
آپ نے فتویٰ نمبر 144501102593 میں بتایا ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کو سزا دینا حکومت کا کام ہے ہر کسی کو جائز نہیں۔ اگر حکومت یا عدالتی نظام کی طوالت سے اس مرتد کو ریلیف ملنے کا خدشہ ہو جیسا کہ آجکل اکثر واقعات میں ہو رہا ہے، تو کیا اس صورت میں بھی اس زندیق کو کوئی عام شخص قتل نہیں کر سکتا ؟
جی ہاں! یہ درست ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا دینا حکومت ہی کا کام ہے۔
اگر کسی کو یہ خدشہ ہو کہ حکومت یا عدالتی نظام کی طوالت کی وجہ سے مجرم کو سہولت مل سکتی ہے تب بھی کسی عام فرد کے لیے اسے از خود سزا دینا جائز نہیں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"و ركنه: إقامة الإمام أو نائبه في الإقامة."
(الفتاوى الهندية، كتاب الحدود 2/ 143 ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100001
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن