بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الاول 1448ھ 27 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

کالے تین کونوں والے جھنڈے کی نذرماننا اور اس کے متعلق فتوی سے انکارکرنے کا حکم


سوال

تین کونوں والا کالا علم جوکہ اس وقت شیعہ مذہب کی علامت بن چکا ہے،اور ناواقف اہلِ سنت عوام اہلِ تشیع کے بہکانے سے اس کی نذرومنت مان کر فورًا اپنے گھروں  پر لگالیتے ہیں،پھراس کے باوجود کہتے ہیں کہ ہم پکے سنی ہیں، یہ ہماری منت ہے،ہم نہیں اتارسکتے۔اب سوال یہ ہےکہ:

1۔قرآن وحدیث کےحوالے سے اہلِ سنت کے مذہب میں یہ علم لگاناجائز ہے یاناجائز اورحرام ہے؟

2۔حاجت روائی  اور مشکل کشائی کے لیے اس کی نذر اور منت مانناجائز ہے یا نہیں ؟اور کس حد تک ناجائز ہے؟

3۔اگرغلطی سے علم لگالیاتواب کیا کرے اس کو اتارے یا نہیں؟نیز کیا یہ واقعی غازی عباس رضی اللہ عنہ کا علم ہے،اس کی اصل کیا ہے؟

4۔وہ سنی جومذکورہ علم کے بارے میں سنی علماء کےفتوی کو نہ مانے،اور ضد پر قائم رہے،تو اسے پکا سنی سمجھاجائے یا مشکوک سنی ؟اس کا نکاح و جنازہ سنی عالم کرسکتاہے یا نہیں ؟جب کہ وہ سنی ہونےکا مدعی ہو۔

5۔جاہل عوام ڈرتے ہیں کہ اس کو اتاریں گے تو ہمارا نقصان ہوجائے گا، کیا اتارنے سے نقصان بھی ہوسکتا ہے، کیااس کے اتارنے کا کوئی خاص طریقہ ہے؟

جواب

1۔قرآن وحدیث میں مذکورہ علم کا لگاناثابت نہیں ہے،لہٰذایہ عمل قابلِ ترک ہے۔

2۔حاجت روائی  اور  مشکل کشائی کے لیےایسا عَلَم لگانے کی نذر ماننا جائز نہیں ۔

3۔اگرنادانستہ طورپر ایساعلم گھر پر لگالیا تو فوراًاتارلیناچاہیے۔ نیزروایتوں میں    غازی عباس کےلیےکربلا کے میدان میں علم  ہونا ثابت توہے، لیکن اس کی ہیئت کہیں سے ثابت نہیں ہے۔

4۔ اگر کوئی شخص اپنےآپ کو اہل سنت  کی طرف منسوب کرتاہے، اور اس کے باوجود مذکورہ علَم کے متعلق فتوی کو نہ مانےتووہ محض اس ایک مسئلے میں اختلاف کی وجہ سے اہلِ سنت سے خارج نہیں ہوگا،اسے حکمت وبصیرت سے مسئلہ سمجھایاجائے،تاکہ وہ صحیح راہ نمائی حاصل کرے، لہٰذاسنی عالم کے لیے اس کانکاح پڑھانا اور اس کےانتقال کے بعد نمازِ جنازہ پڑھاناجائز ہے۔

5۔مذکورہ علم کے اتارنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا، نقصان دینے والی ذات اللہ کی ہے،نیزاس کے اتارنے کا کوئی مخصوص طریقہ  نہیں ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تشبه بقوم فهو منهم»"

( كتاب اللباس،باب في لبس الشهرة،ج:4، ص:44، ط:المكتبة العصرية)

المعجم الكبير للطبرانی میں ہے:

"عن ابن عباس، قال: كنت رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا غلام، ألا أعلمك شيئا ينفعك الله به؟ قلت: بلى، يا رسول الله، فقال: احفظ الله يحفظك، ‌احفظ ‌الله ‌تجده ‌أمامك، تعرف إلى الله في الرخاء يعرفك في الشدة، إذا سألت فسل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله، فقد جف القلم بما هو كائن يوم القيامة، فلو جهد الخلائق أن ينفعوك بشيء لم يكتبه الله لك لم يقدروا على ذلك، ولو جهد الخلائق أن يضروك بشيء لم يكتبه الله عليك لم يقدروا على ذلك."

(باب :أحاديث عبد الله بن العباس ، ج:11، ص:223، ط:مكتبة ابن تيمية)

ترجمہ:"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا:اے بیٹے! کیا میں تمہیں ایسی بات نہ سکھاؤں جس سے اللہ تمہیں نفع دے؟میں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ!آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ کا خیال رکھو، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا،اللہ کا خیال رکھو، تم اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے، خوش حالی میں اللہ کو پہچانو، وہ تنگی میں تمہیں پہچانے گا،جب مانگو تو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو،(جان لو کہ)قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کے بارے میں قلم خشک ہو چکا ہے (یعنی سب کچھ لکھا جا چکا ہے)،اگر ساری مخلوق یہ کوشش کرے کہ تمہیں وہ فائدہ پہنچائے جو اللہ نے تمہارے لیے نہیں لکھاتو وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکتی ،اور اگر ساری مخلوق یہ کوشش کرے کہ تمہیں وہ نقصان پہنچائے جو اللہ نے تمہارے لیے نہیں لکھا،تو وہ ہرگز نہیں پہنچا سکتی۔"

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے

 وفي اليتيمة: سئل والدى عن قائل يقول : لا أقول بفتوى الأئمة ولا أعمل بفتواهم ما حاله؟ قال: يلزمه التوبة والاستغفار، وسئل عن هذا بعضهم فقال: إذا كا ذا رأى واجتهاد وعنى أنه يجتهد رأى نفسه دون رأيهم فهو معذور، وإن لم يكن يخشى عليه الكفر.

(كتاب في أحكام المرتدين، فصل فی العلم والعلماء والأبرار ،ج:7، ص:336، ط:مکتبة زکریا دیوبند)

تاريخ الطبری میں ہے:

"ولما اشتد على الحسين وأصحابه العطش دعا ‌العباس ‌بن ‌علي بن أبي طالب أخاه، فبعثه في ثلاثين فارسا وعشرين راجلا، وبعث معهم بعشرين قربة، فجاءوا حتى دنوا من الماء ليلا واستقدم أمامهم باللواء نافع بن هلال الجملي."

(مقتل الحسين رضوان الله عليه، ج:5، ص:412، ط:دار المعارف بمصر)

فتاوی مفتی محمود میں ہے:

(س)

کیا فرماتے ہیں علماء دین در ایں مسئلہ کہ غیر اللہ کی نذر جائز ہے یا کہ نہیں؟

(ج)
بسم الله الرحمن الرحیم ۔ واضح رہے کہ نذر کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ نذر بزرگوں کے نام کی ہو یعنی ان سے بزرگوں کا تقرب مقصود ہو۔ تو اس کا کرنا اور کھانا حرام اور سخت گناہ ہے، بلکہ تقرب الی غیر اللہ میں خوف کفر ہے، کیوں کہ یہ نذر غیر اللہ ہے، جس کی صریح  ممانعت احادیث صریحہ میں وارد ہے۔ سنن ابی داؤد میں حدیث ہے:لانذر إلا فيما ابتغي به وجه الله۔۔۔۔۔دوسری صورت یہ ہے کہ نذر اللہ تعالی کے نام کی اور اس کی رضا و تقریب کے لیے ہو صرف اتنا کیا جائے کہ ایصال ثواب کسی بزرگ کی روح کو کر دیا جائے تو یہ جائز ہے۔ كما في الشامية ١٣٩. ٢ قوله: مالم يقصدوا الخ.  أى بأن تكون صيغة النذر لله تعالى للتقرب إليه ويكون ذكر الشيخ مرادا به فقراءه كما مر ولا يخفى أن له الصرف إلى غيرهم كما مر سابقا۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔

(کتاب العقائد ،غیر اللہ کی نذر ماننا، ج:1،ص:203 ،204، ط:جمعیت پبلیکیشنز)

کفایت المفتی میں ہے:

میں ایسے شرعی فتوے کو نہیں مانتا کہنے والا کا حکم ؟

(سوال) :ایک فتوی قرآن مجید اور حدیث رسول اللہ ﷺ کے مطابق علماء دین نے دیا جس کو ایک مسلمان کہتا ہے کہ میں ایسے شرعی فتوے کو نہیں مانتا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ شخص اسلام میں رہایا نہیں اگر اسلامی حکومت ہو تو یہ شخص واجب القتل ہے یا نہیں ؟ اور اگر کفار کی حکومت ہے پھر ایسے شخص کے واسطے کیا حکم ہے؟

(جواب ) از مفتی مظہر اللہ صاحب: اگر فتوی صحیح ہے اور یہ شخص اس اعتبار سے کہ وہ شرعی حکم ہے اس کے ماننے سے انکار کرتا ہے تو بے شک یہ کفر ہے  اور اگر کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو تو یہ بھی صحیح ہے کہ ایسا شخص واجب القتل ہے  جس کا حکم ہندوستان میں یہ ہے کہ کسی مسلمان کو اس سے کسی قسم کا تعلق رکھنا بھی جائز نہیں۔ لیکن چونکہ یہ حکم انتهاء درجہ کی تحقیق کے بعد لگایا جاسکتا ہے۔ اس لئے جب تک علماء کے سامنے اس شخص کو اور اس واقعہ کی نوعیت کو پوری  طرح سے پیش کر کے حکم حاصل نہ کیا جائے مسلمانوں کو اس سے انقطاع جائز نہیں۔ فقط واللہ تعالی اعلم۔ محمد مظہر اللہ غفر لہ امام مسجد جامع تجوری دہلی۔

(جواب (۲۹) (از حضرت مفتی اعظم) کسی فتوے کے ماننے سے انکار کرنا دو طرح پر ہے: اول یہ کہ منکر اس فتویٰ کو شرعی صحیح فتویٰ جانتے ہوئے ماننے سے انکار کر دے تو یہ تو حقیقتہ شریعت کا انکار ہے اور یہ کفر ہے۔  دوم یہ کہ منکر اس فتوے کو صحیح شرعی فتوی نہ سمجھے اور اس بناء پر ماننے سے انکار کر دے تو یہ شریعت کا انکار نہیں ہو ا،بلکہ اس شخصی فتوے کا انکار ہوا۔ پھر اگر وہ فتوی کسی فرض قطعی یا ضروریات دین میں سے کسی ضروری چیز کے متعلق تھا تو اس کا انکار مستلزم انکار شریعت ہو جائے گا اور یہ بھی منجر بکفر ہوگا : اور اگر وہ فتوی کسی قطعی اور ضروری چیز کے متعلق نہ تھا،بلکہ کسی مجتہدفیہ امر کے متعلق تھا تو اس کا انکار کفر نہیں۔  محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ویلی۔

(کتاب الایمان والکفر ،تیسرا باب موجبات کفر، ج: 1، ص:51، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں