
اگر مرحوم والد کا بیٹا والد سے پہلے وفات پا جائے تو کیا اس کے بچے یعنی پوتے پوتی دادا دادی کی جائیداد میں سے حصہ لینے کا حق رکھتے ہیں؟ وضاحت فرما دیجئے! اس وقت وراثت کی تقسیم ہو رہی ہے اس لیے مسئلے کا فتوی درکار ہے!
اگر بیٹے کا انتقال والد /والدہ کی زندگی میں ہوچکا ہو تو اس صورت میں مرحوم بیٹا اپنے والد /والدہ کی میراث میں حصہ دار نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر مرحوم بیٹے کے علاوہ کوئی اور بیٹا والد /والدہ کی وفات کے وقت زندہ ہو تو مرحوم بیٹے کا بیٹا،بیٹی (یعنی پوتا پوتی ) بھی اپنے دادا/دادی کی میراث میں حصہ دار نہیں ہوں گے، ورثاء کی تفصیل کے ساتھ ورثاء کے شرعی حصص سے متعلق دوبارہ دریافت کرسکتے ہیں ۔
تکملہ ردالمحتار میں ہے:
" الثانية: يسقطن بالصلبيتين فأكثر، إلا أن يكون معهن غلام ليس أعلى منهن فيعصبهن.الثالثة: يسقطن بالابن الصلبي، وسيأتي بيانها."
(کتاب الفرائض،احوال بنات الابن ج7 ص 665 ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100322
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن