فيما عدا ذلك.

(قوله فلا تخرج إلخ) جواب شرط مقدر: أي فإن قبضته فلا تخرج إلخ، وأفاد به تقييد كلام المتن فإن مقتضاه أنها إن قبضته ليس لها الخروج للحاجة وزيارة أهلها بلا إذنه مع أن لها الخروج وإن لم يأذن في المسائل التي ذكرها الشارح كما هو صريح عبارته في شرحه على الملتقى عن الأشباه، وكذا فيما لو أرادت حج الفرض بمحرم أو كان أبوها زمنا مثلا يحتاج إلى خدمتها ولو كان كافرا أو كانت لها نازلة ولم يسأل لها الزوج عنها من عالم فتخرج بلا إذنه كله كما بسطه في نفقات الفتح: خلافا لما في القهستاني وإن تبعه ح حيث قال بعد الأخذ ليس لها أن تخرج بلا إذنه أصلا فافهم (قوله أو لزيارة أبويها) سيأتي في باب النفقات عن الاختيار تقييده بما إذا لم يقدرا على إتيانها، وفي الفتح أنه الحق. قال: وإن لم يكونا كذلك ينبغي أن يأذن لها في زيارتهما في الحين بعد الحين على قدر متعارف، أما في كل جمعة فهو بعيد، فإن في كثرة الخروج فتح باب الفتنة خصوصا إن كانت شابة والرجل من ذوي الهيآت ۔۔۔۔ (قوله فيما عدا ذلك) عبارة الفتح: وأما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لا يأذن لها ولا تخرج إلخ"

(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:145، ط:سعید)

2۔مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌يفرك ‌مؤمن ‌مؤمنة إن كره منها خلقا رضي منها آخر» . رواه مسلم"

(كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:967، رقم:3240، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان مرد مسلمان عورت سےبغض نہ رکھےاگر اس کو اس کی ایک عادت ناخوش کرنے والی ہےتو دوسری پسند آجائے گی۔ یہ مسلم کی روایت ہے۔“

وفیھا ایضا:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً، وخياركم خياركم لنسائهم . رواه الترمذي."

(كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:973، رقم:3264، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ: ”رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: مؤمنین میں سے  کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہت زیادہ خوش اخلاق ہو،  اور تم  میں بہتر وہ شخص ہے جو  اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے۔“

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعنه) : أي: عن أبي هريرة (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يفرك) : بفتح الراء مجزوما أو مرفوعا من الفرك بالكسر: بغض أحد الزوجين الآخر من باب علم، وكنصر شاذ، قال القاضي عياض: هو خبر لا نهي، وقال النووي: المعروف في الروايات بإسكان الكاف، ولو روي مرفوعا لكان نهيا بلفظ الخبر، أي لا يبغض (مؤمن مؤمنة) : أي: من جميع الوجوه (‌إن ‌كره ‌منها ‌خلقا) : بضمتين ويسكن الثاني (رضي منها آخر) : أي: خلقا آخر قال القاضي: قوله لا يفرك نفي في معنى النهي أي لا ينبغي للرجل أن يبغضها لما يرى منها فيكرهه؛ لأنه إن كره شيئا رضي شيئا آخر، فليقابل هذا بذاك، اهـ. وفيه إشارة إلى أن الصاحب لا يوجد بدون عيب فإن أراد الشخص بريئا من العيب يبقى بلا صاحب ولا يخلو الإنسان سيما المؤمن عن بعض خصال حميدة فينبغي أن يراعيها ويستر ما بقيها (رواه مسلم)."

(كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:5، ص:2118، ط:دار الفکر)

3۔قرآن مجید میں ہے:

"وَلاَیَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَأْخُذُوْا مِمَّا اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلاَّ اَنْ یَّخَافَا اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِه  تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلاَ تَعْتَدُوْهَا  وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰـئِکَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ}"[البقرة : 229] 

ترجمہ:” اور تمھارے لیے یہ بات حلال نہیں کہ (چھوڑنے کے وقت) کچھ بھی لو (گو) اس میں سے (سہی) جو تم نے ان کو (مہر میں) دیا تھا مگر یہ کہ میاں بیوی دونوں کو احتمال ہو کہ الله تعالیٰ کے ضابطوں کو قائم نہ کرسکیں گے سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کو قا ئم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔ یہ خدائی ضابطے ہیں سو تم ان سے باہر مت نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں سے بالکل باہر نکل جائے سو ایسے ہی لوگ اپنا نقصان کرنے والے ہیں ۔ “(بیان القرآن)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين. و تصح نية الثلاث فيه. و لو تزوجها مرارًا و خلعها في كل عقد عندنا لايحل له نكاحها بعد الثلاث قبل الزوج الثاني، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان.۔۔۔۔إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:1، ص:488، ط:دار الفکر بیروت)

حیلہ ناجزہ میں ہے :

"والمتعنت الممتنع عن الإنفاق  ففي مجموع الأمیر ما نصه : إن منعھا نفقة الحال فلها القیام فإن لم یثبت عسرہ أنفق أو طلق و إلا طلق علیه، قال محشیه : قوله وإلا طلق علیه أي طلق علیه الحاکم من غیر تلوم... إلي أن قال: وإن تطوع بالنفقة قریب أو أجنبي فقال ابن القاسم: لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها،  وقال ابن عبدالرحمن:  لا مقال لها لأن سبب الفراق  هو عدم النفقة قد انتهی وهو الذي تقضیه المدونة؛ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب، انتهی."

 (ملخص از حیله ناجزہ، ص:73، ط:دار الإشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101940

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں