بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الاول 1448ھ 02 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گستاخِ رسول ﷺ کو اَز خود سزا دینے کا حکم


سوال

آپ نے فتویٰ نمبر 144501102593 میں بتایا ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کو سزا دینا حکومت کا کام ہے ہر کسی کو جائز نہیں۔ اگر حکومت یا عدالتی نظام کی طوالت سے اس مرتد کو ریلیف ملنے کا خدشہ ہو جیسا کہ آجکل اکثر واقعات میں ہو رہا ہے،  تو کیا اس صورت میں بھی اس زندیق کو کوئی عام شخص قتل نہیں کر سکتا ؟

جواب

جی ہاںیہ درست ہے کہ گستاخ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا دینا حکومت ہی کا کام ہے۔

 اگر کسی کو یہ خدشہ ہو کہ حکومت یا عدالتی نظام کی طوالت کی وجہ سے مجرم کو سہولت  مل سکتی ہے تب بھی کسی عام فرد  کے لیے اسے از خود سزا  دینا جائز نہیں۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"و ركنه: إقامة الإمام أو نائبه في الإقامة."

(الفتاوى الهندية، كتاب الحدود 2/ 143 ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100001

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں