
ہسپتال چورنگی سے لے کر منزل پمپ تک رکشوں کا اڈہ ہے جو دس سال پہلے بنایا گیا تھا، اس وقت اڈے کے مالکوں نے1 سے لے کر 100 تک نمبرات متعین کیے تھے اور یہ تمام نمبرات رکشے والوں کو فری میں دیے تھے، اب یہ نمبرات اتنے مہنگے ہوگئے ہیں کہ اگر کوئی رکشے والا اپنا نمبر بیچنا چاہے تو اس کی قیمت تین لاکھ روپے تک ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ان نمبرات کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
تنقیح:یہ ٹوکن نمبر دراصل سواری اٹھانے کی باری کا نمبر ہوتا ہے ، یعنی جس کے پاس مثلا 10 نمبر ٹوکن ہے تو اس کو دسویں نمبر پر اڈے سے سواری اٹھانے کی باری دی جائے گی۔ جس کے پاس کوئی ٹوکن نہ ہو اسے اڈے سے سواری اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ اڈے کے ٹوکن نمبر کی بنیاد پر اڈے سے سواری اٹھانے کا حق ملتا ہے اس لیے ٹوکن نمبر کی حیثیت فقط ایک مجرد حق کی ہے، اس لیے ٹوکن نمبر کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے، کیوں کہ ٹوکن نمبر کی خرید و فروخت کسی عین چیز کی خرید و فروخت نہیں ہے، بلکہ حقِ مجرد کی بیع ہے اور شرعاً حقوقِ مجردہ کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر کوئی رکشے والا اپنا رکشہ ٹوکن کے ساتھ فروخت کرتا ہے تو اس صورت میں باہمی رضامندی سےرکشے کی جو قیمت مقرر کی جائے وہ درست ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وأفتى في الخيرية أيضا بأنه لو فرغ عن الوظيفة بمال، فللمفروغ له الرجوع بالمال، لأنه اعتياض عن حق مجرد وهو لا يجوز، صرحوا به قاطبة، قال: ومن أفتى بخلافه فقد أفتى بخلاف المذهب، لبنائه على اعتبار العرف الخاص، وهو خلاف المذهب، والمسألة شهيرة، وقد وقع فيها للمتأخرين رسائل واتباع الجادة أولى، والله أعلم. وكتب على ذلك أيضا كتابة حسنة في أول كتاب الصلح من الخيرية فراجعها."
(کتاب الوقف، مطلب للمفروغ له الرجوع بمال الفراغ،ج:4، ص:383،ط:سعید)
وایضاً:
"وفي الأشباه: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة، وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة: المذهب عدم اعتبار العرف الخاص، لكن أفتى كثير باعتباره، وعليه فيفتى بجواز النزول عن الوظائف بمال."
(کتاب البیوع، مطلب لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة،ج:4، ص:518/ 519، ط:سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101620
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن