
میں نے دو حاجیوں کو پورا حج پیکج علاوہ ٹکٹ کے بیچا،لیکن اس مرتبہ اکثر حجاج کرام حج پر نہیں جاسکے،اب ان دو حاجیوں کا کہنا ہے کہ ہمارا ٹکٹ کا جو نقصان ہوا ہے وہ آپ کے ذمہ ہے،نیز نہ جانے کی صورت میں ٹکٹ کے نقصان کی ادائیگی میں کروں گا یا وہ کریں گے، اس کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی،کیونکہ اس مرتبہ سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ ہمم نےحج پیکج بک کیا ہو اور حجاج پالیسی کی وجہ سے نہ جاسکے ہوں،اب ان دو حاجیوں کا کہنا یہ ہے کہ ہمار اآپ کی وجہ سے نقصان ہوا ہے؛ لہذا نقصان کی ادائیگی بھی آپ ہی کروگے،کیا ان کیا یہ کہنا درست ہے؟کیا ان کے نقصان کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتا سائل نے ٹکٹ کے علاوہ حج پیکج بک کیا تھا تو نہ جانے کی صورت میں حاجی کو ٹکٹ کی مد میں ہونے والے مذکورہ نقصان کا ذمہ دار سائل نہ ہوگا، لہذا اس کی ادائیگی سائل کے ذمہ لازم نہیں۔
شرح المجلۃ میں ہے:
"الغرم بالغنم،أي أن من ينال نفع شيء يجب أن يتحمل ضرره."
(المادۃ87،ج: 1، ص:90،ط:دار الکتب العلمیة)
الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:
"من القواعد الفقهية قاعدة: " الغنم بالغرم " ومعناها: أن من ينال نفع شيء يتحمل ضرره .
ودليل هذه القاعدة هو قول النبي صلى الله عليه وسلم: لا يغلق الرهن من صاحبه الذي رهنه، له غنمه وعليه غرمه ،قال الشافعي: غنمه زيادته، وغرمه هلاكه ونقصه."
(حرف الغین،غنم،ج:31، ص:301، ط:وزارۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100170
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن