
ہم ایک تعلیمی ادارہ بنانا چاہتے ہیں، جس میں ہم علماء کرام، ضرورت مند نوجوانوں اور عمومی طور پر نوجوان طبقہ کو مختلف مہارتیں سکھا کر ان کو حلال روزگار کمانے کے قابل بنانا چاہتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی دینی راہ نمائی بھی کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ معاشرے کے مفید فرد بنیں اس تعلیمی ادارہ کے مختلف پہلو آپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں:
1۔ اس تعلیمی ادارہ میں طلبہ کو آئی ٹی (کمپیوٹر) کے کورسز کروائے جائیں گے، اس کے علاوہ ان کو وہ کورسز بھی کروائے جائیں گے جو انہیں فری یا ملازمت( Entrepreneurship) انٹرپرنیورشپ،( Free Lancing) فری لانسنگ حاصل کرنے میں مدد کریں، اور بنیادی کاروباری اور حلال و حرام آمدنی سے متعلق مسائل بھی سکھائے جائیں گے۔
تمام کورسز میں اس بات کو مد نظر رکھا جائے گا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے ہر کورس میں islamic integration ضرور ہو، مثلا... سیلز کیسے کرنی ہے؟ یہ سکھاتے ہوئے سیرت سے کوئی واقعہ سنا کر طلبہ کی اسلامی ذہن سازی کی جاسکتی ہے، جیسے مال بیچنے کے لیے جھوٹ نہیں بولنا، دھوکہ دہی نہیں کرنی وغیره۔
2۔ اس تعلیمی ادارہ کو جدید بنیادوں پر شروع کرنے کے لیے جدید تعلیمی طریقوں کو اپنایا جائے گا، زیادہ تر کورسز ویڈیوز کی صورت میں ہوں گے۔ ان ویڈیوز کو دیکھ کر طلبہ سیکھیں گے اور کوئی سوال پوچھنا ہوگا تو اپنے استاذ سے پوچھ لیں گے، اور ساتھ ساتھ اس کی پریکٹس بھی کرتے رہیں گے، آج کل دنیا کی بڑی کمپنیوں میں یہی طریقہ رائج ہے ۔
3۔ ان ویڈیوز کو بنانے کے لیے پہلے اس کا نصاب بنے گا جو کہ اس فیلڈ کے ماہر کی مشاورت سے بنے گا اور اس کے بعد یہ ویڈیوز بنائی جائیں گی۔
4۔اس کے علاوہ انڈسٹری ایکسپرٹس کے آن لائن سیشن بھی ہوں گے، جس میں وہ لائیو اپنے لیکچر دیں گے۔ اور ان کی یہ ویڈیوز ریکارڈ بھی ہوں گی، تاکہ کسی کو بعد میں دیکھنی ہو تو وہ دیکھ سکیں۔
5 ۔یہ تعلیمی اداره فی الحال کسی کرائے کی جگہ پر شروع کیا جائے گا۔
6 ۔اس کو شروع کرنے سے پہلے اس کی نصاب سازی، ویڈیوز تیار کرنا، اساتذہ کی ٹریننگ کرائے کی جگہ کی مرمت وغیرہ میں تقریباً 3 ماہ لگ جائیں گے، اس کے بعد داخلے شروع کیے جائیں گے۔
7۔ داخلہ فیس بھی لی جائے گی اور ماہانہ فیس بھی لی جائے گی،البتہ جو طلبہ فیس ادا نہیں کر سکتے ،ان کی فیس زکوۃ سے ادا کر دی جائے گی ،اگر وہ زکوۃ کے مستحق ہوئے۔
8۔اور اگر وہ زکوۃ مستحق نہیں تو ان کی فیس کی ادائیگی عطیات کی رقم سے کی جائے گی۔
9 ۔اس ادارہ کو شروع کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کے لیے ہم ایک کمپنی سے معاہدہ کریں گے، جو یہ سارے کام سر انجام دےگی اور وہ ایک ماہانہ رقم ہم سے لیں گے، اور اس کے عوض ان کی ذمہ داریاں طے ہوں گی، ان کی ذمہ داریوں کی تفصیل کی ضرورت ہو تو وہ بھی بتائی جا سکتی ہیں۔
10 ۔ایک شوری بنائی جائے گی جس میں مختلف صلاحیتوں والے لوگ ہوں گے جو اس ادارے کو چلائیں گے اور اس کی ضروریات کا خیال بھی رکھیں گے، دینی را ہ نمائی بھی دیں گے۔
اس سلسلے میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔ کیا اس تعلیمی ادارے میں زکوة کی رقم شرعی تملیک کے بعد لگائی جا سکتی ہے ؟
2۔ کیا اس اکیڈمی میں زکوة کی رقم لگانے کی کوئی ضرورت ہے یا نہیں؟ ایسا تو نہیں کہ اس اکیڈمی میں زکوة کی رقم لگانے سے مقاصد و مصارف زکوة فوت ہوں؟
3۔ شرعی تملیک کا طریقہ کار کیا ہوگا؟
4۔ ہماری اکیڈمی میں اگر کوئی آئی ٹی کورسز سیکھنے کے بعد کسی غیر شرعی کام میں لگ جاتا ہے تو کیا اس گناہ کے ہم بھی ذمہ دار ہوں گے؟
5۔ اگر شرعی تملیک کے بعد زکوۃ کی رقم اس اکیڈمی میں لگائی جاتی ہے تو اس اکیڈمی کے کن اخراجات میں زکوة کی رقم لگانا درست ہوگا؟ اور کن اخراجات میں رقم لگانا درست نہیں ہوگا؟ متوقع اخراجات کی تفصیل یہ ہے :
1 ۔اکیڈمی کی جگہ کے تعمیراتی اخراجات،2۔ رینویشن اخراجاتRenovation Expenses،
3۔رنگ و روغن کے اخراجات، 4 ۔جگہ کا کرایہ اور یوٹیلٹی بلز اور ٹیکسز،5۔فرنیچر کمپیوٹر لیپ ٹاپس اسکرین و غیره،6۔ اساتذہ کی تنخواہیں، 7۔ منیجرز، عملہ و خدام کی تنخواہیں انتظامی اخراجات 9۔ اکیڈمی کو اپنی تکنیکی و تعلیمی قابلیت کو ثابت کرنے کے لئے جن سرٹیفیکیٹس کی ضرورت ہوگی، ان کے اخراجات،10۔ مارکیٹنگ کے اخراجات
مندرجہ بالا اخراجات میں سے کن اخراجات میں زکوۃ کی رقم استعمال کرنا جائز ہوگا اور کن میں نہیں ؟
سوال نمبر 6۔ جیسا کہ پوائنٹ نمبر 6 میں درج ہے کہ ادارہ شروع کرنے سے پہلے اس کی تیاری میں 3 ماہ لگیں گے۔ ان 3 ماہ میں جو اخراجات آئیں گے کیا اس میں زکوۃ کی رقم حیلہ تملیک کرکے استعمال کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
سوال نمبر 7۔ داخلے کے اعلان سے پہلے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کس طرح کے طلبہ داخلہ لیں گے۔ آیا کہ صرف مستحق زکوة طلبہ یا ایسے بھی ہوں گے جو پوری یا کچھ کم فیس ادا کرنے والے ہوں گے۔ اس صورت میں پہلے سے زکوة لینے کا کیا حکم ہوگا؟
سوال نمبر8۔ اگر کوئی طالب علم فیس کا کچھ حصہ ادا کرتا ہے اور زکوۃ کا مستحق بھی ہے تو کیا بقیہ فیس زکوۃ میں سے ادا کی جاسکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ ادارہ بنانے والے حضرات کی طرف سے سوال میں حیلہ تملیک کر کے زکوۃ کے متوقع اخراجات یہ بتائے گئے ہیں ( مثلاً :1۔اکیڈمی کی جگہ کے تعمیراتی اخراجات،2۔ رینویشن اخراجات۔3۔ رنگ و روغن کے اخراجات، 4۔جگہ کا کرایہ اور یوٹیلٹی بلز اور ٹیکسز،5۔فرنیچر کمپیوٹر لیپ ٹاپس اسکرین و غیره،6۔ اساتذہ کی تنخواہیں، 7۔ منیجرز، عملہ و خدام کی،8۔ تنخواہیں انتظامی اخراجات 9۔ اکیڈمی کو اپنی تکنیکی و تعلیمی قابلیت کو ثابت کرنے کے لئے جن سرٹیفیکیٹس کی ضرورت ہوگی ان کے اخراجات،10۔ مارکیٹنگ کے اخراجات میں ) اور طلبہ اور مستحقین کے لیے حلال کاروبار کرنے کے طریقے سیکھنے کے کئی اور مواقع موجود ہیں،چوں کہ مذکورہ امور نہ تو شدید ضرورتوں میں شامل ہیں، اور نہ ہی دین کی بقا کا مدار ان امور پر ہے،لہذا ایسے امور کے لیے حیلہ تملیک کا نظام بنانا شرعاً درست نہیں، بلکہ اس طرح کی تملیک کا سلسلہ حقیقی مستحقین کی حق تلفی کا باعث بھی ہے، اس طرح کے کاموں کے لیے اگر حیلہ تملیک کا سلسلہ شروع کیا جائے تو مقصد زکاۃ فوت ہونے لگے گا، لہذا اس سے اجتناب کیا جائے، اور اس کے لیے عطیات کا انتظام کیا جائے، البتہ جو طلبہ فیس ادا نہیں کر سکتے اوروہ مستحق زکاۃ ہو ں تو ان کو بطور وظیفہ زکاۃ دینا کہ وہ اس سے اپنی فیس ادا کریں شرعا جائز ہے۔
نیز شریعت مطہرہ میں کسی بھی جان دار چیز کی تصویر کشی کرنا حرام ہے ، خواہ وہ تصویر کشی کسی ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعہ سے ہو یا غیر ڈیجیٹل کیمرے سے ، بہر صورت ناجائز اور حرام ہے، لہذاجاندار کی تصویر پر مشتمل ویڈیوز کے ذریعے کلاسیں پڑھانا یاپھر طلبہ کو اساتذہ کی ریکارڈ کی گئی ویڈیوز کے ذریعے سبق پڑھانا بھی شرعاً ناجائز و حرام ہو گا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب... قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير...وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا."
(ص:284،ج:2،کتاب الزکوۃ،باب زکوۃ الغنم،ط:سعید)
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون كذا في الخلاصة."
(کتاب الزکوۃ،باب السابع فی المصارف،ج:1،ص:190،ط: رشیدیہ)
البحر الرائق میں ہے:
"قوله لا إلى ذمي أي لا تدفع إلى ذمي...وبناء مسجد وتكفين ميت وقضاء دينه وشراء قن يعتق...وعدم الجواز لانعدام التمليك الذي هو الركن في الأربعة...والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب."
(ص:261،ج:2،کتاب الزکوۃ،باب مصرف الزکوۃ،ط:دار الکتاب)
وفیہ ایضاً:
"هل يكون للمؤذن أن يأخذ ذلك العشر الذي أباح السلطان للرباط قال الفقيه أبو جعفر لو كان المؤذن محتاجا يطيب له ولا ينبغي له أن يصرف ذلك العشر إلى عمارة الرباط وإنما يصرف إلى الفقراء لا غير ولو صرف إلى المحتاجين ثم إنهم أنفقوا في عمارة الرباط جاز ويكون ذلك حسنا."
(ص:275،ج:5،کتاب الوقف،فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف،ط:دار الکتاب)
البحر الرائق میں ہے :
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال: قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه - صلى الله عليه وسلم - «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها اهـ. فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره."
(باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا ،ج:2،ص:29،دارالکتاب الاسلامی)
بدائع الصنائع میں ہے :
" فأما صورة ما لا حياة له كالشجر ونحو ذلك فلايوجب الكراهة؛ لأن عبدة الصور لايعبدون تمثال ما ليس بذي روح، فلا يحصل التشبه بهم، وكذا النهي إنما جاء عن تصوير ذي الروح لما روي عن علي - رضي الله عنه - أنه قال: من صور تمثال ذي الروح كلف يوم القيامة أن ينفخ فيه الروح، وليس بنافخ.........الخ
(کتاب الصلاۃ،فصل شرائط ارکان الصلاۃ،ج:1،ص:116،دارالكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101305
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن